کمپنی چلے گی یا نہیں چلے گی ؟

لاہور (ویب ڈیسک) نامور کالم نگار محمد اظہار الحق اپنے ایک کالم میں لکھتے ہیں ۔۔۔۔۔۔شہرہ آفاق شعر تالبان پر صادق آتا ہے ؎کروں گا کیا جو محبت میں ہو گیا ناکام۔۔۔مجھے تو اور کوئی کام بھی نہیں آتا۔۔۔
تالبان ناکام نہیں ہوئے۔ ہتھیارکی مدد سے اللہ کی نصرت کے ساتھ ظفریاب ہو ئے

مگر ساتھ ہی تلخ حقیقت یہ ہے کہ انہیں ہتھیار چلانے کے علاوہ کوئی اور کام بھی نہیں آتا۔ کھیت میں کارخانے میں بازار میں دفتر میں انہوں نے کوئی کام کیا نہ کوئی اور پیشہ یا مصروفیت۔ یہ سوال بھی اٹھتا ہے کہ کیا لڑائی میں حصہ لینے والے تالبان کو ایک باقاعدہ پیشہ ور فوج میں تبدیل کیا جائے گا ؟ اور پھر انہیں سول معاملات سے الگ رکھا جا ئے گا؟ یا کاروبارِ مملکت وہی چلائیں گے ؟ اگر وہی چلائیں گے تو پھر ان کے پاس تو ہتھیار ہی ہے۔ اگر پاکستان جیسے دوست ملک کی قومی ایئر لائن کے منیجر کو وہ ہتھیار کی نوک پر بٹھا سکتے ہیں تو اس کا مطلب ہے کہ کسی کے ساتھ بھی ایسا ہو سکتا ہے۔ اس سے بھی زیادہ تشویشناک مطلب یہ ہے کہ ریاستی معاملات ہتھیار کے ساتھ چلائے جائیں گے۔متناقض بات (paradox) یہ ہے کہ ایک طرف وہ ہتھیار کو کندھے سے اتارنے کے لیے تیار نہیں‘ دوسری طرف وہ معاشی لحاظ سے دوسروں کے محتاج ہیں۔ جس پاکستان کے سینئر افسر کو وہ ہتھیار کی نوک پر بٹھا رہے ہیں یہ وہی پاکستان ہے جو اُن کے ملک کے لیے لائف لائن ہے۔ چاروں طرف خشکی سے محصور افغانستان کا انحصار پاکستان کی بندرگاہوں پر ہے۔ پیداوار وہاں کی پوست ہے یا پھل۔ صنعت نہ ہونے کے برابر ہے۔ گندم ساری کی ساری پاکستان سے جاتی ہے۔ یہ بات بچے بچے کو معلوم ہے کہ سوئی سے لے کر مشین تک اور کپڑے سے کر چینی تک سب کچھ یہیں سے جاتا ہے۔ مریض بھی یہیں آتے ہیں اور طلبہ بھی۔

کوئی تالبان کو سمجھائے کہ اب آپ کو ملک کا نظم و نسق چلانا ہے۔ کارخانے لگانے ہیں۔زراعت کو مشینی ( میکانائز) کرنا ہے۔ عوام کے لیے خوراک پیدا کرنی ہے۔ دنیا بھر کے سفیروں سے معاملات طے کرنے ہیں جس کا واحد طریقہ گفت و شنید ہے۔ کالج‘ سکول‘ یونیورسٹیاں کھولنی ہیں۔ ایئر لائن چلانی ہے۔ عدالتیں قائم کرنی ہیں۔ پرنٹ اور الیکٹرانک میڈیا کے ساتھ معاملات چلانے ہیں۔یہ اور اس جیسے سینکڑوں کام کرنے ہیں۔ ان میں سے کوئی کام بھی ہتھیار کی نوک پر نہیں ہو گا۔ اب علم کی ضرورت ہے اور حلم کی ! اب ہتھیار کو غلاف میں ڈال دیں۔ ڈھنگ کی افرادی قوت اپنے پاس نہیں تو دوسرے ملکوں سے لیں۔ سرمایہ کاروں کی حوصلہ افزائی کریں۔ صنعت کاروں کو یقین دلائیں کہ وہ اور ان کی فیکٹریاں محفوظ رہیں گی۔پھلوں کو ڈبوں میں بند اور محفوظ کرنے کے لیے تھائی لینڈ‘ فلپائن اور ملائیشیا سے ماہرین بلائیں۔ معدنیات دریافت کرنے کے لیے کمپنیوں کو منگوائیں اور ان سے ماہرانہ اور شاطرانہ انداز سے شرائط طے کریں۔ یہ کام اعداد و شمار سے ہو گا اور مذاکرات سے! ہتھیار کا اس میں کوئی عمل دخل نہیں !جس تسلسل کے ساتھ افغانستان کے شہروں میں بدامنی کے واقعات ہو رہے ہیں اور اموات کی جو تعداد رپورٹ ہو رہی ہے اس کے پیش نظر مستقبل مخدوش دکھائی دے رہا ہے۔ دو دن پہلے تالبان کے ترجمان نے امریکی میڈیا کو بتایا ہے کہ چین افغانستان میں اربوں ڈالر کی سرمایہ کاری کرنے کے لیے تیار ہے۔مگر کیا افغانستان کی اندرونی صورتِ حال چین کو ایسا کرنے دے گی ؟

سرمایہ کاری کے ساتھ چین کی افرادی قوت بھی آئے گی۔ کیا اس افرادی قوت کی حفاظت کی ضمانت دی جا سکے گی؟ پاکستان نے خود اس ضمن میں بہت ناخوشگوار واقعات برداشت کیے ہیں جبکہ پاکستان میں ادارے منظم ہیں اور ریاست مضبوط! اس کے مقابلے میں افغانستان انتہائی عدم استحکام کا شکار ہے۔ لسانی‘ مسلکی اور نسلی مسائل کی گرد افغانستان پر ایک سیاہ چادر کی صورت تنی ہوئی ہے۔ خدا کرے کہ چین کی سرمایہ کاری کا ارداہ پایۂ تکمیل تک پہنچے۔تالبان حکومت کی کامیابی کے لیے صرف دو عوامل درکار ہیں اور یہ دو عوامل ایسے ہیں جن کے بغیر کامیابی کا کوئی امکان نہیں؛ ایک مذاکرات، دوسرا برداشت۔ دونوں عوامل بیرونی اور اندرونی دونوں حوالوں سے ناگزیر ہیں۔ خاص طور پر اندرونی ہم آہنگی کے لیے مذاکرات اور برداشت لازم ہیں۔ اس وقت جن ازبکوں اور تاجکوں کو تالبان حکومت نے اپنایا ہوا ہے یہ وہ ہیں جو نظریاتی طور پر ان کے ساتھ ہیں‘ برداشت کا تقاضا یہ ہے کہ مخالف نظریات رکھنے والوں کو بھی ساتھ ملایا جائے۔ مسلک اور زبان سے قطع نظر سب کو ساتھ لے کر چلیں گے تو حکومت بچے گی اور کامیاب ہو گی۔ جو شواہد نظر آرہے ہیں وہ کچھ زیادہ حوصلہ افزا نہیں۔ خواتین کی ملازمتوں اور تعلیم کا سلسلہ وعدۂ فردا پر رُکا ہوا ہے۔ اس ضمن میں اندرونی اختلافات شدید ہیں۔ ایک گروہ اس سلسلے میں متوازن رویہ رکھنا چاہتا ہے‘ دوسرا غیر لچکدار! معاملات کی نوعیت کا اصل احساس اُن تالبان رہنماؤں کو ہے جو دوحہ مذاکرات میں شامل تھے۔ دوسری طرف تالبان کے وہ رہنما ہیں جو لڑائی کے میدان میں تھے۔ دونوں کا اپنا اپنا استحقاق ہے۔ اور دونوں کی اپروچ میں تفاوت بہت زیادہ ہے۔ کمانڈروں کو چاہیے کہ وہ ایک پروفیشنل فوج تیار کرنے میں لگ جائیں اور پالیسی معاملات مکمل طور پر ان رہنماؤں کے حوالے کر دیں جو مذاکرات کی چھلنی سے گزرے ہیں اور جنہیں احساس ہے کہ دنیا کی کیا توقعات ہیں اور آگے کیسے بڑھنا ہے ؟

Comments are closed.