کن آپشنز پر غور ہو رہا ہے

لاہور (ویب ڈیسک) نامور کالم نگار محمد اکرم چوہدری اپنے ایک کالم میں لکھتے ہیں ۔۔۔۔۔۔پاکستان میں پی ٹی آئی کے تین سالہ دور میں مہنگائی سب سے بڑا مسئلہ بن چکا ہے۔ عالمی وبا نے معمول کی زندگی پر گہرے اثرات چھوڑے ہیں۔ معمولات متاثر ہونے کی وجہ سے آبادی کے مختلف طبقات کی آمدن کم ہوئی ہے۔

ایک طرف وبا کی وجہ سے آمدنی میں کمی ہوئی تو دوسری طرف روپے کی قدر میں کمی اور ڈالر کی قیمت میں اضافے نے بھی پاکستانیوں کی فی کس آمدنی کو شدید متاثر کیا ہے۔ جہاں مہنگائی پر بیرونی معاملات اثر انداز ہوئے وہیں مقامی سطح پر پرائس کنٹرول کے کمزور نظام کی وجہ سے اشیاء خوردونوش کی قیمتوں میں مسلسل اضافہ کمزور انتظامی معاملات کی وجہ بھی قرار دیا جاتا ہے گوکہ حکومت اس سے انکار کرتی ہے لیکن حقیقت یہی ہے کہ پرائس کنٹرول کمیٹیاں بہتر کردار ادا کرنے میں کامیاب نہیں ہو سکیں۔ دسمبر دو ہزار بیس سے اب تک پام آئل کی قیمت ڈالر میں اسی فیصد تک بڑھ چکی ہے۔ اگر کسی چیز کی قیمت میں پچیس تیس فیصد اضافہ ہوا ہے تو اسے ساٹھ سے ستر فیصد سمجھا جائے کیونکہ آمدن میں بھی کمی واقع ہوئی ہے، تنخواہوں میں کمی ہوئی ہے یا پھر روزگار ختم ہوا ہے دونوں صورتوں میں بوجھ عام آدمی پر ہی آیا ہے۔ آٹا، گھی اور چینی کی قیمتوں میں مسلسل اضافہ اور غیر موثر پرائس کنٹرول کمیٹیاں حکومتی ناکامی کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ مہنگائی روکنے کے لیے حکومتی اقدامات نہ ہونے کے برابر ہیں۔ ان حالات میں کوئی بھی سیاسی و انتظامی ٹیم کوئی ہدف حاصل نہیں کر سکتی کیونکہ جو بھی عوام کے پاس جائے گا اس کے پاس اپنے دفاع ہے لیے کچھ نہیں ہو گا کیونکہ عوام کے پاس جانے والا کوئی بھی سیاست دان اتنی مہنگائی پر کسی کو دلیل سے قائل نہیں کر اکتا جو کہ حقیقت ہے۔ حکومتی فیصلے ایسے ہیں کہ جن سے عام آدمی کو کبھی کوئی فائدہ نہیں ہوا اب بھی حکومت یہ سوچ رہی ہے کہ عام آدمی کو ریلیف کیسے دیا جائے اس کے لیے مختلف آپشنز پر غور ہو رہا ہے کیا یہ بہتر نہیں کہ آٹا، چینی اور گھی کی قیمتوں میں کمی کے لیے ان اشیا پرعائدٹیکسختمکردیےجائیں۔حکومتکیسمتکادرستہوناضروریہے۔حکومتنےگاڑیوںپرعائدٹیکسوںمیںکمیکردیہےلیکن اشیاء خوردونوش کے حوالے سے ایسا کچھ نہیں کیا گیا۔ کیا ایسی چیزیں کسی بھی سیاسی و انتظامی ٹیم کو دی جا سکتی ہیں، یا ایسے اہداف ملک بھر میں سیاسی و انتظامی ٹیموں کو سونپے جا سکتے ہیں۔ حکومتوں کا سب سے بڑا ہدف شہریوں کی بہتر زندگی ہونا چاہیے۔ بدقسمتی ہے کہ حکومت اس اہم ترین انسانی مسئلے کو مسلسل نظر انداز کر رہی ہے اور کچھ نہیں تو کم از کم انسانی ہمدردی کی بنیادوں پر ہی کچھ کر لیں۔ ہم ہر وقت افغانستان کی بات کرتے ہیں اپنے شہریوں کے لیے آسانی اور سہولت پیدا کرنے کے لیے بھی کچھ کرنا ہے یا انہیں بے یار و مددگار چھوڑنا ہے۔

Comments are closed.