کن حلقوں میں تحریک انصاف اور (ن)لیگ میں کانٹے کا مقابلہ متوقع ہے ؟

لاہور (ویب ڈیسک) چاروں صوبائی اور قومی اسمبلیوں کی خالی 9نشستوں پر ضمنی انتخابات میں ملک کی بڑی سیاسی جماعتوں نے انتخابی مہم تیز کر دی ہے۔ ان ضمنی انتخابات میں سب سے زوردار انتخابی مقابلے پنجاب اور سندھ میں ہوں گے،پنجاب، سندھ اور کے پی کے کے 5حلقوں میں امیدواروں کی

ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزیوں کی شکایات۔ الیکشن کمیشن کوارسال کردی گئی ہیں، پنجاب میں حکمران جماعت پاکستان تحریک انصاف اور مسلم لیگ (ن)، سندھ میں پی ٹی آئی اور پیپلز پارٹی کے امیدواروں کے درمیان کانٹے دارمقابلے ہوں گے۔ دونوں حکمران جماعتوں نے اپنے امیدواروں کی انتخابی حلقوں میں ترقیاتی منصوبوں سمیت الیکشن کمیشن کے جاری کردہ ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزیاں شروع کر دی ہیں۔ ڈسٹرکٹ مانیٹرنگ آفیسرز نے پنجاب سندھ اور کے پی کے کے 5حلقوں میں امیدواروں کی جانب سے ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزیوں کی 9شکایات الیکشن کمیشن کو بھجوائی ہیں جن کی چھان بین کے بعد چیف الیکشن کمشنر سکندر سلطان راجہ نے سندھ کے اضلاع عمرکوٹ سانگھڑ میں پیپلز پارٹی کے امیدواروں کے انتخابی حلقوں میں سرکاری مشینری کے بے جا استعمال اور جی ڈی اے کے امیدواروں کے بینرز فلیکسز اتارنے اور ترقیاتی سکیموں کے اعلانات کی شکایات کی بھی چھان بین کا بھی حکم دیدیاہے۔ پی ایس 52عمر کوٹ میں انتخابی مہم آج رات ختم ہو جائے گی لیکن پولنگ سے قبل سرکاری امیدواروں کے حامیوں کے انتخابی حلقے کے متعدد مقامات پر اپوزیشن امیدوار کے حامیوں کو تنگ کرنے ،پولیس اور انتظامیہ کے بااثر افراد کے خلاف کارروائی نہ کرنے کی شکایات پر بھی الیکشن کمیشن غور کر رہا ہے، اس حلقے میں جی ڈی اے کے امیدوار سابق وزیراعلیٰ سندھ ارباب غلام رحیم پیپلز پارٹی کے امیدوار کے مدمقابل ہیں۔کے پی کے کے صوبائی حلقہ 63سے بھی اے این پی کے امیدوار نے پی ٹی آئی کے امیدوار کے خلاف ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی کی شکایت کا الیکشن کمیشن جائزہ لے رہا ہے۔

Sharing is caring!

Comments are closed.