کن پاکستانی سیاستدانوں اور وزراء کی آف شور کمپنیاں منظر عام پر آگئیں ؟

لاہور (ویب ڈیسک) پنڈورا پیپرز میں آف شور کمپنیاں رکھنے والے 700 سے زائد پاکستانیوں کے نام سامنے آگئے۔پنڈورا پیپرز کی آف شور کمپنیوں کی لسٹ میں وزیر خزانہ شوکت ترین، وفاقی وزیر مونس الہٰی، سینیٹر فیصل واوڈا اور سینئر وزیر پنجاب عبدالعلیم خان کے نام بھی موجود ہیں۔پنڈورا پیپرز کی فہرست میں ن لیگ کے

سابق وزیر خزانہ اسحاق ڈار کے بیٹے کا نام بھی آگیا ہے جبکہ پی پی کے شرجیل میمن بھی اس لسٹ کا حصہ ہیں۔پنڈورا پیپرز میں وفاقی وزیر صنعت خسرو بختار کے اہل خانہ کے نام بھی آف شور کمپنی نکل آئی ہے۔اس لسٹ میں وزیراعظم کے سابق معاون خصوصی وقار مسعود کے بیٹے اور ایگزیکٹ کمپنی کے مالک شعیب شیخ کے نام بھی آف شور کمپنی نکل آئی ہے۔پنڈورا پیپرز کی فہرست میں کچھ ریٹائرڈ فوجی افسران، کچھ بینکار، کچھ کاروباری شخصیات اور کچھ میڈیا مالکان کے نام بھی شامل ہیں۔دوسری جانب سینئر صحافی عمر چیمہ کا کہنا ہے کہ جیو گروپ کے مالک میر شکیل الرحمان کی بھی آف شور کمپنی تھی۔جیو نیوز سے گفتگو کرتے ہوئے عمر چیمہ نے کہا کہ جیو گروپ کے مالک میر شکیل الرحمان کی بھی آف شور کمپنی ہے۔ اس سلسلے میں ہم نے ان سے رابطہ کیا اور کہا کہ اگر ہم آپ کا نام نہیں دیں گے تو اخلاقی طور پر ہمارے لیے یہ مناسب نہیں ہے کہ باقی لوگوں کے بارے میں بات کریں۔عمر چیمہ کے مطابق میر شکیل الرحمان نے انہیں بتایا کہ ان کی ایک آف شور کمپنی تھی جو انہوں نے ڈکلیئر کی ہوئی تھی اور وہ 2018 میں بند ہوگئی تھی اس لیے انہیں وضاحت دینے کی ضرورت نہیں ہے۔ لیکن اس کے باوجود انہوں نے اس بات سے اتفاق کیا کہ ان کا نام بھی دیا جانا چاہیے۔خیال رہے کہ پنڈورا لیکس کو دنیا کے مشہور صحافیوں کی ایک ٹیم نے عرصے کی تحقیق کے بعد بے نقاب کیا ہے ، ان صحافیوں میں پاکستان کے صف اول کے صحافی عمر چیمہ بھی شامل ہیں ۔

Comments are closed.