کن چیزوں کی قیمتیں کم ہو جائیں گی ؟

لاہور (ویب ڈیسک) وزیر اعظم عمران خان نے 120 ارب کے ریلیف پیکیج کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ حکومت پاکستان کی تاریخ کا سب بڑا ’فلاحی پروگرام‘ ہوگا جو ملک کے فلاحی ریاست بننے کی جانب ایک قدم ہے۔انھوں نے کہا کہ وفاقی اور صوبائی حکومتیں مل کر 120 ارب روپے کا ریلیف پیکج دے رہی ہیں،

جس میں آٹے، دالوں اور گھی پر 30 فیصد سبسڈی دی جائے گی۔ عمران خان نے کہا کہ یہ سبسڈی آئندہ چھ ماہ تک ہوگی۔بدھ کی شام قوم سے خطاب میں وزیراعظم عمران خان نے خبردار کیا کہ ملک میں پیٹرول کی قیمتیں مزید بڑھانی پڑیں گی۔پاکستان کے وزیراعظم عمران نے کہا ہے کہ تین سے چار ماہ کے دوران تیل کی قیمتوں میں 100 فیصد اضافہ ہوا لیکن پاکستان میں تیل کی قیمت میں 33 فیصد اضافہ ہوا۔انھوں نے کہا کہ وفاقی اور صوبائی حکومتیں مل کر 120 ارب روپے کا ریلیف پیکج دے رہی ہے، جس میں آٹے، دالوں اور گھی پر 30 فیصد سبسڈی دی جائے گی۔ عمران خان نے کہا کہ یہ سبسڈی آئندہ چھ ماہ تک ہو گی۔انھوں نے کہا کہ ’انڈیا میں تیل کی قیمت 250 روپے، بنگلہ دیش میں 200 روپے اور پاکستان میں 138 روپے ہے۔ ابھی سے بتا رہا ہوں کہ ملک میں پیٹرول کی قیمتیں بڑھانی پڑیں گی۔‘عمران خان نے مزید کہا کہ ’امریکہ میں گیس کی قیمت میں 116 فیصد اور یورپ میں 300 فیصد اضافہ ہوا‘ لیکن پاکستان میں گیس کی قیمت میں اضافہ نہیں ہو رہا۔انھوں نے مہنگائی کے حوالے سے میڈیا کی کوریج پر بات کرتے ہوئے کہا کہ میڈیا کا کام تنقید کرنا ہے لیکن اس حوالے سے متوازن رپورٹنگ کی ضرورت ہے۔عمران خان نے کہا کہ ’ملک میں مہنگائی کا مسئلہ ہے اور واقعی مسئلہ ہے۔ میڈیا کا کام تنقید کرنا ہے لیکن میڈیا تھوڑا بیلنس کرے کہ کیا مہنگائی ہماری وجہ سے بڑھی یا دنیا بھر میں مہنگائی ہوئی ہے۔

‘وزیر اعظم عمران خان نے اپنے خطاب میں سود کے بغیر قرضوں کے پروگرام کا اعلان بھی کیا۔انھوں نے کہا کہ ’ اس پروگرام کے تحت 40 لاکھ خاندان سود کے بغیر قرضوں سے گھر بنا سکیں گے، کسان اور اپنا کاروبارکرنے والوں کو پانچ لاکھ روپے کا قرض ملے گا۔عمران خان نے کہا کہ ’پاکستان کی تاریخ کا سب سے بڑا سکالرشپ پروگرام بھی دیا جا رہا ہے جس میں 60 لاکھ سکالر شپس پر47 ارب روپے خرچ کیے جائیں گے۔‘انھوں نے کہا کہ اس کے علاوہ احساس کے 260 ارب روپے کے پروگرام بھی ملک میں فعال ہیں۔عمران خان نے احساس پروگرام کی ٹیم کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ ’تین برس میں تمام لوگوں کا ڈیٹا جمع کیا گیا کیونکہ ڈیٹا کے بغیر سبسڈی دینا آسان کام نہ تھا۔‘عمران خان نے اپنے خطاب میں کہا کہ ’جب ہمیں پاکستان ملا تب پاکستان کا خسارہ سب سے زیادہ تھا، قرضے بھی سب سے زیادہ تھے اور سود بھی ان قرضوں پر سب سے زیادہ دینا پڑا۔‘انھوں نے کہا کہ ’ہمارے پاس اتنے ڈالر نہیں تھے جس کی وجہ سے ہمیں آئی ایم ایف کے پاس جانا پڑا۔‘وزیر اعظم عمران خان نے اپنے خطاب میں چین، سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کا شکریہ ادا کرتے ہوئے یہ بھی کہا کہ ان ممالک نے پاکستان کی مدد کی اور ان کے تعاون کی وجہ سے پاکستان دیوالیہ ہونے سے بچا ورنہ بہت زیادہ مہنگائی ہوتی۔

Comments are closed.