کن 2 اتحادی جماعتوں نے حکومتی موقف کی کھل کر مخالفت کی ؟

لاہور (ویب ڈیسک) نامور کالم نگار چوہدری محمد اکرم اپنے ایک کالم میں لکھتے ہیں ۔۔۔۔۔۔۔خبر کچھ یوں ہے کہ انتخابی اصلاحات بل پر حکومت اور اتحادیوں میں اتفاق رائے نہ ہونے پر پر پارلیمنٹ کا مشترکہ اجلاس ملتوی کر دیا گیا ہے۔ صرف اتحادی جماعتیں ہی نہیں حکمران جماعت میں بھی الیکٹرانک ووٹنگ مشین پر اختلاف پایا جاتا ہے۔

اب حکومت کے کام کرنے اور اہم ترین قانون سازی پر آگے بڑھنے کا اندازہ اس بات سے لگا لیجیے کہ اپوزیشن تو مخالفت کر ہی رہی تھی۔ حکومت کی اتحادی جماعتوں بھی اس مجوزہ نظام کے حق میں نہیں ہیں، اتحادی جماعتوں کو ایک طرف رکھیں خود حکومتی صفوں میں اتحاد نہیں ہے۔ ان حالات میں ایسی قانون سازی کی کیا اہمیت رہ جائے گی، آپ زبردستی تو کچھ نافذ نہیں کر سکتے۔ لوگوں کے پاس عدالت کا راستہ بھی موجود ہوتا ہے۔ نجانے کیوں حکومت نے یہ تماشا لگا رکھا ہے۔ اگر زبانوں کا استعمال کم کر کے دماغوں کا استعمال بڑھایا جائے، بولنے کے بجائے سننے کو ترجیح دی جائے تو یقینی طور پر معاملات بہتر انداز میں آگے بڑھ سکتے ہیں لیکن حکومت نے تہیہ کر رکھا ہے کہ انہوں نے کوئی سیدھا کام بھی سیدھے طریقے سے نہیں کرنا بلکہ ہر وقت تنازعات میں الجھے رہنا ہے۔ کیا ملک و قوم کے وقت اور سرمائے کا ضیاع جرم نہیں ہے۔ جتنا وقت حکومت نے الیکٹرانک ووٹنگ مشینوں کے نظام پر بیان بازی کرتے ہوئے لگایا ہے اس کا ایک حصہ بھی لوگوں کو محبت کے ساتھ قائل کرنے میں لگایا ہوتا تو یقیناً نتائج مختلف ہوتے لیکن یہاں سب عقل کل ہیں۔ کوئی سننے کو تیار ہی نہیں ہے۔بتایا جاتا ہے کہ ایم کیو ایم اور مسلم لیگ ق نے الیکٹرانک ووٹنگ مشین بل کی کھل کر مخالفت کی پے۔ اب یہ دونوں بڑی اتحادی جماعتیں ہیں کیا پارلیمنٹ کا مشترکہ اجلاس بلانے سے پہلے حکومت نے ان دونوں جماعتوں کو بھی اعتماد میں لیا۔

اتحادیوں کا یہ پرانا شکوہ ہے کہ حکومت مشورہ نہیں کرتی، اعتماد میں نہیں لیتی حکومت چوتھے سال میں ہے درجنوں مرتبہ یہ شکایت کی جا چکی ہے لیکن حکومت نے اپنی روش نہیں بدلی۔ اگر چوتھے سال میں بھی یہی صورت حال رہے تو حکومت کو تیار رہنا چاہیے کہ وقت ہمیشہ ایک سا نہیں رہتا، سیاست میں ایسا بھی ہوتا ہے کہ اتحادی بھی منہ موڑ لیتے ہیں، اتحادیوں کا موڈ بدل گیا تو کسی بھی وقت تبدیلی آ سکتی ہے۔ بہرحال اس اجلاس میں تاخیر ایک مرتبہ پھر حکومتی ہٹ دھرمی کو ثابت کرتی ہے جو حکومت اپنے اتحادیوں کے ساتھ مل کر نہیں چل سکتی وہ مہنگائی سمیت دیگر مسائل کیسے حل کر سکتی ہے۔وزیر اطلاعات فواد چوہدری کہتے ہیں کہ انتخابی اصلاحات ملک کے مستقبل کا معاملہ ہے۔ ہم نیک نیتی سے کوشش کر رہے ہیں کہ ان معاملات پر اتفاق رائے پیدا ہو۔ اتفاق رائے کے حوالے سے قومی اسمبلی کے سپیکر اسد قیصر کو اپوزیشن سے ایک بار پھر رابطہ کرنے کے لیے کہا گیا ہے تاکہ ایک متفقہ انتخابی اصلاحات کا بل لایا جا سکے۔ فواد میرے دوست ہیں لیکن دوست کیا اپوزیشن کو قائل کرنا مشکل ہے یا پھر اتحادیوں کو منانا مشکل ہے۔ جب حکومت ہر وقت دوسروں کو چور چور کہتی رہے گی تو کون آپ سے بات کرے گا۔ نہ اتحادی اس نظام سے خوش ہیں نہ اپوزیشن اسے تسلیم کرتی ہے۔ حکومت اتفاق رائے کس کے ساتھ کرنا چاہتی ہے۔ یوں محسوس ہوتا ہے کہ صرف پاکستان تحریکِ انصاف کے چند لوگ اس نظام کو نافذ کرنا چاہتے ہیں لیکن کیا اکثریتی اراکین کو نظر انداز کر کے کوئی بھی قانون سازی کی جا سکتی ہے۔ وہ بھی ایسی قانون سازی جس کے ساتھ سب کے مفادات جڑے ہوں۔

Comments are closed.