کوئی مانے نہ مانے آصف زرداری نے پچھلے چند دنوں میں پیپلز پارٹی اور بلاول بھٹو کی سیاست کو ناقابل تلافی نقصان پہنچایا ہے ،

لاہور (ویب ڈیسک) نامور کالم نگار سلیم صافی اپنے ایک کالم میں لکھتے ہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔یوسف رضاگیلانی کے سینیٹر بننے کے بعد پی ڈی ایم کے اجلاس میں فیصلہ ہوا کہ چیئرمین پیپلز پارٹی، ڈپٹی چیئرمین جے یو آئی اور سینیٹ میں لیڈرآف دی اپوزیشن نون لیگ کا ہوگا ۔ اس کا اعلان اجلاس کے بعد

پی ڈی ایم کے سیکرٹری اطلاعات میاں افتخار حسین نے سب جماعتوں کے رہنمائوں کی موجودگی میں کیا لیکن افسوس کہ سینیٹ انتخابات میں مقابلہ صادق سنجرانی سے ہو گیا جو ریاست کو زرداری صاحب سے زیادہ عزیز ہیں چنانچہ یہاں ان کا جادو نہ چل سکا ۔جب چیئرمین شپ ہاتھ نہ آئی تو زرداری صاحب نے بچوں کی طرح ضد شروع کردی کہ اب اپوزیشن لیڈر کا عہدہ نون لیگ کی بجائے ان کی پارٹی کو دیا جائے ۔ پی ڈی ایم کے دیگر رہنمائوں نے ان کو بہت سمجھایا کہ یہ وعدہ خلافی ہے لیکن وہ مصر رہے ۔ پی ڈی ایم میں شامل دیگر نو جماعتیں اس حوالے سے مسلم لیگ(ن) کی ہمنوا رہیں لیکن پیپلز پارٹی پھر بھی مصر رہی ۔یہ اصرار ایسے عالم میں ہوتا رہا کہ پی ڈی ایم کے اجلاس میں زرداری صاحب نہ صرف استعفوں کے وعدے سے پیچھے ہٹ گئے بلکہ ساتھ ہی میاں نواز شریف کو طعنے بھی دیے ۔یہاں بھی پیپلز پارٹی کی خاطر مولانا اور نواز شریف نے یہ درمیانی راستہ نکالاکہ بے شک سندھ اسمبلی نہ توڑی جائے لیکن پیپلز پارٹی قومی اسمبلی سے استعفوں پر بھی تیار نہیں تھی ۔اصولی طور پر پی ڈی ایم کی قیادت اس اجلاس میں پیپلز پارٹی کو الوداع کہہ سکتی تھی لیکن اسے فیصلہ کرنے کے لئے اپنے سی ای سی سے مشاورت کا موقع دیا۔ یہاں بھی زرداری صاحب نے فوری اجلاس بلانے کے بجائے چاراپریل کی تاریخ رکھ دی جس دن ہر سال ان کا اجلاس ہوا کرتا ہے ۔ابھی پی ڈی ایم کی قیادت کو چار اپریل کے سی ای سی کے اجلاس کا انتظار تھا کہ اپوزیشن لیڈر کے لئے زرداری صاحب نے وہی حربے آزمانے شروع کئے جو مخالف جماعتوں کے ساتھ انتخابات کے دنوں میں استعمال کئے جاتے ہیں ۔انہوں نے مسلم لیگ (ن) کے منحرف سینیٹر دلاور خان اور پی ٹی آئی اور باپ پارٹی کے فارورڈ بلاک کے سینیٹرز کو ساتھ ملایا اور اے این پی کو بھی توڑ دیا ( واضح رہے کہ بلوچستان میں اے این پی باپ پارٹی کی حکومت کا حصہ ہے اور اس کا سینیٹر بھی باپ پارٹی کے تعاون سے بنا ہے) ۔ مطلوبہ تعداد کے دستخط لے کر وہ گیلانی صاحب اس صادق سنجرانی کے پاس درخواست لے کر گئے جن کی چیئرمین شپ کو انہوں نے عدالت میں چیلنج کیا تھا۔افسوس یہ ہے کہ اس سارے عمل میں زرداری صاحب نے بلاول بھٹو کی لانچنگ کو بھی ناقابلِ تلافی نقصان پہنچایا ۔سب سے زیادہ نقصان خود پیپلز پارٹی کو پہنچ رہا ہے کیونکہ وہ ایک قومی جماعت سے سندھ کی جماعت بنتی جارہی ہے اور ہر ذہن میں یہ بات بیٹھ رہی ہے کہ سندھ حکومت زرداری کی کمزوری اور نیب کیسز مجبوری ہیں جن کے گرد اب پیپلز پارٹی کی سیاست گھوم رہی ہے

Sharing is caring!

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *