کوئی میرے ایک سوال کا جواب دے گا ؟

لاہور (ویب ڈیسک) نامور صحافی عبدالرشید شکور بی بی سی کے لیے اپنی ایک رپورٹ میں لکھتے ہیں ۔۔۔۔۔۔پاکستان ٹیلی وژن سپورٹس کے ڈائریکٹر اور اینکر پرسن ڈاکٹر نعمان نیاز نے سابق فاسٹ بولر شعیب اختر کے ساتھ آن ایئر پیش آنے والے واقعے پر معافی مانگ لی ہے تاہم ان کا

یہ بھی کہنا ہے کہ اس پورے معاملے میں نہ صرف ان کی کردار کشی کی گئی بلکہ سوشل میڈیا پر ان کے والد کے بارے میں بھی نامناسب باتیں کہی گئیں۔ڈاکٹر نعمان نیاز نے کہا کہ انھوں نے اس روز پروگرام کے دوران جو کچھ کہا اور کیا، وہ انھیں نہیں کرنا چاہیے تھا جس پر وہ معافی مانگتے ہیں اور ایک بار نہیں بلکہ ایک لاکھ مرتبہ معافی مانگنے کے لیے تیار ہیں۔یاد رہے کہ 28 اکتوبر کو پی ٹی وی سپورٹس پر ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ کے خصوصی پروگرام کے دوران اینکر ڈاکٹر نعمان نیاز اور سابق فاسٹ بولر شعیب اختر کے درمیان گفتگو کے دوران بحث و تکرار شروع ہو گئی اور اس دوران نعمان نیاز نے شعیب اختر کو پروگرام چھوڑ کر جانے کا کہہ دیا۔اس کے بعد شعیب اختر نے کہا کہ قومی ٹی وی پر ایک قومی سٹار کے ساتھ اس سلوک کے بعد یہ مناسب نہیں کہ وہ مزید یہاں بیٹھیں لہذا وہ پاکستان ٹیلی وژن سے مستعفی ہو رہے ہیں۔وفاقی وزیر اطلاعات فواد چوہدری نے اس واقعے کی تحقیقات کے لیے ایک کمیٹی تشکیل دی ہے۔ کمیٹی کا فیصلہ آنے تک ڈاکٹر نعمان نیاز کو آف ایئر کر دیا گیا ہے۔ان کی غیرموجودگی میں انگلینڈ کے ڈیوڈ گاور اور پاکستان وومین کرکٹ ٹیم کے سابق کپتان ثنا میر نے اس پروگرام کی میزبانی سنبھال رکھی ہے۔ڈاکٹر نعمان نیاز نے شعیب اختر کے ساتھ ہونے والے واقعے کے بعد پہلی بار جمعرات کے روز سینئر صحافی رؤف کلاسرا کو ان کے یوٹیوب چینل پر انٹرویو دیا۔

جس میں انھوں نے کہا کہ سکرین پر انھوں نے جو کچھ کہا اور کیا اس پر انھیں افسوس ہے اور وہ اپنے اس رویے پر معافی مانگتے ہیں۔ ڈاکٹر نعمان نیاز نے کہا کہ آن ایئر انھوں نے جو حرکت کی اس پر انھیں ندامت ہے اور ایسا کر کے انھوں نے لوگوں کے جذبات مجروح کیے لہذا وہ معافی مانگنے میں کوئی عار محسوس نہیں کرتے اور ہر ازالے کے لیے تیار ہیں۔نعمان نیاز کا کہنا ہے کہ اس پورے معاملے میں پس پردہ کافی چیزیں ان کے دماغ میں چل رہی تھیں لیکن وہ انھیں اپنی اس حرکت کے جواز یا ڈھال کے طور پر پیش کرنا نہیں چاہتے۔’جو مرضی بھی عوامل ہوں جو کچھ ان سے آن ایئر سرزد ہو گیا، وہ نہیں ہونا چاہیے تھا۔ خاص کر ایسی صورتحال میں جب آپ کے سامنے سر ویوین رچرڈز اور ڈیوڈگاور جیسے معزز مہمان بیٹھے ہوں۔‘ڈاکٹر نعمان نیاز کا کہنا ہے کہ اس واقعے کے بعد ذرائع ابلاغ اور سماجی رابطوں کی ویب سائٹس پر ہر جگہ یکطرفہ باتیں ہو رہی تھیں بلکہ اس معاملے میں ان کی کردار کشی بھی ہو رہی تھی لہذا انھوں نے پاکستان ٹیلی وژن کی انتظامیہ سے اپنا مؤقف بھی پیش کرنے کی اجازت مانگی۔ان کا کہنا ہے کہ انھیں اس بات کا افسوس ہے کہ اس پورے معاملے میں نہ صرف ان کی کردار کشی کی گئی بلکہ ان کے 87 برس کے والد کو بھی نہیں چھوڑا گیا۔’ان کے بارے میں نہایت ہی نامناسب باتیں کہی گئیں اور انھیں ذہنی اذیت سے دوچار کیا گیا

جس کا بہت سارے لوگوں کو جواب دینا ہو گا کیونکہ ان کے گھر میں بھی والدین ہوتے ہیں۔‘’ان کا آن ایئر یہ کہہ دینا کافی نہیں کہ وہ استعفی دے رہے ہیں۔ ہر ادارے کے قواعد وضوابط ہوتے ہیں اور شعیب اختر نے اگر استعفی دیا ہے تو انھیں تین ماہ کا نوٹس پیریڈ پورا کرنا ہو گا۔‘ان کا کہنا ہے کہ شعیب اختر نے پاکستان ٹیلی وژن سے کنٹریکٹ ہونے کے باوجود بغیر بتائے دبئی جا کر انڈین ٹی وی چینل پر انڈیا کے سابق سپنر ہربھجن سنگھ کے ساتھ پروگرام کیا۔’اس کے علاوہ انھوں نے پاکستان کے دو نجی ٹی وی چینلز پر بھی پروگرام کیے اور پاکستان ٹیلی وژن کے 27 میں سے صرف دو پروگراموں میں آئے۔‘ڈاکٹر نعمان نیاز کا کہنا ہے کہ وہ تحقیقاتی کمیٹی کے سامنے پیش ہو چکے ہیں اور اپنی غلطی کو کھلے دل سے تسلیم کر لیا تاہم انھوں نے کمیٹی کے سامنے چند دیگر حقائق بھی بیان کیے۔انھوں نے کہا کہ ’اب یہ اس کمیٹی کا کام ہے کہ وہ کیا فیصلہ کرتی ہے۔‘ڈاکٹر نعمان نیاز کا یہ بھی کہنا ہے کہ انھیں یہ بات سن کر بڑی حیرت ہوئی کہ شعیب اختر نے یہ مطالبہ کیا کہ جب تک ڈاکٹر نعمان نیاز کو ان کے عہدے سے برطرف نہیں کیا جاتا وہ کمیٹی کے سامنے پیش نہیں ہوں گے۔ڈاکٹر نعمان نیاز نے واضح کر دیا کہ پی ٹی وی کی انتظامیہ جو بھی فیصلہ کرے گی اس بارے میں وہ اپنا قانونی حق محفوظ رکھتے ہیں۔(بشکریہ : بی بی سی )

Comments are closed.