کورونا سے بچنے کے لیے سنامکی ہرگز استعمال نہ کریں ورنہ۔۔۔

لاہور(ویب ڈیسک) پاکستان کے ڈیڑھ سو مایہ ناز ڈاکٹرز کا کہنا ہے کہ کورونا وائرس کی وبا میں مبتلا 90 فیصد مریضوں کا گھر پر علاج ممکن ہے۔ڈاکٹروں نے واضح کیا ہے کہ پلازما تھراپی، ایکٹمرا اور ڈیکسا میتھازون وائرس کا مکمل علاج نہیں جبکہ ثنا مکی کے مضر اثرات بہت زیادہ ہیں۔تفصیلات کے مطابق ڈیڑھ سو

کے قریب طبی ماہرین نے مریضوں اور پریشان لواحقین کو افواہوں پر کان نہ دھرنے کا مشورہ دیتے ہوئے عوامی آگاہی پیغام میں واضح کیا ہے کہ کورونا سے ڈرنا نہیں بچنا ہے جبکہ معمولی علامات والے مریضوں کو پریشان ہونے کی ضرورت نہیں کیونکہ 90 فیصد سے زائد مریض گھر پر ہی مناسب علاج سے تندرست ہو سکتے ہیں۔ڈاکٹروں کا کہنا ہے کہ معمول کے مطابق درجہ حرارت اور آکسیجن لیول چیک کرکے وبا پر کنٹرول ممکن ہے۔ خون میں آکسیجن لیول 93 فیصد سے زیادہ ہو تو بخار کو پیراسیٹامول یا دیگر ادویات سے کم کیا جا سکتا ہے۔ گھریلو ٹوٹکے اور شہد کا استعمال فلو اور سردی کم کرنے کیلئے موزوں نسخہ ہے۔ڈاکٹرز نے مشورہ دیا ہے کہ اینٹی بائیوٹکس، اینٹی وائرل اور ہربل علاج سے پرہیز کیا جائے۔ آگاہی پیغام میں کہا گیا ہے کہ اگر آکسیجن لیول 93 یا نارمل ہو لیکن بخار 100 سے زیادہ ہو، سینے پر دباؤ، سانس لینے میں دشواری اور گھٹن پر مریض فوری ڈاکٹر سے رجوع کرے۔آکسیجن لیول 93 فیصد سے کم ہو جائے تو مریض کو فوری کورونا کے علاج والے ہسپتال منتقل کیا جائے۔ اس صورت میں کوئی بھی تاخیر مریض کیلئے خطرناک ہو سکتی ہے۔ہسپتال میں اکثر مریض آکسیجن تھراپی، ڈاکٹرز کے ٹریٹمنٹ پلان اور براہ راست مانیٹرنگ سے صحتیاب ہو جاتے ہیں۔ ڈاکٹرز نے ریمیڈی سیور، پلازما تھراپی، ایکٹمرا انجکشن اور ڈیکسا میتھازون کو تجرباتی علاج قرار دیا ہے۔ان کا کہنا ہے کہ کورونا وائرس کے تشویشناک مریضوں کے لئے اب تک کوئی موثر علاج دریافت نہیں ہوا۔ پلازما اور انجکشن کے ذریعے علاج ایک خاص ماحول میں ہی ممکن ہے۔آگاہی مہم میں اس تاثر کو مسترد کر دیا گیا ہے کہ ایک بار پازیٹو آنے والے شخص کو دوبارہ کورونا نہیں ہو سکتا۔ سینئر ڈاکٹرز کا کہنا ہے کہ عوام کو غیر موثر، خطرناک طریقہ علاج اور ادویات مہنگے داموں خریدنے پر مجبور نہ کیا جائے۔

Sharing is caring!

Comments are closed.