کورونا سے ہونے والی اموات : کیا حکومت کچھ چھپا رہی ہے ؟ صحافی عمر چیمہ کی تہلکہ خیز رپورٹ

اسلام آباد (ویب ڈیسک) نامور صحافی عمر چیمہ اپنی ایک رپورٹ میں لکھتے ہیں ۔۔۔۔۔اگر سرکاری اعداد و شمار پر یقین کریں تو رواں سال پہلے پانچ ماہ میں ہونے والی اموات گزشتہ سال کے اسی عرصہ کے دوران ہونے والی اموات کے مقابلے میں بہت کم ہیں۔ یہ ایسے اعداد و شمار ہیں جنہیں دیکھ کر

ملک میں سرکاری اعداد و شمار کی ساکھ پر سوالات اٹھنا شروع ہو جاتے ہیں کیونکہ اموات کی تعداد ریکارڈ کرنے کا کوئی مناسب نظام نہیں ہے۔ایک ایسے موقع پر جب کورونا وائرس نے ملک کے کئی حصوں کو متاثر کیا ہے، کم شرح اموات کا شکوک و شبہات کے ساتھ خیر مقدم کیا جا رہا ہے اور حکام اپنی اپنی وضاحتیں دے رہے ہیں لیکن ان کے پاس بھی سوالوں کا ٹھوس جواب دینے کا مواد نہیں ہے۔ دی نیوز نے تمام صوبوں کے حکام سے رابطہ کرکے ان سے سوالات کیے کہ واقعی کوئی اعداد و شمار ہیں یا نہیں۔ایم وقار بھٹی کی دی نیوز میں 15؍ اپریل کو خبر شائع ہوئی تھی کہ لوگوں کی ایک بڑی تعداد اسپتالوں میں دم توڑ رہی ہے۔ اس کے بعد سندھ کے شہر کراچی میں اموات کے حوالے سے اعداد و شمار جمع کرنے کا کام شروع ہوا تھا۔ پنجاب میں حکام کا دعویٰ ہے کہ انہوں نے جنوری تا مئی تمام شہروں سے اعداد و شمار جمع کیے ہیں اور انہوں نے 2019ء کے اسی عرصہ کے دوران ہونے والی اموات کے حوالے سے تقابل بھی کیا ہے۔لیکن خیبر پختونخوا میں ایسا کوئی کام نہیں کیا گیا جبکہ بلوچستان میں کسی حد تک یہ کام ہوا ہے۔ کراچی کے حوالے سے دیکھیں تو پہلی مرتبہ اعداد و شمار اس وقت سامنے آئے جب گورنر سندھ عمران اسماعیل نے 7؍ مئی کو ٹوئیٹ کے ذریعے وائرس سے لاحق خطرے کو کم بتانے کی کوشش کی۔ یہ معاملہ فروری سے اپریل تک کا ہے۔اس ڈیٹا میں مختلف واقعات میں ہونے والی اموات کا ذکر کیا گیا تھا جبکہ اسپتال پہنچ کر ہونے والی اموات دیگر طریقوں سے ہونے والی اموات سے الگ رکھا گیا تھا۔ قبرستانوں سے حاصل ہونے والے اعداد و شمار بھی اس ڈیٹا میں شامل تھے۔ تمام معاملات میں اموات میں کمی کا ذکر کیا گیا تھا اور اس میں فروری 2020ء میں ہونے والی اموات کا فروری 2019ء میں ہونے والی اموات سے تقابل کیا گیا تھا۔ صرف ایک بات الگ تھی: فروری 2019ء میں روڈ حادثات میں ہونے والی اموات 13؍ جبکہ فروری 2020ء میں 24؍ تھیں۔ اُس وقت لاک ڈائون نہیں تھا اسلئے اتنی اموات کی بات قابل فہم ہے۔دی نیوز نے کراچی میں حکام سے بات کی اور ان سے اعداد و شمار کے درست ہونے پر سوالات کیے تاہم ایک بھی عہدیدار ایسا نہیں تھا جسے درست صورتحال کا علم تھا۔ شہری انتظامیہ نے کہا کہ سٹیزن پولیس لائژن کمیٹی سے رابطہ کریں۔

Sharing is caring!

Comments are closed.