کورونا وائرس وائٹ ہاؤس میں گھس گیا

واشنگٹن (ویب ڈیسک) امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی مشیر اور قریبی ساتھی ہوپ ہکس میں کورونا وائرس کی تشخیص ہوئی ہےجس کے بعد صدر ٹرمپ اور خاتون اوّل میلانیا کے بھی کورونا ٹیسٹ ہوئے ہیں، جن کے نتائج کا انتظار ہے۔ہوپ ہکس منگل کے روز ریاست اوہائیو میں منعقد ہونے والے مباحثے میں

شرکت کرنے والے ان اہلکاروں میں تھیں جو صدر ٹرمپ کے ساتھ ان کے طیارے ایئر فورس ون پر موجود تھے۔اس کے بعد بدھ کو، وائٹ ہاؤس کے نمائندوں کے مطابق وہ صدر ٹرمپ کے ساتھ ان کے ہیلی کاپٹر مرین ون میں بھی سوار ہوئی تھیں۔ 31 سالہ ہوپ ہکس صدر کی ٹیم میں کورونا پازیٹیو آنے والے سب سے قریبی اہلکار ہیں۔ہوپ ہکس میں کورونا کی تشخیص ہونے کے بعد اپنی تازہ ٹویٹ میں صدر ٹرمپ نے کہا کہ وہ اور ان کی اہلیہ بھی اپنے کورونا ٹیسٹ کے نتائج کے منتظر ہیں اور انھوں نے اپنے آپ کو قرنطینہ کرنے کا عمل شروع کر دیا ہے۔منگل کو فوکس نیوز کے ساتھ انٹرویو میں صدر ٹرمپ نے بتایا کہ وہ اور خاتون اوّل ہوپ کے ساتھ کافی وقت گزار چکے ہیں۔ ’تو پھر دیکھتے ہیں کیا ہوتا ہے۔‘منگل کو کھینچی گئی تصاویر میں ہوپ ہکس کو ایئر فورس ون سے بغیر ماسک پہنے اترتے دیکھا جا سکتا ہے۔ اس سے اگلے روز انھوں نے صدر کے ہمراہ ریاست منی سوٹا میں منعقد ہونے والی ایک ریلی میں بھی شرکت کی۔وائٹ ہاؤس ایسے تمام اہلکاروں اور مشیروں کے کورونا ٹیسٹ کرتا ہے جو روزانہ کی بنیاد پر صدر ٹرمپ سے رابطے میں آتے ہیں۔ٹرمپ کو ماسک پہننا پسند نہیں اور سرکاری تقاریب میں لی گئی زیادہ تر تصاویر میں انھیں ماسک اور سماجی دوری اختیار کیے بغیر اپنے ٹیم کے اہلکاروں یا دیگر افراد کے ساتھ گھلتے ملتے دیکھا جا سکتا ہے۔بلومبرگ نیوز کے مطابق منی سوٹا سے واپسی پر ہوپ ہکس میں کورونا کی علامات ظاہر ہونا شروع ہوئی تھیں اور انھیں اسی وقت طیارے میں ہی قرنطینہ میں رکھا گیا تھا۔کورنا وائرس سے اب تک تقریباً 72 لاکھ امریکی متاثر ہو چکے ہیں اور ملک میں دو لاکھ سے زیادہ اموات ہوچکی ہیں۔اس سے قبل وائٹ ہاؤس کے متعدد اہلکاروں میں وائرس کی تصدیق ہو چکی ہے۔ مئی میں نائب صدر مائیک پینس کی پریس سیکریٹری کیٹی ملر کووڈ 19 کا شکار ہوئیں تاہم وہ اب صحتیاب ہو چکی ہیں۔ اس کے علاوہ صدر ٹرمپ کے ساتھ براہ راست کام کرنے والے ایک امریکہ بحریہ کے اہلکار میں بھی وائرس کی تشخیص ہوئی ہے۔

Sharing is caring!

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *