کونسی ایک چیز ہار اور جیت کا فیصلہ کرے گی ؟

لاہور (ویب ڈیسک) نامور کالم نگار نسیم شاہد اپنے ایک کالم میں لکھتے ہیں ۔۔۔۔۔۔۔خیبرپختونخوا میں بلدیاتی انتخابات کے پہلے مرحلے کی تکمیل کے بعد جہاں ایک ماہ بعد دوسرے مرحلے کی اہمیت بڑھ گئی ہے وہیں پنجاب کے بلدیاتی انتخابات بھی اب ہر شخص کی زبان پر ہیں۔ یہ تو ممکن نہیں کہ

ان انتخابات کو ٹالا جا سکے کیونکہ سپریم کورٹ اور الیکشن کمیشن نے اس بارے میں واضح احکامات دے رکھے ہیں یہ معرکہ تو اب ہونا ہے، دیکھنا یہ ہے پنجاب بلدیاتی انتخابات میں کیا نتائج دیتا ہے۔ خیبرپختونخوا میں تو مسلم لیگ (ن) اور پیپلزپارٹی کچھ اچھی کارکردگی کا مظاہرہ نہیں کر سکیں، اس کے باوجود ان کی حکومت پر تنقید سب سے زیادہ رہی اور مریم نواز نے تو کہہ بھی دیا ان نتائج کے بعد وزیر اعظم میں تھوڑی سی بھی سیاسی سمجھ بوجھ ہو تو گھر چلے جائیں۔ یہ بات وہ کیسے کہہ سکتی ہیں جب ان کی جماعت خیبرپختونخوا میں آزاد امیدواروں کے بعد چوتھے نمبر پر رہی ہے۔ ہاں البتہ پنجاب کے محاذ پر اگر مسلم لیگ (ن) تحریک انصاف کو خیبرپختونخوا کی طرح بلدیاتی انتخابات میں پچھاڑ دیتی ہے تو پھر ان کا یہ کہنا مناسب ہوگا۔ایک عام خیال یہ ہے تحریک انصاف کو خیبر پختونخوا میں جو نقصان پہنچا ہے اس کے اثرات پورے ملک پر مرتب ہوں گے۔ تاہم یہ کوئی لازمی کلیہ نہیں پنجاب کی اپنی ایک سیاسی نفسیات ہے۔ خاص طور پر بلدیاتی انتخابات میں لوگوں کے فیصلے عام انتخابات کی نسبت بالکل مختلف ہوتے ہیں۔ اس کی مثال یوں دی جا سکتی ہے کہ 2018ء کے انتخابات میں مسلم لیگ (ن) پجاب سے فیصلہ کن برتر حاصل نہ کر سکی، حالانکہ پنجاب کے تمام بلدیاتی اداروں پر اس کے حامیوں کا قبضہ تھا۔ لیکن عوام نے عام انتخابات مں ی ووٹ بلدیاتی سیاست سے بالا تر ہو کر دیئے۔

اب جبکہ پنجاب میں تحریک انصاف کی حکومت ہے خاص طور پر جنوبی پنجاب میں عثمان بزدار حکومت نے اربوں روپے کے ترقیاتی کام بھی کرائے ہیں، یہ کہنا آسان نہیں مسلم لیگ (ن) آسانی سے کلین سویپ کر جائے گی۔ البتہ یہ بات طے ہے کہ پنجاب کے بلدیاتی محاذ پر اصل مقابلہ تحریک انصاف اور مسلم لیگ (ن) کے درمیان ہی ہوگا، پیپلزپارٹی کہیں کہیں اچھی پرفارمنس دکھا سکتی ہے اور ٹی ایل پی کا بھی تھوڑا بہت چانس ہے تاہم مقابلہ ان دو بڑی جماعتوں کے درمیان ہی ہونا ہے۔مسلم لیگ (ن) کو ایک برتری ضرور حاصل ہے کہ اسے بلدیاتی انتخابات لڑنے کا تجربہ ہے۔ اس کے بلدیاتی نمائندوں کی ایک بڑی تعداد فیلڈ میں موجود ہے جو برادری ازم، علاقائی کلچر اور گلی محلے کی سیاست کو سمجھتے ہیں۔ اس حوالے سے تحریک انصاف کے پاس تجربہ کار لوگ نہیں، جو ساڑھے تین برس کا عرصہ گزارا ہے اس میں بھی تحریک انصاف نے اس شعبے میں کوئی کام نہیں کیا، ایم این اے اور ایم پی اے اپنے اپنے حلقوں سے کٹے رہے ہیں، انہوں نے کبھی اس پہلو پر توجہ ہی نہیں دی کہ گراس روٹ لیول کی قیادت کو بھی فروغ دینا ہے۔ تنظیمی حالت بھی پتلی ہے اور ہر کوئی اپنا تعلق استعمال کر کے نامزدگی کرا آتا ہے۔ جس کا حلقے ہی کوئی اثر و رسوخ نہیں ہوتا۔ ابھی بھی وقت ہے اگر تحریکِ انصاف اس ضمن میں کام کرنے اور اپنے مقبول تیز پرانے کارکنوں کو آگے لائے تو ایک بڑی شکست سے بچ سکتی ہے اور ایک بڑی کامیابی حاصل کر سکتی ہے۔

لیکن مسئلہ یہ ہے، خیبرپختونخوا کی طرح پنجاب میں بھی اوپر سے نیچے تک گروپ بندی اور اقربہ پروری اتنی ہے کہ اپنے ہی محلے میں رہنے والے تحریک انصاف کے حامی ایک نہیں ہیں۔ یہاں ملتان میں کارکنوں کے اندر حد درجہ محرومی پائی جاتی ہے کیونکہ شاہ محمود قریشی نے صرف اپنے حامیوں کو نوازا ہے۔ جنہیں عہدے بانٹے گئے یا جنہیں سرکاری محکموں میں لگایا گیا ان کا تعلق نہ صرف شاہ محمود قریشی گروپ سے ہے بلکہ وہ شاہ محمود قریشی اور ان کے بیٹے زین قریشی کے حلقوں سے تعلق رکھتے ہیں۔ گویا پورے ملتان کے کارکن ایک طرف ہیں اور ان دو حلقوں کے کارکن دوسری طرف، اب ایسے میں کوئی اگر یہ توقع رکھتا ہے بلدیاتی انتخابات میں تحریک انصاف کوئی بڑا معجزہ دکھانے میں کامیاب رہے گی تو یہ اس کی خام خیالی ہے۔ کہنے والے تو کہتے ہیں شاہ محمود قریشی شاید اپنے قومی حلقے میں آنے والے بلدیاتی یونین کونسلوں میں بھی تحریک انصاف کو جتوانے میں کامیاب نہ ہو سکیں کیونکہ وہاں بھی انہوں نے حقیقی کارکنوں کو نظر انداز کر کے اپنے چہیتوں کو نوازنے کا سلسلہ جاری رکھا ہوا ہے۔کیا یہ بات تعجب انگیز نہیں کہ وزیر اعلیٰ عثمان بزدار نے اپنے ساڑھے تین برسوں کے اقتدار میں ایک بار بھی ملتان کے کارکنوں سے ملاقات نہیں کی، انہوں نے ایک طرح سے ملتان کو شاہ محمود قریشی کے رحم و کرم پر چھوڑ رکھا ہے۔ وہ ملتان آتے بھی ہیں تو سرکٹ ہاؤس میں سرکاری افسروں سے میٹنگ کر کے چلے جاتے ہیں۔

یہ بھی دیکھا گیا کہ کارکنوں نے ان سے ملاقات کے لئے سرکٹ ہاؤس کے باہر دھرنے دیئے مظاہرے کئے۔ اسی طرح ایک دو بار وزیر اعظم عمران خان کے آنے پر بھی کارکنوں کو ان سے دور رکھا گیا، جس پر احتجاج بھی ہوئے۔ اب ایک ایسی فضا میں جہاں پارٹی کارکنوں کا اپنی قیادت سے کوئی ربط ضبط نہیں، بلدیاتی انتخابات کے لئے ٹکٹوں کی تقسیم کیسے میرٹ پر ہو گی۔ کیسے ان امیدواروں کا چناؤ کیا جائے گا جو کارکنوں کا اعتماد بھی حاصل کرلیں اور انہیں حلقے کے عوام کی تائید بھی حاصل ہو۔ خانیوال میں ضمنی الیکشن کی حالیہ مثال سامنے ہے۔تحریک انصاف نے بیگم نشاط کو پارٹی ٹکٹ تو دیدیا تاہم پارٹی کارکنوں سے مشاورت نہیں کی جس کی وجہ سے ان کی انتخابی مہم میں کارکن شریک ہی نہیں ہوئے، دوسری طرف مسلم لیگ (ن) کے کارکنوں کو قیادت نے اعتماد میں لیا اور تمام گروپوں سے مشاورت کے بعد ٹکٹ دیا پھر اس کی انتخابی مہم چلانے کے لئے کوئی کسر نہ اٹھا چھوڑی۔ ملتان میں اس وقت یہ حال ہے کہ تحریک انصاف کے کارکنوں کا تو کیا کہنا ارکان اسمبلی میں شدید گروپ بندی موجود ہے۔ یہ گروپ بندی بلدیاتی انتخابات میں کیا رنگ دکھائے گی، اس کا بخوبی اندازہ کیا جا سکتا ہے، یہی حال جنوبی پنجاب کے دیگر علاقوں کا ہے۔ جنوبی پنجاب کا ذکر اس لئے کر رہا ہوں کہ یہاں سے تحریک انصاف کو اچھی خاصی نشستیں ملی تھیں، جہاں تک اپر پنجاب کا تعلق ہے تو وہاں مسلم لیگ (ن) کا بلدیاتی قلعہ خاصا مضبوط ہے، تھوڑا بہت فرق اگر پڑا تو مسلم لیگ (ق) کی وجہ سے گجرات، وزیر آباد اور سیالکوٹ سے پڑے گا۔اس میں کوئی شک نہیں خیبرپختونخوا کے انتخابی نتائج نے پنجاب کے بلدیاتی انتخابات کی اہمیت بڑھا دی ہے۔ یہ جہاں تحریک انصاف کے لئے پورا زور لگانے کا وقت ہے وہاں مسلم لیگ (ن) کا بھی ایک امتحان ہے۔ اگر دونوں جماعتوں نے پارٹی ٹکٹوں کی تقسیم میں غلطیاں نہ کیں تو ایک سخت مقابلے کی امید کی جا سکتی ہے۔ تنظیمی لحاظ سے مسلم لیگ (ن) کا پلڑا بھاری ہے۔ اس کے پاس بلدیاتی امیدروں کا ایک مضبوط ڈیٹا بھی موجود ہے، جس کے ذریعے اچھے اور وننگ امیدواروں کا فیصلہ کیا جا سکتا ہے، پھر یہ بھی ہے کہ مسلم لیگ (ن) میں ٹکٹ نہ ملنے پر آزاد امیدوار کے طور پر الیکشن لڑنے کا رجحان بھی کم ہے، جبکہ تحریک انصاف میں بہت زیادہ ہے، جس کے باعث اس کا ووٹ بنک تقسیم ہو جاتا ہے۔ تحریک انصاف کا بلدیاتی انتخابات میں پنجاب بھی کمزور ہو گیا تو پھر شاید 2023ء کے عام انتخابات میں واپسی کا امکان باقی نہ رہے۔ اس کے پاس اب خیبرپختونخوا کی غلطیاں دہرانے کی گنجائش موجود نہیں ہے۔