کونسی جماعت لیگی ووٹ بنک میں نقب لگانے کے لیے پر تول چکی ؟

لاہور (ویب ڈیسک) نامور کالم نگار چوہدری خادم حسین اپنے ایک کالم میں لکھتے ہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔پیر علی مردان شاہ پیر آف پگارو (ہفتم) اکثر ایسی باتیں کرتے تھے کہ بعد میں یاد آتی تھیں، بہت سی گفتگو تو بعض حضرات کے سر سے گزر جاتی تھی۔ یہ میری خوش نصیبی ہے کہ میں ان چند صحافی دوستوں میں شامل ہوں،

جن کی ان سے قربت اور بے تکلفی تھی۔ پیر صاحب کراچی، لاہور اور اسلام آباد میں صحافیوں کا بھی دائرہ دوستی رکھتے تھے۔ ہر شہر میں ان کی دوستی میں تین چار لوگ شامل ہوتے اور وہ انہی کے ساتھ کھل کر بات کرتے اگرچہ جب کبھی کوئی تقریب ہوتی تو وہ کوریج کے لئے آنے والوں سے بھی دوستانہ انداز ہی میں مخاطب ہوتے تھے۔ تاہم ان کے دائرہ دوستی والے حضرات عموماً ملتے رہتے اور آف دی ریکارڈ بھی بات چیت ہوتی رہتی تھی۔ لاہور میں آتے تو میں انور قدوائی، پرویز بشیر، ان سے ضرور ملتے، ہمارے ساتھ کبھی کبھی اشرف ممتاز بھی ہوتے تھے کہ ڈان کی وجہ سے پیر پگارو ان کو بھی پسند کرتے تھے۔ پیر پگارو کی بعض باتوں کے لئے ان سے وضاحت بھی مانگنا پڑتی تھی اور بعض کے لئے انتظار کرنا پڑتا تھا، عام طور پر فوج کے حوالے سے ان کی بات کو غلط معنی پہنا دیئے جاتے تھے۔ایک مرتبہ بھنا گئے اور انہوں نے خود ہی وضاحت کی اور کہنے لگے بابا! تم کیوں کہتے ہو کہ ہم فوج کے آدمی ہیں، ارے سائیں، ہم فوج کے آدمی نہیں۔ فوج کے ساتھ ہیں، ہمارے حُر بہادروں کی باقاعدہ حُر بٹالین ہے، چنانچہ وہ ہمیشہ اس پر عمل پیرا بھی رہے۔ اگرچہ دلچسپ فقرے بازی سے رکتے نہیں تھے، اسی تعلق کی بناء پر انہوں نے مرحوم محمد خان جونیجو کا نام پیش کیا اور جنرل ضیاء الحق نے منظور کر لیا وہ وزیراعظم بنے تو پیر علی مردان شاہ نے کہا ”

ہم نے اپنا بندہ ادھار پر دیا ہے، جب چاہیں گے واپس بلا لیں گے“۔ یہ الگ بات ہے کہ محمد خان جونیجو مرحوم کی واپسی جنیوا معاہدہ کے باعث ہوئی اور جنرل ضیاء الحق نے 1985ء والی اسمبلی ہی کالعدم قرار دے دی اور پھر 1988ء میں نئے انتخابات ہوئے جو سپریم کورٹ کے فیصلے کے مطابق جماعتی بنیادوں پر ہوئے تھے۔ اس عرصہ میں پیر پگارو کی جماعت سے سپریم کورٹ نے پابندی ہٹا دی تھی اور وہ اسے فنکشنل کہتے تھے۔ ان کی تشریح تھی کہ جنرل ضیاء الحق نے ان کی جماعت کو کام سے روکا اور سپریم کورٹ نے اسے فنکشنل کر دیا ہے۔بات کرنے کے لئے تمہید کچھ زیادہ لمبی ہو گئی۔ آج ان کی دو باتوں کا ذکر کرنا ہے۔ اکثر کہا کرتے تھے کہ جو بچے گا وہی سیاست کرے گا، ان کا مطلب یہ ہوتا تھا کہ سیاست دانوں پر بُرا وقت آنے والا ہے جس کے باعث وہ سیاسی میدان سے باہر ہوں گے اور اس ریلے سے جو بچے گا وہی سیاست میں رہے گا جو مطلب ہم سمجھتے تھے وہ تو ابھی تک پورا نہیں ہوا، لیکن یہ ضرور ہے کہ بہت سے لوگ بتدریج سیاست سے باہر ہو گئے، اسی دوران جو بات کبھی قابل غور نہ سمجھی گئی وہ یہ تھی کہ اپنے آخری وقت سے قبل انہوں نے خصوصاً مجھے مخاطب کرکے کہا ”عنقریب درود والوں کا دور آنے والا ہے“ یہ میرے سر سے بھی گزر جاتی تھی اور وہ خود بھی وضاحت نہیں کرتے تھے، لیکن وہ کئی بار کہہ چکے تھے کہ

درود والوں کا دور آنے والا ہے پہلے جب کراچی سے سنی تحریک کا غلغلہ ہوا تو میرا ذہن اس طرف گیا کہ شاید ان کی مراد کسی ایسی ہی تحریک سے تھی لیکن جلد ہی سنی تحریک ایک عام جماعت کی حیثیت بن کر رہ گئی، اس کا وجود اب بھی ہے لیکن وہ طنطنہ نہیں جو ابتدا میں تھا، اسی طرح جب پہلی بار تحریک لبیک کا ذکر سامنے آیا تو ہمارے لئے معمول کی بات تھی لیکن فیض آباد دھرنا ہوا اور مطالبات سامنے آئے۔جب دھرنا ختم ہوا تو مجھے پیرپگارو یاد آ گئے تھے اور خیال ہوا شاید ان کی مراد ایسے ہی حالات سے تھی کہ تحریک لبیک کا دھرنا اہانت رسولؐ کے خلاف احتجاج کا تھا اور مطالبات میں بھی صرف اور صرف حرمت رسولؐ پاک تھی پھر جس انداز میں یہ دھرنا ختم ہوا، اس نے بھی بہت سے پرت کھولے اور اب تو پیرپگارو کی بات ایسی پیشگوئی لگتی ہے جو پوری ہو چکی کہ تحریک لبیک والوں نے عید میلاد النبی کے بعد سے جو استقامت دکھائی وہ بھی ہمارے ملک کی سیاسی تاریخ کا ایک الگ باب ہے اور اس جماعت کے ساتھ حکومت نے جو مذاکرات کئے وہ قومی سلامتی کمیٹی کے اجلاس میں طویل بحث کے بعد ہوئے اور پھر معاہدہ بھی ہو گیا اور اب یہ درود والے لوگ خود کو سرخرو کہتے ہیں، امن و امان کی جو حالت خراب ہوئی وہ بہتر ہو گئی ہے۔ حالانکہ اس جماعت کے حوالے سے بدامنی کے ساتھ ساتھ بھارتی ایجنٹ ہونے کا الزام بھی تھا،

لیکن حالات نے ایسا رخ اختیار کیا کہ اب یہ جماعت ایک سیاسی جماعت ہے اور ان کے ساتھ کیا جانے والا معاہدہ بھی عمل پذیر ہے، خود ٹی ایل پی کا کہنا ہے کہ ان کے پچاس فیصد سے زیادہ مطالبات یا معاہدہ میں کئے گئے وعدے پورے ہو گئے ہیں اور باقی پر عمل درآمد کا انتظار کریں گے، چنانچہ وزیرآبادکا دھرنا ختم کر دیا گیا اور کارکن مسجد رحمت اللعالمین نواں کوٹ واپس آ گئے۔ اب یہ جماعت باقاعدہ سیاسی جماعت کے طور پر انتخابات میں حصہ لینے کی اہل ہے اور 2018ء کے عام انتخابات میں اس جماعت کو پذیرائی ملی تھی، سندھ اسمبلی میں اس کے دو اراکین ہیں اور پنجاب میں یہ جماعت ووٹوں کے حوالے سے تیسرے نمبر پر تھی اور پیپلزپارٹی سے بھی زیادہ ووٹ لئے تھے۔اب تجزیہ کرنے والے جو اور جیسے کی بات کرتے رہیں، لیکن حقیقت واضح ہے کہ تحریک لبیک یا رسولؐ اللہ اب ایک حقیقت بن کر سامنے ہے اور پیر پگارو کی یہی بات سامنے بھی ہے، اب دیکھنا یہ ہے کہ آئندہ عام انتخابات میں یہ جماعت ملک کے چاروں صوبوں میں کس طاقت سے ابھرتی ہے، میں بھی منتظر ہوں اور آپ بھی انتظار کریں۔ کہا تو یہی جاتا ہے کہ یہ جماعت مسلم لیگ (ن) کے ووٹ توڑے گی کہ پنجاب میں پیپلزپارٹی اپنا ووٹ بنک کھو چکی، اس وقت لاہور میں ضمنی الیکشن این اے 133 کا ہے۔ دسمبر کے پہلے ہفتے میں پیپلزپارٹی اور مسلم لیگ (ن) کا موازنہ ہو جائے گا۔

Comments are closed.