کون اسکی تکمیل کا اعزاز عمران خان اور تحریک انصاف کے حصے میں آنے سے روکنا چاہتا ہے ؟

لاہور (ویب ڈیسک) نامور کالم نگار و سینئر صحافی مظہر برلاس اپنے ایک کالم میں لکھتے ہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔وزیر اعظم صاحب! آپ کو رکنے کی ضرورت نہیں، ملکی ترقی کا سفر جاری رکھیں، ترقیاتی کام نہ روکیں بلکہ عوامی بھلائی کے کسی بھی منصوبے کو عملی جامہ پہنانے میں دیر مت کیجئے۔ اگر آپ کی

حکومت شاندار منصوبے بنانے میں کامیاب ہو گئی تو پھر مقبولیت میں آپ سب سے آگے ہوں گے۔ ایسا ہو تو سکتا ہے مگر ابھی یہ کہانی دردناک موڑ پر کھڑی ہے۔ اسی دردناک موڑ پر راولپنڈی رنگ روڈ بھی آتا ہے، یہ عوامی فلاح کا منصوبہ ہے مگر کیا کیجئے عوامی بھلائی کے منصوبوں میں سب سے بڑی رکاوٹ آپ کا آفس ہے۔ کسی دن باقی منصوبوں کا تذکرہ کروں گا۔ آج صرف رنگ روڈ کیونکہ اس منصوبے کا بہت شور ہے۔ یہ منصوبہ حکومت کے لئے گیم چینجر ہے، اگلے الیکشن میں پی ٹی آئی اس منصوبے کا ثمر حاصل کر سکتی ہے مگر اس منصوبے کو داغدار بنانے کے لئے وزیر اعظم آفس کے لوگ بڑے کردار ہیں جو محض ذاتی مفاد کے لئے شاندار منصوبے کو رکوانا چاہتے ہیں۔ ایک دو شخصیات کو فائدہ پہنچانے کے لئے اس منصوبے کو کچل دینا چاہتے ہیں۔ وہ نہیں چاہتے کہ کسی شاندار منصوبے کی تکمیل تحریک انصاف کے حصے میں آئے۔جناب وزیر اعظم !آپ کے آفس کے لوگوں نے راولپنڈی رنگ روڈ جیسے فلاحی منصوبے کو متنازع بنا کے رکھ دیا ہے۔ انہوں نے چار افسران کو ٹھکانے لگایا۔ پہلے کمشنر راولپنڈی محمد محمود کو کسی اور خطا کی پاداش میں ہٹایا پھر آپ کے چہیتے لوگ مشہور زمانہ ڈسکہ الیکشن کے مرکزی کردار گلزار شاہ کو بطور کمشنر لے آئے، اس نے آپ کے آفس کے لوگوں کی مرضی کے مطابق رپورٹ بنائی۔ اس رپورٹ پر پنڈی کے ڈپٹی کمشنر کیپٹن (ر) انوار نے دستخط کرنے سے انکار کر دیا۔ ڈی سی پنڈی نے انکار کرتے وقت کہا ’’

میں نے ﷲ کو جان دینی ہے، ہر ایک نے کسی نہ کسی دن دنیا سے جانا ہے، ہر ایک نے خدا کو حساب دینا ہے، میں اس جعلی اور گندی رپورٹ پر دستخط نہیں کر سکتا، میرا ضمیر اس رپورٹ کو تسلیم کرنے سے انکاری ہے‘‘۔ اس انکار کے بعد اسے ہٹا دیا گیا اور اس کے اختیارات اے ڈی سی جی کیپٹن (ر) قاسم اعجاز کو سونپ دیئے گئے مگر یاد رکھیے قاسم اعجاز بھی ناجائز کام نہیں کرے گا، اس کے والد اعجاز تبسم نے بھی زندگی بھر سرکاری حیثیت میں کوئی کام ایسا نہیں کیا جس پر حرف آتا ہو، سو مرضی کی رپورٹیں بنوانے کے بجائے کام کیجئے۔ راولپنڈی کا رنگ روڈ بنوایئے۔ پنڈی، اسلام آباد جانتا ہے کہ دونوں شہروں کے مضافات میں سیاستدانوں کی زمینیں ہیں، اب اینٹی کرپشن نے آپ کو یہ رپورٹ پیش کر دی ہے کہ اس رنگ روڈ پر پی ٹی آئی کے علاوہ مسلم لیگ ن اور پیپلز پارٹی کے اراکین اسمبلی کی بھی زمینیں ہیں۔ ذرا سوچئے کہ یہ رنگ روڈ راولپنڈی اسلام آباد کے گرد ہی بننی ہے تو ظاہر ہے یہ لوگوں کی زمینوں ہی پر بنے گی، اب ان لوگوں میں اگر سیاستدان شامل ہیں تو اس میں کونسی برائی ہے، یہ رنگ روڈ زمین پر بن رہی ہے کوئی سیارہ مریخ پر نہیں۔ محض دو شخصیات کے مفاد کے لئے کسی بھی منصوبے کو روک دینا کہاں کی دانشمندی ہے۔ پنڈی اسلام آباد کے شہریوں کا قصور کیا ہے، کیا ان کا جرم یہ ہے کہ انہوں نے پی ٹی آئی کو ووٹ دیا؟

وزیر اعظم صاحب!آپ لاہور بھی آتے جاتے ہیں، کبھی لاہور جاتے وقت صرف دو منٹ کے لئے سوچئے کہ وہ کونسی ہستی ہے جو لاہور کا رنگ روڈ مکمل نہیں ہونے دیتی؟ اگر آپ کی سمجھ میں وہ ہستی آ گئی تو پھر آپ راولپنڈی رنگ روڈ کو رکوانے والی ہستی کو بھی جان جائیں گے چونکہ آپ بنی گالہ میں رہتے ہیں، کبھی دو منٹ کیلئے سوچئے گا کہ وہ کونسی ہستیاں ہیں جنہوں نے سی ڈی اے کو پچھلے بیس سالوں میں کوئی ایک سیکٹر ڈویلپ نہیں کرنے دیا پھر آپ کو رنگ روڈ رکوانے والی بڑی ہستی کے علاوہ چاچے مجید کی بھی سمجھ آ جائے گی۔ انسداد بدعنوانی والوں نے آپ کو سیاستدانوں سے متعلق تو بتا دیا مگر چاچے مجید کے بارے میں کچھ نہیں بتایا، شاید اس لئے کہ آپ کا چہیتا وزیراعلیٰ اسے چاچا کہتا ہے۔ ذرا راولپنڈی کے موجودہ ڈسکہ برانڈ کمشنر سے متعلق بھی سوچئے جو پچھلے پانچ دنوں سے نئی الائنمنٹ بنانے کے چکر میں سر پکڑ کر بیٹھا ہے اور اس سے رنگ روڈ کی نئی الائنمنٹ نہیں بن رہی، جو شخص ڈسکہ میں آپ کے لئے بدنامی کا باعث بنا تھا، وہ پنڈی میں کیسے آپ کے لئے نیک نامی کا باعث بن سکتا ہے۔ 2018کے الیکشن میں پورے پنڈی ڈویژن سے لوگوں نے پی ٹی آئی کو جتوایا تھا، یہ شخص پورے پنڈی ڈویژن کو آپ کے لئے ڈسکہ بنا دے گا، اس سے بچئے، کوئی بھی قابل اور دیانتدار افسر پنڈی کو دے دیجئے، رنگ روڈ بنوایئے، تنقید کی پروا کئے بغیر عوامی بھلائی کے منصوبے کو مکمل کروایئے۔آپ کے ایک مشیر زلفی بخاری کو اس منصوبے کا علم بھی نہیں تھا، اس نے اعلیٰ ظرفی دکھائی، صرف میڈیا میں نام آنے پر استعفیٰ دے دیا، خود کو الگ کر لیا حالانکہ وہ تو سیاحت کے شعبے میں بڑا کام کر رہا تھا، اس نے پاکستان کا نام کئی ترقی یافتہ ملکوں کی ٹورازم ایڈوائزری میں شامل کروایا۔ وہ تو پاکستان کا حسن دنیا کو دکھانا چاہتا تھا، اس نے کئی ملکوں کے ساتھ معاہدے کئے کہ انہیں پاکستان افرادی قوت فراہم کرے گا۔ اس نے کم از کم گیارہ لاکھ پاکستانیوں کو باہر بھجوانے کا بندوبست کیا، اسے واپس بلایئے، اس کا تو رنگ روڈ کے پورے کھیل سے کوئی تعلق نہیں۔ احمد فرازؔ کے بقول ؎میرا اس شہر عداوت میں بسیرا ہے جہاں۔۔۔لوگ سجدوں میں بھی لوگوں کا برا سوچتے ہیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *