کون کسے مہلت دے رہا ہے ؟ سینئر صحافی کی خاص خبر

لاہور (ویب ڈیسک) نامور کالم نگار ارشاد احمد عارف اپنے ایک کالم میں لکھتے ہیں ۔۔۔۔۔۔۔تین سالہ ناکامیوں کا ملبہ اسٹیبلشمنٹ کی پیدا کردہ رکاوٹوں‘مداخلت بے جا اور عدلیہ کی طرف سے شریف خاندان کی بے جا ناز برداری پر ڈال کر عوام کا سامنا کرنا آسان بلکہ ماضی کا آزمودہ نسخہ ہے

سو خان صاحب نے بھی ایک نان ایشو کو ایشو بنا کر اپنے حامیوں کو باور کرایا ہے کہ وہ آئین و قانون کی بالادستی اور وزیر اعظم کے صوابدیدی اختیارات کی بحالی کی لڑائی لڑ رہے ہیں اور تخت یا تختہ کی اس لڑائی میں اقتدار کی قربانی دینے‘نواز شریف بننے پربخوشی آمادہ‘دور کی یہ کوڑی لانے والے دو تین گھنٹے کی مار نوٹیفکیشن کے اجراء میں کم و بیش دو ہفتے کی تاخیر کے ڈانڈے محمد خان جونیجو سے ملاتے ہیں جو جنرل ضیاء الحق کے روبرو اپنا آپ منوانے کے لئے کبھی صدر کے اردلی پیر محمد کی فائل روک لیتے تھے‘کبھی متحدہ عرب امارات کے حکمران شیخ زائد بن سلطان النہیان کے دورہ پاکستان کی فائل پر لکھتے کہ ’’انہیں صدر ضیاء الحق نے کس حیثیت میں دعوت دی ؟‘‘اور کبھی ایوان صدر کے معمولی اخراجات کی منظوری دینے سے انکار کر دیا کرتے تھے‘آج کل صورتحال اگرچہ اس قدر خراب نہیں مگر ڈی جی آئی ایس آئی کے تقرر کا معاملہ لٹکا کر حکومت اور فوج کی ایک صفحہ پر موجودگی کا تصوّر پاش پاش کر دیا گیا۔ کون سے ملک میں وزیر اعظم کو کابینہ اور پارلیمانی پارٹی کے سامنے اس وضاحت کی ضرورت پیش آئی کہ اس کے اپنے آرمی چیف کے ساتھ تعلقات مثالی ہیں؟وزیر خارجہ‘ وزیر اطلاعات‘ وزیر داخلہ اور دیگر وزراء بار بار یہ یقین دہانیاں کب کرواتے ہیں کہ معاملہ طے پا گیا ہے بس قاعدے ضابطے کی کارروائی مکمل ہوتے ہی نوٹیفکیشن جاری کر دیا جائے گا؟طویل خوشگوار ملاقات کو ایک ہفتہ گزر چکا ‘تادم تحریر نوٹیفکیشن جاری نہیں ہوا ‘اگر خوشگوار ملاقات کا یہ حال اورحاصل ہے تو خدانخواستہ ناخوشگوار صورتحال سے کیا نتیجہ برآمد ہوتا یا ہو گا؟اللہ کرے کہ فواد چودھری ‘شاہ محمود قریشی اور شیخ رشید احمد کے اعلانات کے مطابق مثالی تعلقات برقرار رہیں اور سازشی کہانیاں خود ختم ہو جائیں لیکن اگر قانونی طریقہ کار کے مطابق سمری اور صوابدیدی اختیار کے تحت حق انتخاب پر ‘اصرار جاری رہا اور لیفٹیننٹ جنرل عاصم منیر اور لیفٹیننٹ جنرل فیض حمید کے تقرّر کو بطور روایت و مثال کافی نہ سمجھا گیا تو کتاب جمہوریت کا خوش نما صفحہ خوب داغ دار ہو گا‘ضد‘ ہٹ دھرمی اور انا کسی کو زیبا ہے نہ لگائی بجھائی کرنے والے کسی ایک کے خیر خواہ ۔۔