کون کس کے ہاتھ چومتا رہتا ۔۔۔؟؟ :

لاہور (ویب ڈیسک) نامور شخصیت اور معروف مضمون نگار مفتی منیب الرحمان اپنے ایک کالم میں لکھتے ہیں ۔۔۔۔ ڈاکٹر صاحب آخری عمر میں وقیع کالم لکھتے رہے، اُن کا ادبی ذوق بھی تھا، تاریخ سے بھی شغف تھا، تصوّف اور مذہب سے بھی لگائو تھا اور یہ اُن کے کالموں سے عیاں تھا اور

وہ اپنی شکایت وقتاً فوقتاً قوم کے سامنے ریکارڈ پر لاتے رہے، لیکن کسی کے کان پر جوں تک نہ رینگی۔ البتہ علامہ خادم حسین رضوی مرحوم نے ایک خطاب میں کہا: ”ڈاکٹر عبدالقدیرکا دل بڑا دکھی ہے، انہوں نے پاکستانیوں کے بارے میں بڑے سخت جملے کہے ہوئے ہیں کہ ان کے خلاف سازشیں کر کے انہیں منصب سے فارغ کیاگیا، حالانکہ ابھی ان کی علمی، عقلی، فکری اور جسمانی توانائیاں عروج پر تھیں، آپ کو تنخواہ بھی کبھی شایانِ شان نہیں ملی، انہوں نے مجھے خود بتایا: ”مجھے چار ہزار پنشن ملتی ہے‘‘، لبیک کی حکومت آئی تو صدرِ پاکستان ڈاکٹر عبدالقدیر خان ہوگا‘‘۔ایک خطاب میں انہوں نے کہا: ”میں نے ڈاکٹر صاحب سے ملاقات میں ان کے ہاتھ چومے، وہ مجھے کہنے لگے: یار بڑے بڑے لیڈر آئے، مذہبی بھی، سیاسی بھی، سب نے مجھ سے ایک ہاتھ سے سلام کیا، آپ نے سفید داڑھی والے ہوتے ہوئے میرے ہاتھوں کو بوسا کیسے دیا، میں نے کہا: ڈاکٹر صاحب! ”گل وچ ہور اے‘‘، پوچھا کیا بات ہے؟، میں نے کہا: رسول اللہﷺ نے فرمایا: جس نے تیر بنایا، وہ بھی جنت میں جائے گا، جس نے تیر پکڑایا، وہ بھی جنت میں جائے گا، جس نے تیر چلایا، وہ بھی جنت میں جائے گا‘‘، میں نے کہا: ”شیرِ پاکستان! ایٹم کو لے کر چلنے والا تیر بنانے والے جنتی آپ ہو، یہ سن کر ڈاکٹر صاحب کی آنکھوں میں آنسو آگئے اور کہنے لگے: یہ بات تو مجھے کسی نے نہیں بتائی، میں نے کہا: یہ رسول اللہﷺ کا فرمان ہے، اس لیے میں نے آپ کے ہاتھوں کو بوسا دیا،

پھر انہوں نے میرے ہاتھ پکڑے اور ہاتھ چھوڑ نہیں رہے تھے، میں نے کہا: میں نے دل سے آپ کے ہاتھ چومے ہیں، آپ نے رسول اللہﷺ کے فرمان پر عمل کیا ہے‘‘۔ پھر علامہ نے ان کے سامنے قرآن کی اس آیت کا ترجمہ پڑھا: ”اور (مسلمانو!) جتنا تمہارے بس میں ہے، ان (دشمنوں کے مقابل) اپنی طاقت تیار رکھو اور گھوڑے حالتِ لڑائی میں یعنی تیار رکھو تاکہ اس کے ذریعے تمہارے اور اللہ کے دشمنوں کے دلوں پر تمہاری ہیبت چھائی رہے (الانفال: 60)‘‘۔”قوت‘‘ کی تفسیر کی بابت رسول اللہﷺ نے تین بار فرمایا: ”خبردار رہو! طاقت دشمن کے نشانے پر (ہتھیار) پھینکنے کی صلاحیت کا نام ہے‘‘ (مسلم: 1917)۔ اللہ تعالیٰ نے سورۃ العادیات میں قسم کے ساتھ فرمایا: ”اور (میدانِ میں) ہانپتے ہوئے دوڑنے والے گھوڑوں کی قسم، جن کے سموں کی رگڑ سے چنگاریاں اٹھتی ہیں، جو علی الصبح (دشمنوں پر دھاوا بولتے ہیں، جن کی دوڑ سے گَرد اٹھتی ہے اوروہ دشمن کی صفوں میں جا گھستے ہیں‘‘ (العادیات:1 تا 5)۔ علامہ صاحب کہا کرتے تھے: ”آج کے حتف، غوری، ابدالی، ابابیل، شاہین اور طرح طرح کے ہتھیاروں کو رسول اللہﷺ نے اُس دور کے گھوڑوں سے تعبیر فرمایا ہے‘‘۔ایک موقع پر انہوں نے کہا: ”اگر قوم میں کوئی دم خم ہوتا تو اتنا بڑا محسنِ ملّت، محسنِ پاکستان جس نے پاکستان کو ناقابلِ تسخیر دفاع کی صلاحیت عطا کی اور قوم کے لیے عظیم کارنامہ اس لیے انجام دیا کہ اسے غلاموں کی طرح نظر بند کر کے رکھا جائے؟‘‘۔ایک بار کہا: ڈاکٹر صاحب

کے دو خط اِس وقت بھی میری جیب میں ہیں، اس میں انہوں نے اپنا درد بیان کیا ہے: ”میں نے ملک کے لیے کیا کِیا اور قوم نے میرے ساتھ کیا سلوک کیا‘‘۔ ڈاکٹر صاحب نے کہا: ”میں بھوپالی ہوں اور مجھے اس پر فخر ہے کہ نہ ہمارے ہاں کبھی کوئی غدار پیدا ہوا ہے نہ کوئی قادیانی‘‘۔ ڈاکٹر صاحب اس پر ناز کرتے تھے، علامہ خادم حسین کہتے ہیں: ”میری جب ان سے ملاقات ہوئی تو میں نے پوچھا: آپ نے شہاب الدین محمد غوری کے نام پر ہتھیار کیوں بنایا، انہوں نے کہا: میرے اجداد شہاب الدین محمد غوری کی فوج میں بطورِ سپاہی لڑے اور وہ برصغیر میں اسلامی سلطنت کا بانی ہے، مجھے فخر ہے کہ اس کے لشکر میں میرے اکابر لڑتے رہے، میں شہاب الدین محمد غوری کی اولاد میں سے ہوں‘‘۔فٹ پاتھ پر بیٹھ کر انہوں نے ممتاز صحافی سہیل وڑائچ کو جو انٹرویو دیا ہے، وہ اہلِ نظر کو رُلا دینے والا ہے۔ سہیل وڑائچ نے سوال کیا: ”کیا کبھی کسی کام پر پچھتاوا ہوا ہے‘‘، ڈاکٹر صاحب نے کہا: ”ہاں!‘‘ پھر انہوں نے حکومتی برتائو اور اس پر قوم کی بے حسی کی شکایت کی۔ڈاکٹر صاحب نے علامہ صاحب کے متعلق اپنے کالم میں لکھا: ”سب سے بڑے کارکن ختم نبوت، عاشق رسول، اللہ تعالیٰ کے سپاہی، علامہ حافظ خادم حسین رضوی کی وفات کا ذکر کرتا ہوں، آنکھیں آنسوئوں سے نم ہیں، ایسے جانثاران اسلام، عاشق رسول بہت کم پیدا ہوتے ہیں، آپ انسان کے بھیس میں فرشتہ تھے، ان کی

نماز جنازہ میں جتنے بڑے جم غفیر نے شرکت کی، اس کی مثال ملک میں نہیں ملتی، جب ایک دوست نے اس کا ذکر کیا تو میں نے دل میں کہا: اللہ پاک! گنہگار ہوں مگر تیرا بندہ ہوں، میں نے 20 کروڑ مسلمانوں کو حفاظت میسر کی ہے، مجھے ایسی موت اور ایسا جنازہ عطا کرنا، میں خادم حسین رضوی صاحب کو ذاتی طور پر جانتا تھا، یوٹیوب پرمیرے حق میں ان کے بیانات اس کا جیتا جاگتا ثبوت ہیں۔ کراچی میں میری بہن کے گھر کے قریب میرے ایک مخیّر دوست حاجی رفیق پردیسی رہتے ہیں، خادم حسین صاحب وہاں تشریف لائے تو انہوں نے اُس مکان پر غیر معمولی حفاظتی انتظامات دیکھے پوچھنے پر حاجی صاحب نے بتایا: ڈاکٹر عبدالقدیر خان آئے ہوئے ہیں اور اپنی بہن کے پاس ٹھہرے ہوئے ہیں، علامہ خادم حسین نے ملنے کی خواہش کی، حاجی صاحب ان کو لے کر آئے، وہ وِہیل چیئر پر تھے، چہرہ پر رعب اور عشقِ رسولﷺ نمایاں تھا، اُنہوں نے پہلے میرے گھٹنے کو ہاتھ لگائے، پھر مصافحہ کیا، دونوں ہاتھ پکڑ کر چومے، آنکھوں سے لگائے اور کہا: آپ صرف محسن پاکستان ہی نہیں، بلکہ محسنِ اُمت بھی ہیں اور قائداعظم کے بعد کوئی قیامت تک آپ کا مقابلہ نہ کر سکے گا، وہ بہت دیر ٹھہرے، میری چھوٹی مرحومہ بہن نے بھوپالی روایت کے مطابق خاطر مدارت کی، میں یہ ملاقات زندگی بھر نہیں بھول سکتا‘‘۔اب اعلان ہوا ہے: ” ڈاکٹر عبدالقدیر خان کی قبر پر گنبد بنایا جائے گا‘‘، بہت بڑا گنبد تو قائد اعظم کی قبر پر بھی بنا ہوا ہے، لیکن ان کی فکر و نظر کا پیکر پاکستان سلامت نہ رہا، (خاکم بدہن) خدشہ ہے: کہیں ڈاکٹر صاحب کا بنایا ہوا ہتھیار بھی خطرے سے دوچار نہ ہوجائے اور صرف گنبد ہی رہ جائے۔

Comments are closed.