کپتان جی : کاش آپ ایماندار ہونے کے ساتھ ساتھ عقلمند بھی ہوتے ۔۔۔۔۔

لاہور (بلاگ ) وزیراعظم عمران خان نے احساس پروگرام کے تحت اپنی توجہ پھر پاکستان کے بڑے شہروں میں لنگرخانے بنانے پر مرکوز کردی ہے ، اس منصوبے کے تحت غالباً اسلام آباد یا راولپنڈی میں پہلا لنگر خانہ کھل بھی چکا ہے اور جلد یہ کام دوسرے شہروں میں بھی شروع ہونے والا ہے ۔۔

ہمیں اس اقدام پر کوئی اعتراض نہیں ،لیکن حقائق کو دیکھیں تو غربت ، بے روزگاری اور مہنگائی کی ستائی قوم کو لنگر خانوں کے لالی پاپ سے بہلانے کا فیصلہ ایک ایماندار حکمران تو کر سکتا ہے مگر ایک دوراندیش اور بہترین ومثالی حکمرانی ایسے فضول فیصلے کبھی نہیں کرتا ۔۔۔ پاکستان ایسا ملک ہے جہاں لاکھ برائیوں و خرابیوں کے باوجود ہزاروں اچھائیاں بھی موجود ہیں ، ان میں سے ایک اچھی بات یہ بھی ہے کہ پاکستان کے تمام بڑے شہروں کراچی ، لاہور ، راولپنڈی ، پشاور ، فیصل آباد ، سرگودھا وغیرہ میں مخیر اور انسانیت کا درد رکھنے والے لوگ اپنے خرچ پر یا اپنی مدد آپ کے تحت سینکڑوں لنگر خانے چلا رہے ہیں ، ان لنگر خانوں پر بلاناغہ ہر روز کہیں دن میں ایک بار تو کہیں دو بار لنگر تقسیم ہوتا ہے ، آندھی ہو یا طوفان ، ملکی حالات جیسے بھی ہوں ، ان لنگر خانوں پر اللہ کے دیے رزق کی تقسیم میں کبھی رکاوٹ نہیں آئی ، لیکن اب عمرانی سرکار باقی سارے کام چھوڑ کر اس کام کے پیچھے پڑ گئی ہے ، اور وہ بھی ایسی جگہوں پر جہاں یہ اقدام صرف سرکاری پیسے کا ضیاع ثابت ہو گا ، ان علقمندوں کو کون سمجھائے کہ بھائی یہ کام کرنا ہے تو سندھ کے صحراؤں میں جا کر شروع کرو، جہاں ہر سال ہزاروں بچے بھوک اور قحط سے انتقال کر جاتے ہیں ، جہاں سینکڑوں میل تک روزگار کے ذرائع نہ ہونے کی وجہ سے لوگوں کے پاس اپنا اور بچوں کا پیٹ بھرنے کے لیے کچھ نہیں ہوتا ، لنگر خانوں کی ضرورت تو ایسے دوردراز علاقوں میں ہے ، لاہور کراچی راولپنڈی سرگودھا فیصل آباد پشاور جیسے بڑے شہروں میں کبھی کوئی بھوکا سویا اور نہ بھوک سے جان بحق ہوا ۔۔۔۔ مشورہ دینا ہمارا فرض باقی جیسے ان عقلمندوں کی مرضی ۔۔۔ کیونکہ کرتے تو یہ اپنی مرضی ہی ہیں ۔۔۔۔(ش س م)

Sharing is caring!

Comments are closed.