کپتان دشمنوں کے نشانے پر :

لاہور (ویب ڈیسک) نامور کالم نگار اور پاک فوج کے ریٹائرڈ افسر لیفٹیننٹ کرنل (ر) غلام جیلانی خان اپنے ایک کالم میں لکھتے ہیں ۔۔۔۔۔۔پاکستان کی مشکلات کا ایک پہلو یہ بھی ہے کہ انڈیا تو شروع ہی سے امریکہ کے ساتھ تھا اور پاکستان کے درپے تھا۔ ہمارے وزیراعظم نے کھل کر جو انٹرویو دیئے ہیں

اور ان میں اپنے خیالات کا اظہار کیا ہے وہ بھی مغربی دنیا کو ایک آنکھ نہیں بھائے۔ خدا عمران خان کو سلامت رکھے۔ مغربی دنیا کا یہ وتیرہ ہے کہ وہ تیسری دنیا کے ہر ابھرتے سیاسی دماغ کو ٹھکانے لگانے سے گریز نہیں کرتے۔ پاکستان ماضی میں ایک سے زیادہ بار اس مغربی ہتھکنڈے کا شکار ہو چکا ہے۔ گزشتہ دو برسوں میں امریکہ نے ایران کی دو معروف شخصیات (جنرل قاسمی اور سائنس دان فخری زادہ) کو جو نشانہ بنایا ہے وہ ہمارے لئے چشم کشا ہونا چاہیے۔ امریکہ اور اس کے یورپی حواری دل و جان سے اس کے ساتھ ہیں بلکہ اب تو ایشیائی / مشرقی حواری (انڈیا، جاپان اور آسٹریلیا) بھی اس کے ساتھ مل چکے ہیں اور ایک چہارگانہ (QUAD) اتحاد بنا چکے ہیں بلکہ اس سے بھی آگے AUKUS کی طرح ڈال دی گئی ہے۔ ان بین الاقوامی اتحادوں / جتھوں کا مقابلہ آسان نہیں۔ ان کی راہ میں جو بھی آتا ہے اس کو ٹھکانے لگانے کا بندوبست شروع ہو جاتا ہے…… پاکستان کی انٹیلی جنس ایجنسیوں کو اس سلسلے میں غیر معمولی طورپر ہشیار رہنا ہوگا۔ مغرب اس جنوب ایشیائی خطے (بشمول انڈیا) میں آگے بڑھ کر مغربی دنیا کا کوئی نیا حریف دیکھنا نہیں چاہتا۔ایک عرصے سے میں یہ بھی محسوس کر رہا ہوں کہ مغرب کی ٹریک ٹو ڈپلومیسی، ایران کے ساتھ گھی کھچڑی ہو رہی ہے۔ ہمارا بلوچستان مغرب کی طرف سے سینکڑوں کلومیٹر تک ایران کے ساتھ ملحق ہے اور شمالی بلوچستان (شمال مغربی بلوچستان) کی باؤنڈری بھی افغانستان کے علاوہ بلوچستان سے ملحق ہے۔ فراہ اور نیمروز کے افغان صوبے بالخصوص ایرانی اثرات سے متاثر ہیں۔ ہمارے خاران، مکران اور تربت کے علاقے ایک لمبے عرصے سے بدامنی کی زد میں ہیں۔

ہر روز نہ کسی پاکستانی پوسٹ پر اٹیک ہوتا ہے اور ہمارے ٹروپس قربان ہو جاتے ہیں۔ یہ درست ہے کہ شرپسند بھی واصل جہنم ہوتے ہیں لیکن پاکستان کی ریگولر فورسز اس اٹریشن (Attrition)کی متحمل نہیں ہو سکتیں (اٹریشن کا مطلب یہ ہے کہ دشمن کے وار سے بظاہر خفیف سے جانی اور مادی نقصانات ہوتے ہیں۔ مثلاً ایک سپاہی جان سے گیا اور دو زخمی ہو گئے یا ایک آفیسر کی زندگی چلی گئی اور فوجی گاڑیاں تباہ ہو گئیں۔ لیکن جب ان ’خفیف‘ نقصانات کا سالانہ حساب لگایا جاتا ہے تو یہ نقصانات ”کثیر“ہوجاتے ہیں۔ یہی اٹریشن، ملک کی فورسز کی کمر توڑ دیتی ہے)۔شرپسندوں نے شمالی بلوچستان میں مستونگ کو اپنا ٹھکانہ بنا رکھا ہے…… میں ان علاقوں میں 5سال تک گھومتا پھرتا رہا ہوں۔ مستونگ میں میرا ایک کزن واپڈا میں اوورسیئر تھا جس کو ملنے ہم ہر ہفتے کوئٹہ سے مستونگ آتے جاتے تھے جو کوئٹہ سے صرف 40کلومیٹر کے فاصلے پر واقع ہے۔ اس زمانے میں (1980ء کے عشرے کے وسط میں) بھی مستونگ میں اکا دکاشرپسندی کے واقعات ہوتے تھے اور مستونگ شہر کے آس پاس کا علاقہ تخریب کاروں کی پناہ گاہوں اور ہتھیاروں کی ذخیرہ گاہوں کے لئے ایک آئیڈیل لوکیشن تھی (اور ہے) لیکن آج کل یہ شرپسند افغانستان سے آ رہے ہیں لیکن تربت اور گوادر کے علاقوں میں جو شرپسندانہ کارروائیاں ہو رہی ہیں ان کے لئے ایران کی سرزمین استعمال ہو رہی ہے۔ ابھی کل ہی ہمارا جو ایک سپاہی وطن پر قربان ہوا ہے اور دوسرا زخمی ہوا ہے، اس کارروائی کے پیچھے ان تخریہ کاروں کا ہاتھ تھا جو ایرانی بلوچستان سے آئے تھے۔ کراچی۔گوادر میرین روڈ پر بانیء پاکستان کے مجسمے کو اڑا دینا بھی ان لوگوں کی کارروائی ہے جن کے ٹھکانے بلوچستان میں ہیں۔ پاک بلوچستان سرحد کی جنگلہ بندی کا بہت سا کام مکمل ہو چکا ہے لیکن جب یہ تکمیل کو پہنچ بھی گیا تو پاک افغان سرحد کی طرح یہ سرحد بھی ایک ’پورس سرحد‘ رہے گی۔ پاکستان نے ایران سے رابطہ کرکے ان کے اربابِ اختیار کو بتایا ہے کہ ان کی سرزمین پاکستان کے خلاف استعمال کی جا رہی ہے۔ لیکن دیکھیں اس کا نتیجہ کیا نکلتا ہے۔ ایران اور پاکستان کے تعلقات کی یہ سرد مہری پاکستان کا ایک اور دردِسر ہے۔ امریکہ اپنی سی کوشش کرے گا کہ ایران پر لگی پابندیوں کو نرم کر دے اور جیسا کہ میں نے سطور بالا میں لکھا ہے آج کل ٹریک ٹو ڈپلومیسی میں امریکہ۔ ایران تعلقات کا معاملہ بڑی شد و مد سے ڈسکس کیا جا رہا ہے۔پاکستان اپنی مغربی سرحد پر بے فکر ہونے کا جو گمان، تالبان کی نئی حکومت کی آمد پر رکھتا تھا، میرے اندازے کے مطابق وہ تحلیل ہوتا جا رہا ہے۔

Comments are closed.