کپتان ڈیوڈ ویزے کے حوالے سے کچھ حقائق آپ کو حیران کر دیں گے

لاہور (ویب ڈیسک) منگل کو ہونے والے مقابلے میں پاکستان نے نمیبیا کو آسانی سے ہرا دیا ہے ۔آپ کو بتاتے چلیں کہ نمیبیا ک پاکستان نے نے تاریخ میں صرف ایک بار سامنا کیا ہے، اور وہ بھی 50 اوورز کے فارمیٹ میں آج سے 18 برس قبل۔وہ ٹیم ہے نمیبیا، جو کہ

برِ اعظم افریقہ کے جنوبی حصے میں واقع ہے اور اسے صرف دو برس قبل انٹرنیشنل کرکٹ کونسل کی جانب سے ایک روزہ اور ٹی ٹوئنٹی میچوں کا سٹیٹس دیا گیا تھا۔اگر دنیا کے نقشے کو دیکھیں تو پاکستان اور نمیبیا رقبے کے اعتبار سے بالترتیب دنیا کے 33ویں اور 34ویں بڑے ممالک ہیں۔ لیکن اگر آبادی کے حساب سے جائزہ لیا جائے تو پاکستان دنیا کا پانچواں بڑا ملک ہے جبکہ نمیبیا صرف 25 لاکھ آبادی کے ساتھ دنیا کا 140واں بڑا ملک ہے۔تاہم اگر کرکٹ کی صلاحیتوں کی بات کی جائے تو ان دونوں ٹیموں کا بظاہر قطعی کوئی مقابلہ نہیں ہے۔پاکستان دنیائے کرکٹ کے بڑی ٹیموں میں سے ایک ہے اور وہ ٹی ٹوئنٹی فارمیٹ میں دنیا کی مضبوط ترین ٹیموں میں شامل ہے۔ موجودہ ورلڈ کپ میں پاکستان نے انڈیا، نیوزی لینڈ اور افغانستان کو شکست دی ہوئی ہے اور اب گروپ میں سر فہرست ہے۔دوسری جانب نمیبیا ورلڈ کپ کے پہلے مرحلے میں گروپ اے کا حصہ تھی جہاں اس کا سامنا سری لنکا، آئرلینڈ اور نیدرلینڈ سے تھا اور توقع یہ تھی کہ وہ اپنے گروپ میں کوئی میچ نہ جیت سکے، لیکن انھوں نے تمام ماہرین کو حیران کر دیا اور آئرلینڈ اور نیدرلینڈ کو شکست دے کر سپر 12 میں جگہ بنا لی۔تو ایسے میں یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ نمیبیا کی ٹیم اتنی کامیاب کیسے ہو گئی، ان کی کرکٹ کی تاریخ کیا ہے، وہ کیسے اپنے حریفوں کو سخت مقابلہ دے رہے ہیں اور جنوبی افریقہ کے ڈیوڈ ویزے ان کے ساتھ کیوں کھیل رہے ہیں؟

اپنی آزادی سے قبل نمیبیا جنوبی افریقہ کا حصہ تھا اور جنوب مغرب افریقہ کی حثییت سے جنوبی افریقہ کے مقامی مقابلوں میں شرکت کرتا تھا۔البتہ 1990 میں آزادی اور پھر 1992 میں آئی سی سی کا ایسوسی ایٹ رکن بننے کے بعد انھوں نے بطور نمیبیا کرکٹ کھیلنی شروع کر دیا۔ جنوبی افریقی انفلوئنس کے باعث یہ کھیل وہاں کافی مقبول رہا لیکن اس میں زیادہ تر شرکت، جنوبی افریقہ کی طرح، سفید فام کھلاڑیوں کی زیادہ تھی۔نمیبیا کے لیے سب سے اہم لمحہ وہ تھا جب ان کی ٹیم نے 2003 میں ہونے والے ورلڈ کپ کے لیے کوالی فائی کر لیا جو کہ جنوبی افریقہ اور زمبابوے میں منعقد ہوا تھا۔اس ورلڈ کپ میں انھوں نے اپنے پہلے ایک روزہ میچ کھیلا جو کہ زمبابوے کے خلاف تھا اور مجموعی طور پر اس ورلڈ کپ میں انھوں نے چھ میچ کھیلے اور سب میں انھیں شکست ہوئی جن میں سے ایک پاکستان کے خلاف تھی جس نے انھیں 171 رنز سے ہرایا۔لیکن اس ورلڈ کپ کے بعد وہ ایسوسی ایٹ ممالک کی فہرست میں نیچے گرتے گئے اور ان کا مستقبل تاریک ہوتا نظر آیا۔لیکن جب انھیں 2017 میں جنوبی افریقہ کے فرسٹ کلاس مقابلوں میں شرکت کرنے کا موقع ملا تو ان کی کرکٹ میں بہتری آنا شروع ہوئی۔اگلے سال جب آئی سی سی نے تمام ایسوسی ایٹ ممالک کو ٹی 20 سٹیٹس دیا تو اس کے بعد نمیبیا نے جنوبی افریقہ کے پئیر ڈی برئون کو بطور کوچ منتخب کیا جنھوں نے ٹیم کو مضبوط بنانے کے لیے بڑی تگ و دو کی۔

جنوبی افریقہ کے سابق فاسٹ بولر ایلبی مورکل اس وقت نمیبیا کے پارٹ ٹائم کوچ ہیں اور انھوں نے کرک انفو ویب سائٹ کو اپنے انٹرویو میں بتایا کہ نمیبیا میں کرکٹ ایک ختم ہوتا ہوا کھیل تھا لیکن ان کے دوست پئیر ڈی برئون نے اس ٹیم کو سہارا دیا۔نمیبیا کرکٹ نے اپنی ٹیم کو مضبوط بنانے کے لیے مزید دو جنوبی افریقی کھلاڑیوں کی مدد لی لیکن یہ دونوں ٹیم کا حصہ بنے۔آل راؤنڈر ڈیوڈ ویزے دنیا بھر کی مختلف ٹی ٹوئنٹی لیگز میں کھیلتے آ رہے تھے اور پاکستانی شائقین انھیں لاہور قلندرز کے سٹار کھلاڑی کے طور پر جانتے ہیں۔لیکن لمبی زلفوں والے ویزے کو اندازہ تھا کہ وہ جنوبی افریقہ کی جانب سے چھ چھ ایک روزہ میچ اور 20 ٹی ٹوئنٹی کھیلنے کے باوجود ٹیم کا مستقل رکن نہیں بن پائیں گے تو انھوں نے اپنے دوسرے پاسپورٹ کی بنا پر نمیبیا سے کھیلنا شروع کر دیا۔بی بی سی سپورٹس سے گفتگو کرتے ہوئے نمیبیا کے سب سے اہم کھلاڑی ویزے نے بتایا کہ ان کے والد کا تعلق نمیبیا سے ہے اور جنوبی افریقہ کے لیے منتخب ہونے سے قبل بھی وہ نمیبیا کے کرکٹ بورڈ سے رابطے میں تھے۔اس ورلڈ کپ میں ویزے نے ٹیم کی جانب سے سب سے زیادہ رن بنائے ہیں اور 135 کے سٹرائیک ریٹ کے ساتھ وہ ایک بہترین فنشر کے طور پر جانے جاتے ہیں۔دوسرے اہم جنوبی افریقہ کھلاڑی 23 سالہ روبن ٹرمپلمین ہیں جنھوں نےصرف اس سال ٹی ٹوئنٹی ڈیبیو کیا ہے لیکن ان کی صلاحیتوں کے سب معترف ہیں اور توقع ہے کہ وہ مستبقل میں نمیبیا کے لیے بڑا اہم کردار ادا کر سکتے ہیں۔گرہارڈ ایراسمس کی قیادت میں کھیلنے والی نمیبیا کی اس ٹیم کی واضح اکثریت سفید فام کھلاڑیوں پر مشتمل ہے لیکن پلئینگ الیون میں لنگامینی اور یا فرانس کو مسلسل کھیلنے کا موقع مل رہا ہے۔پاکستان نے 2003 کے ورلڈ کپ میں جنوبی افریقہ کے کمبرلی شہر میں نمیبیا کا پہلی بار سامنا کیا تھا جو کہ آج سے پہلے دونوں ممالک کے درمیان واحد میچ ہے۔یہ میچ پاکستان کے سابق کپتان اور آل راؤنڈر وسیم اکرم کے لیے بہت یادگار رہا کیونکہ اس میں میں انھوں نے نہ صرف 14 گیندوں پر 20 رنز بنا کر پاکستان کو 255 کا سکور حاصل کرنے میں مدد دی۔بلکہ اس کے بعد انھوں نے اپنے کرئیر کا آخری مین آف دا میچ کا اعزاز بھی حاصل کیا جب بولنگ کرتے ہوئے انھوں نے نو اوور میں 28 رنز دیے اور پانچ وکٹیں حاصل کیں۔ان کی اس کارکردگی کی مدد سے پاکستان نے میچ 171 رنز سے جیت لیا تھا۔(بشکریہ: بی بی سی )

Comments are closed.