کپتان کا جادو چل گیا : وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ نے ٹائیگر فورس کے حوالے سے اچانک حیران کن فیصلہ کر لیا

کراچی(ویب ڈیسک) سندھ حکومت بلاآخر مان گئی ، عمران خان کی قائم کردہ ٹائیگر فورس کے حوالے سے بڑا فیصلہ کر لیا ، حکومت نے صوبہ میں دکانیں اور بازار کھولنے کیلئے پلان ترتیب دیدیا جبکہ ماہی گیری کی بھی مشروط اجاز ت بھی دیدی ہے ۔ذرائع کے مطابق سندھ حکومت نے تاجر رہنماؤں کی

مشاورت سے پلان مرتب کیا ہے جس میں کراچی کے تجارتی مراکز اور دکانیں کھولنے کیلئے 13 شعبوں کا تعین کیا گیا ہے، بنیادی طور پر کاروبار کی نوعیت کے لحاظ سے 13 سیکٹرز کو تین درجوں میں تقسیم کیا گیا، ہر درجے میں شامل شعبہ ہفتہ میں دو روز کیلئے کھولا جائے گا۔پلان کے مطابق پہلے درجے میں چار، دوسرے میں چار اور تیسرے درجہ میں پانچ شعبے شامل ہیں۔ بازار اور دکانیں دن میں 8 گھنٹے کے لیے کھولے جائیں گے۔ کریانہ، مرغی و گوشت کی دکانیں اور بیکریاں ہفتے میں دو روز بند رکھنے کی تجویز سامنے آئی ہے۔صرف دودھ، سبزی پھل کی دکانوں اور میڈیکل اسٹورز کو پورا ہفتہ کھولنے کی اجازت ہوگی۔بازار اور دکانیں کھولنے کے لیے ایس او پی بدھ تک تیار کرلیا جائے گا۔ ایس او پی کی خلاف ورزی کرنے والے بازار سیل کردئیے جائیں گے۔ سندھ حکومت عید شاپنگ کے لئے 15 رمضان کے بعد مزید نرمی کرے گی۔ عید شاپنگ کے لیے نرمی انتظامیہ سے تعاون اور ایس او پی پر عمل درآمد سے مشروط ہوگی۔پبلک ٹرانسپورٹ کے لیے بھی جلد نرمی کا اعلان کیا جائے گا اور سندھ حکومت کے تمام ایس او پیز پر عمل کرنا لازمی ہوگا تاہم پلان پر عملدرآمد وزیراعلیٰ سندھ کی اجازت سے مشروط ہے۔ محکمہ جنرل ایڈمنسٹریشن کی جانب سے ڈپٹی کمشنرز کوبھی ٹائیگر فورس کو ریلیف سرگرمیوں میں شامل کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔دوسری جانب سندھ حکومت نے وزیراعظم کی ٹائیگر فورس کو ریلیف مہم میں شامل نہ کرنے کا فیصلہ کرتے ہوئے چیف سیکرٹری کے خط سے لاتعلقی کا اظہار کر دیا ہے۔صوبائی وزیر امتیاز شیخ نے کہاہے کہ سندھ ریلیف آپریشن کوغیر سیاسی رکھا گیا ہے۔ مستحقین تک راشن کی ترسیل شفاف طریقے سے کی جا رہی ہے۔ کسی بھی سیاسی جماعت کا ورکر ریلیف آپریشن کا حصہ نہیں، ٹائیگر فورس سیاسی ورکروں پر مشتمل ہے۔ تمام کمیٹیاں، این جی اوز اور لیڈی ہیلتھ ورکرز آپریشن کا حصہ ہیں۔ سیاسی جماعت کی فورس یا ورکر کو ریلیف آپریشن کا حصہ نہیں بنایا جا سکتا۔ ڈپٹی کمشنرز کو اس قسم کی کوئی ہدایت جاری نہیں کی گئیں۔ کسی بھی پارٹی کی سیاسی فورس ہو، اسے شامل نہیں کریں گے۔سیاسی ورکروں پر مشتمل ٹائیگر فورس کو شامت کیا تو جماعت اسلامی، (ن) لیگ والے بھی کہیں گے ہمارے ورکرز کوبھی شامل کیا جائے۔امتیاز شیخ نے کہا کہ دعویٰ کیا کہ ہمارے پاس اتنے ورکرز ہیں، کسی پارٹی کے ورکرز کی ضرورت نہیں، یہ وہی ڈپٹی کمشنر ہیں جن کو وزیراعظم استعمال کر رہے ہیں۔

Sharing is caring!

Comments are closed.