کپتان کا سارا ٹبر چور :

لاہور (ویب ڈیسک) نامور کالم نگار ڈاکٹر ابراہیم مغل اپنے ایک کالم میں لکھتے ہیں ۔۔۔۔۔۔۔سچ تو یہ ہے کہ پاکستان کی اقتصادی پالیسی کو درست کرنا ہے تو عالمی مالیاتی اداروں کی پالیسیوں کے خلاف ہمیں جانا پڑے گا۔ اس کے لیے ہمیں اپنی صنعتوں کو بہتر بنانا ہوگا، اس کے علاوہ

نجکاری اور نیولبرل ایجنڈے کو مسترد کرنا ہوگا اور ملک کو معاشی طور پر خود کفیل بنانا پڑے گا کہ پھر ہمیں ان اداروں کا دست نگر نہ ہونا پڑے۔ سادہ سا سوال ہے کہ یہ سب کیسے ممکن ہے؟ اس سوال کے جواب تلاش کرنے کے لیے حکومت کو اپنی معاشی پالیسی کے اہداف کا واضح تعین کرنا پڑے گا۔تلخ ز مینی حقائق یہ ہیں کہ وفاقی کابینہ کی تعداد 51 ہو گئی ایک درجن سے زائد غیرمنتخب شخصیات امریکن، برٹش نیشنل بھی شامل۔ مجموعی طور پر قومی اسمبلی کے کل 342 ایم این اے، جس میں تقریباً 50 فیصد اپوزیشن ارکان ہیں۔ باقی حکومتی 171 میں 51 وزرا، جس کا مطلب کہ ہر تیسرا ممبر وزیر ہے۔ کیا کمال سادگی ہے اور کیا کمال وزارتیں۔ رولرز نے پاکستانیوں کورلادیا ہے بلکہ رول کرکے رولر پھیر دیا ہے۔ مزے لو تبدیلی کے۔اب یہی کچھ تو کہنے کا رہ گیا ہے۔ پی آئی اے خسارہ، ریلوے خسارہ، سٹیل مل بند، بے روزگاری عروج پر، مہنگائی عروج پر بلکہ آسمان کو چھو رہی ہے تو وزرا صرف بھینسوں سے دودھ حاصل کرنے پر مامور ہیں۔ اور یہ بھی بتادوں کہ حکومت میں شامل غیرمنتخب افراد تقریباً سارے دیگر بیرون ممالک کی نیشنلٹی رکھتے ہیں اور حکومت دراصل یہی لوگ چلارہے ہیں! باقی سارے نمونوں کو بٹھایا ہوا ہے اوریہ سمجھتے ہیں کہ حکومت ہم چلا رہے ہیں! حالانکہ ان کو استعمال کیا جارہا ہے۔ یہ سب غریب اور سفید پوش لوگ ہیں، انہیں بھی تجوریاں بھرنے کا موقع ضرور ملنا چاہیے تاکہ ان کی نسلیں بیرونِ ملک عیاشیاں کرسکیں۔دوسری طرف شریف برادران نے ہمیں صحیح بیوقوف بنایا ہوا تھا 450 والا چکن 200 روپے میں، 100 والی چینی 52 روپے میں، 280 والا گھی 145 روپے میں، 110 والا پٹرول 65 روپے میں، آٹا 1500 والا تھیلا تقریباً 900 روپے میں۔ نیازی حکومت نے غریب پاکستانی اور پاکستان کی معیشت دونوں کا کچومر نکال دیا۔ وہ فراڈیا شخص کب کا چلا گیا جو بول رہا تھا اگر ہمیں حکومت ملی تو کابینہ 17 سے زیادہ نہیں ہوگی۔ میرے کپتان! آپ کی کس بات پر یقین کرنا ہے۔ تاریخ میں آپ کا نام درج کرانے کے لیے کوئی نیا خانہ بنانا پڑے گا۔ بات رنگیلا، یوٹرن، مکار، وغیرہ سے بہت آگے نکل گئی ہے۔دودھ کی رکھوالی بلے کے حوالے: خزانے سے حفیظ شیخ نکلا، ادویات سے عامر کیانی نکلا، چینی سے جہانگیر ترین نکلا، کے الیکٹرک سے عارف نقوی نکلا، آٹے سے خسروبختیار نکلا، پٹرول سے ندیم بابر نکلا، پیزے سے پاپا جونز نکلا، چندے سے علیمہ باجی نکلی، کورونا میڈیسن و ماسک سے ڈاکٹر ظفرمرزا نکلا، ہائوسنگ سوسائٹیز سے علیم خان نکلا، رنگ روڈ سے زلفی بخاری نکلا، آگے آگے دیکھئے کیا کیا نکلے گا۔۔۔ سارا ٹبر چور۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *