کپتان کو نتائج سے پیشگی آگاہ کر دیا گیا

لاہور (ویب ڈیسک) پی ڈی ایم نے پہلے جلسے کے لئے گوجرانوالہ کا انتخاب کر کے حکومت کو چاروں شانے چت کر دیا ہے کہ گوجرانوالہ لاہور سے صرف ساٹھ کلومیٹر کے فاصلے پر ہے اوریہاں اپوزیشن کو کسی بھی دوسرے شہر کی نسبت بہت سٹرانگ میڈیا کوریج مل سکتی ہے۔

نامور کالم نگار نجم ولی خان اپنے ایک کالم میں لکھتے ہیں ۔۔۔۔۔جوں جوں وقت گزرتا جا رہا ہے حکومت کے پاس کھیلے جانے کے پتے کم ہوتے چلے جا رہے ہیں۔ حکومت نے اس امر پر بھی رپورٹس طلب کی ہیں کہ اگر جلسے پرکرونایا بدامنی کے خدشے کی بنیاد پر پابندی لگا دی جائے تو اس کا نتیجہ کیا نکلے گا۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ اگر حکومت نے ایسا کیا تو اسے بڑے پیمانے پر بہت سارے شہروں میںکریک ڈاو¿ن کرنا پڑے گا اور اپوزیشن کے متحرک کارکنوں کو گرفتار کرناپڑے گا مگر اس کے باوجود وپولیٹیکل ایکٹیویٹی کو نہیں رک سکے گی ۔ذرائع کا کہنا ہے کہ اس کے لئے حکومت کومریم نواز شریف کو بھی گرفتار یا کم از کم نظربند کرنا پڑے گا اور اس خبر کی اہمیت بین الاقوامی ہوجائے گی۔ اپوزیشن اس موقعے پر حکومت کی توجہ مہنگائی اور بیڈ گورننس کے بجائے اپنے سے مقابلے پر لگانے میں بھی کامیاب ہو رہی ہے لہٰذا سیاسی عدم استحکام کے نتیجے میں مہنگائی مزیدبڑھے گی۔ جلسہ ہو یا کریک ڈاو¿ن ہودونوں کے نتیجے میں سرمایہ کاری کرنے والوں میں عدم اطمینان اور عدم اعتماد بڑھے گا اور دو برسوں میں ناقص ترین کارکردگی کا مظاہرہ کرنے والی حکومت کے ہاتھ پاو¿ں پھولنے کے بعد اس امر کا کوئی امکان نہیں رہے گاکہ وہ کسی ترقیاتی منصوبے یا عوامی ریلیف کے پروگرام سے عوام کو مطمئن کرسکے۔ دوسری طرف پہلا کامیاب جلسہ اپوزیشن کے حوصلے بلند کر دے گا اور وہ زیادہ اعتماد کے ساتھ اس لانگ مارچ

کی طرف بڑھ سکے گی جس کے نتیجے میں اسمبلیوں سے استعفوں اور حکومت کی رخصتی کی امید لگائی جا رہی ہے۔ ایک دلچسپ صورتحال یہ بھی ہے کہ صرف اپوزیشن ہی نہیں بلکہ حکومت بھی چاہتی ہے کہ تحریک کا رخ اداروں کی طرف رہے۔اپوزیشن ،نواز شریف کی تقریر کے بعد ،یہ اس لئے چاہتی ہے کہ وہ جانتی ہے کہ اسی کے ذریعے نتائج حاصل کئے جا سکتے ہیں۔ بلاول بھٹو زرداری نے اگرچہ تحریک عدم اعتماداور ان ہاؤس تبدیلی کا آپشن بھی اوپن رکھا ہے مگر مسلم لیگ نون اور جے یو آئی کے نزدیک یہ بوجودممکن نہیں ہے۔شاہدرہ لاہور والے غداری اوربغاوت کے مقدمے میں حکومت نے لاتعلقی کا اظہار کر کے اپوزیشن کی اسی حکمت عملی کو تقویت دی ہے مگراس کا دوسرانتیجہ یہ نکلے گاکہ تھوڑے ہی عرصے کے بعد حکومت مزیدغیر متعلقہ اور غیر اہم ہوتی چلی جائے گی اور یہ صورتحال کسی طور پر بھی حکومت اور اداروں کے مفاد میں نہیں ہوگی۔میں ذاتی طور پر سمجھتا ہوںکہ سیاسی تحریکوں میں اداروں کو کم سے کم ڈسکس ہونا چاہئے اور سیاسی بوجھ ہمیشہ سیاسی اداروں کو ہی اٹھانا چاہئے مگر مسئلہ یہ ہے کہ اداروں کی نمائندگی جس سیاسی قوت نے کرنی ہے اگر اسے اداروں کی سپورٹ نہ ہو تو اس کی اپنی ٹانگوں میں اتنا دم خم ہی نہیں کہ تین ماہ بھی بطور حکومت کھڑ ی رہ سکے۔ بعض اوقات یہ بھی ہوتا ہے کہ آپ جس گھوڑے پر سواری کرنا چاہ رہے ہوتے ہیں وہ گھوڑا اپنا بوجھ بھی آپ پر لاد دیتا ہے ، ایسے گھوڑے کو اٹھا کے سفر ناممکن ہوجاتاہے۔

Sharing is caring!

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *