کپتان کے نورتن اس ملک کو کہاں لے جا کھڑا کرنے والے ہیں ؟

لاہور (ویب ڈیسک) نامور کالم نگار نسیم شاہد اپنے ایک کالم میں لکھتے ہیں ۔۔۔۔بابا جی کا کہنا ہے بعض حکومتی شخصیات کو کسی اچھے ٹیوشن سنٹر میں بھیجنے کی اشد ضرورت ہے، تاکہ وہ کم از کم ایسی بونگیاں تو نہ کریں جیسی نالائق شاگرد کرتے ہیں۔ بابا جی بھی درست کہتے ہیں

، جب کوئی میٹرک پاس گورنر کے منصب پر فائز ہو جاتا ہے تو بیٹھے بٹھائے یونیورسٹیوں کا چانسلر بھی بن جاتا ہے۔ اس کی دستخط شدہ ڈگریاں بی اے سے لے کر پی ایچ ڈی تک ہوتی ہیں، اب ایسے میں اگر وہ کوئی عجیب و غریب بقراطی جھاڑے تو سننے والوں کے چودہ طبق روشن ہو جاتے ہیں۔ سندھ کے گورنر عمران اسماعیل نے چند روز پہلے یہ انکشاف کرکے پاکستان کے تاریخ دانوں کو شدید مغالطے میں ڈال دیا کہ نوابزادہ لیاقت علی خان کے ساتھ سانحہ کراچی میں ہوا تھا۔ پھر اسی پر بس نہیں کیا اور کہا وہ کراچی کے بیٹے تھے، کراچی پر نثار ہو گئے۔عمران اسماعیل اسلام آباد کا آئے روز چکر لگاتے رہتے ہیں، راولپنڈی کے لیاقت باغ کا بھی انہوں نے یقینا ذکر سن رکھا ہوگا،بلکہ اپوزیشن کے دور میں وہاں عمران خان کے ساتھ جلسے بھی دیکھے ہوں گے، بچے بچے کو معلوم ہے لیاقت علی خان کا سانحہ راولپنڈی میں ہوا، مگر عمران اسماعیل اس بات سے لاعلم نکلے۔ سیانے کہتے ہیں کسی بات کا علم نہ ہو تو خاموش رہنا ہی بہتر ہے، تاہم اس حکومت میں ایک سے بڑھ کر ایک نابغہ موجود ہے۔ حسیناؤں کے بارے میں کہا جاتا ہے، ان کی شکل خوبصورت،آواز بھدی اور گفتگو عامیانہ ہو تو ان کی ساری خوبصورتی غارت ہو جاتی ہے۔ اسی طرح بڑے بڑے عہدوں پر متمکن حکومتی شخصیات خاموش رہیں تو ان کا بھرم قائم رہتا ہے۔ بولیں تو ایسا چھپڑ پھاڑتی ہیں کہ شرم کا پانی ٹپ ٹپ برسنے لگتا ہے۔

مزیداری کی بات یہ ہے ایک صریحاً غلط بات کرنے کے باوجود ہمارے اکابرینِ حکومت کو ندامت کا احساس تک نہیں ہوتا اور معذرت یا وضاحت تک کرنا گوارا نہیں کرتے۔ گویا ان کی زبان سے جو نکل گیا وہ ایک صیغہ ہے، اسے تسلیم کر دیا ان کی عقل کا ماتم کرتے رہو۔اب ایک نئی پھلچھڑی صوبے کے نہیں بلکہ اسٹیٹ بینک کے گورنر رضا باقر نے چھوڑی ہے۔ چھوڑی بھی اس وزیراعظم کے دور میں ہے جو اپنے دور اپوزیشن میں حکومت کو اس موضوع پر جی بھر کے لتاڑتے رہے ہیں، افسوس اس وقت نوازشریف کو رضا باقر جیسا گورنر اسٹیٹ بینک میسر نہیں تھا، وگرنہ اپوزیشن کی تنقید کا منہ توڑ جواب دیتا۔ لندن میں بیٹھ کے گورنر اسٹیٹ بینک نے روپے کی قدر میں کمی کو اوورسیز پاکستانیوں کے لئے فائدہ مند قرار دیا ہے، کیونکہ اب وہ ڈالر یا پاؤنڈز پاکستان بھیجتے ہیں تو انہیں زیادہ روپے ملتے ہیں، انہوں نے تو یہاں تک کہہ دیا ہے، اوورسیز پاکستانیوں کو پانچ سو ارب روپے زیادہ ملیں گے، یعنی پانچ کھرب روپے۔ مجھے اردو شاعری کا ایک کلاسیکی مصرعہ یاد آ رہا ہے۔ اندھے کو اندھیرے میں بہت دور کی سوجھی، رضا باقر کا کہنا ہے چند لاکھ بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کو فائدہ ہوگا اور یہ نہیں بتایا کتنے کروڑ پاکستانیوں کی جمع پونچی روڑی بن جائے گی۔ پھر یہ بات بھی نہیں بتائی کہ اس زرمبادلہ میں اتار چڑھاؤ سے جو زیادہ روپے ملیں گے ان کی حقیقی قوت خرید کتنی ہوگی۔ روپیہ جب کاغذ بن جائے گا تو اسے جتنا بھی دے دیا جائے، کاغذ ہی رہے گا۔

اگر یہ اچھا فارمولا ہے تو پھر روپے کو مزید گرایا جائے، پانچ سو روپے کا ڈالر کر دیا جائے تاکہ اوورسیز پاکستانی بیٹھے بیٹھے ارب پتی بن جائیں۔ حیرت ہوتی ہے ملک کے اسٹیٹ بینک کا گورنر ایسی بودی دلیل بھی دے سکتا ہے۔ یہ بات اتنی ہی آسان اور فائدہ مند ہوتی تو ہر حکومت اسے دلیل کے طور پر استعمال کرتی۔ پوری ریاست کی معیشت کا بیڑہ غرق کرکے آپ یہ نکتہ نکالیں کہ دیکھو اس کا فائدہ بھی تو ہوا ہے۔کیسے کیسے لوگ اس ملک پر مسلط کئے جا رہے ہیں، جن کی باتوں میں بصیرت نام کی کوئی جھلک دور دور تک دکھائی نہیں دیتی۔ایک عام آدمی کو بھی معلوم ہے کہ پاکستانی معیشت کا دار و مدار درآمدات پر ہے۔ ہماری ادائیگیوں کا توازن ہمیشہ اسء لئے بگڑا رہتا ہے کہ برآمدات کم ہیں اور درآمدات زیادہ، اس لئے ڈالر کا ریٹ بڑھتا ہے تو ہر شے پر اس کا اثر پڑتا ہے۔ پٹرول، بجلی، گیس، ادویات، اشیائے خور و نوش، گھی، چینی، دالیں غرض کون سی شے ہے جس کا اصل یا خام مال ہم درآمد نہیں کرتے۔ ایسے میں کوئی یہ کیسے کہہ سکتا ہے ڈالر کا ریٹ بڑھنے اور روپے کی قدر کم ہونے کا فائدہ بھی ہوا ہے، جن پاکستانیوں کے عزیز و اقارب بیرون ملک سے ڈالر بھیجتے ہوں گے ان کے لئے بھی تو پاکستان میں مہنگائی بڑھ گئی ہے، جس زائد آمدنی کا باقر رضا ذکر کر رہے ہیں، وہ بھی تو اسی مہنگائی کی نذر ہو رہی ہے۔ فائدہ تو انہیں بھی نہیں ہوا، جن کے ڈالرز باہر سے آتے ہیں

اور نقصان 22کروڑ عوام کا ہو رہا ہے، جن کی زندگی آئے روز کی بڑھتی ہوئی مہنگائی نے عذاب بنا دی ہے۔ زخموں پر نمک چھڑکنے کا محاورہ پہلے تو شاید کسی نے سنا ہو حکومتی شخصیات تو اس کا آئے روز عملی مظاہرہ کرتی ہیں۔ یہ سوچے بغیر کہ کیا کہہ رہی ہیں اور اس میں دلیل یا منطق بھی موجود ہے یا نہیں۔ ٹھیک ہے معیشت آپ سے سنبھالی نہیں جا رہی، لیکن زبان تو سنبھال سکتے ہیں، جب کہنے کو کچھ نہیں تو خاموش رہنے میں کیا قباحت ہے۔بعض باتوں کا جواب خاموشی ہی بہتر ہوتا ہے، مگر وہ حکومتی شخصیات ہی کیا جو خاموش رہیں۔ ایک صحافی عاصمہ شیرازی نے کالم لکھا تو سب اس کے جواب میں رطب اللسان ہو گئے، جس نے وہ کالم نہیں بھی پڑھا تھا، پڑھ لیا۔ وہ مطلب نکالے گئے جو شاید لکھنے والی کا مقصود ہی نہ تھے، صرف یہی نہیں وزراء اور ترجمانوں نے وہ کچھ بھی کہہ دیا، جس پر پردہ ڈالنا ضروری تھا۔ اس کالم میں ٹونے سے ملک چلانے کی باتیں تو کی گئی تھیں، مگر کسی کا نام نہیں تھا، یہ کام خود وزیراعظم کے ترجمان شہباز گل نے کر دکھایا۔ اسے کہتے ہیں نادان دوستی کا نتیجہ، شاہ سے زیادہ شاہ کے وفادار، اگر عقل کا دامن چھوڑ دیں تو ان سے زیادہ خطرناک کوئی نہیں ہوتا۔ وزیراعظم کے نورتن کیسے کیسے اور کہاں کہاں لنکا ڈھا رہے ہین، اس کی مثالیں اور بھی بہت ہیں، بلکہ مثالیں ہی مثالیں اور سب ایک دوسرے پر بازی لے جانے کی دوڑ میں سرپٹ دوڑے جا رہے ہیں۔

Comments are closed.