کپوت کے لیے جوڑو نہیں اور سپوت کے لیے چھوڑو نہیں :

لاہور (ویب ڈیسک) زندگی یقیناً شاعری نہیں لیکن اتنی عملی بھی نہیں جتنی ہم نے سمجھ لی ہے ۔میں نے برسوں پہلے ایک قریبی دوست کو یہ مشورہ دیا تھا کہ ’’اپنے بچوں کا اچھا ابا تو ضرور بن لیکن خدا بننے کی کوشش نہ کر‘‘ بچوں کیلئے بنیادی ضرورتوں کا انتظام اور اہتمام کرنا

ہر باپ کی اولین ضرورت ہے ۔نامور کالم نگار حسن نثار اپنے ایک کالم میں لکھتے ہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔ہمارے بہت سے اہل قلم ایسے احمق ’’درویش‘‘ تھے جنہوں نے اس ذمہ داری کو سنجیدگی سے نہیں لیا اور نتیجہ یہ کہ کسی کا بچہ ’’اوبر‘‘ یا رکشہ چلا رہا ہے کسی کا کلرکی کر رہا ہے تو یہ ایک بدصورت انتہا ہے جبکہ دوسری انتہا یہ کہ باپ ہر قسم کا سمجھوتہ صرف اس لئے کر گزرتا ہے کہ اولاد ’’محفوظ‘‘ ہو جائے یہ دونوں انتہائیں ہیں جبکہ ہمیں تو عبادت کرنے یا کھانے میں بھی اعتدال اور میانہ روی کا حکم ہے ۔ہندودانش بھی یہی کہتی ہے کہ ’’کپوت کیلئے جوڑو نہیں اور سپوت کیلئے چھوڑو نہیں ‘‘ کہ کپوت کیلئے جو کچھ بھی جوڑو گے وہ اسے برباد کرکے رکھ دے گا اور سپوت کیلئے عمدہ اچھی تعلیم اور تربیت ہی بہت کافی ہو گی وہ اپنی دنیا خود بنا لے گا۔شاعروں کی اپنی ہی دنیا ہے اور میرے نزدیک زندگی کو شعری اور عملی کا پیوند ہونا چاہئے مثلاً نثار ناسک مرحوم نے کہا۔۔دل میں اب تک جل رہی ہیں آرزو کی دو لووئیں۔۔۔ایک وہ پیاری سی لڑکی ایک وہ چھوٹا سا گھر۔۔میرے نزدیک اس کا مطلب ہے ’’کم بچے خوشحال گھرانہ ‘‘ بنیادی ضروریات پوری ہوں، بچوں کے پاس ’’ سیڈمنی ‘‘ یا ’’ٹیک آف‘‘ کا مناسب بندوبست ہو۔ بچے اچھی تعلیم و تربیت کے ’’زیور‘‘ یا ’’ہتھیار‘‘ سے لیس و آراستہ ہوں اور بس ۔ خودذاتی طور پر میری زندگی میں ’’کومپرومائز‘‘ نامی کسی شے کا نہ کوئی تصور تھا، نہ ہے

نہ کبھی ہو گا۔ ایک بھی سمجھوتہ مجھے یاد نہیں کہ 24-23برس کی عمر میں 18ویں گریڈ کو دھتکاردیا حالانکہ پیچھے بھی کچھ نہ تھا جبکہ پیچھے بہت کچھ تھا وہ مرا اپنا نہ تھا’’خودی‘‘ جیسی ان دیکھی شے کا شکار رہا اور خود ساختہ جلا وطنی قبول کرلی۔ تب پنجاب یونیورسٹی سٹوڈنٹس یونین کے سابق صدر اور بچپن کے دوست حفیظ خان نے جبری سعودی عرب منتقل ہونے پر مجبور کر دیا تو پھر مالی حوالوں سے کبھی پیچھے مڑ کے نہیں دیکھا اور میرا ایمان ہے کہ میرا رب ہر شکر خورے کو شکر دیتا ہے جو خود دار ہو وہ خود اس کی خودی کا محافظ بن جاتا ہے اور باعزت لوگوں کو در در بھٹکنے، کومپرومائز کرنے، جھکیں لگانے سے محفوظ کر لیتا ہے۔جہاں میں حالی کسی پہ اپنے سوا بھروسا نہ کیجئے گا۔۔۔یہ راز ہے اپنی زندگی کا، بس اس کا چرچا نہ کیجئے گا۔۔بچپن میں کہیں پڑھا تھا ’’وقت سے پہلے نہیں، مقدر سے زیادہ نہیں ‘‘ یہی میری زندگی کا نچوڑ اور پھر خلاصہ بنا ۔میں نے قدم قدم پر جھک ماری، اس نے قدم قدم پر مجھے تھاما، سہارا اور کنارا دیا ، شاید اس کا لاڈلا ہونے کی کچھ شرائط ہیں تو ظاہر ہے ڈگریاں امتحانوں کے بعد ہی ملتی ہیں۔نہ ماضی میرے بس میں نہ مستقبل پہ کوئی اختیار تو یہ بنیادی بات سمجھنے میں کیا مشکل کہ ’’وقت سے پہلے نہیں مقدر سے زیادہ نہیں ‘‘ پھر یہ پھرتیاں، چلاکیاں، ذلتیں، اہانتیں، ضمیر فروشیاں اور سمجھوتے کس کھاتے میں؟ جینا ہے تو عزت سے جیو ورنہ موت مبارک ہے۔