کچھ حقائق آپ کو حیران کر دیں گے

لاہور (ویب ڈیسک) نامور صحافی چوہدری منور انجم اپنے ایک کالم میں لکھتے ہیں ۔۔۔۔۔۔۔آصفہ بھٹو کی پیدائش 1993 میں ہوئی تھی اور اس وقت انکے والد آصف علی زرداری اسیری کی زندگی گزار رہے تھے۔ آصفہ نے آکسفورڈ بروکس یونیورسٹی سے سیاست اور معاشرتی علوم میں بیچلرز کی ڈگری حاصل کی ہے

جبکہ ایم ایس سی کی ڈگری گلوبل ہیلتھ اینڈ ڈیویلپمنٹ میں یونیورسٹی کالج لندن سے۔پاکستان میں جب سرکاری سطح پر انسداد پولیو کی مہم کا آغاز ہوا تو وہ پہلی بچی تھیں جنھیں پولیو کے قطرے پلا کر اس مہم کا آغاز کیا گیا تھا۔ اس وقت انکی والدہ بینظیر بھٹو وزیرِ اعظم تھیں۔ والدہ کے مشن کو انھوں نے اپنا فرض سمجھ کر قبول کر لیا۔ جب سنہ 2008 میں پاکستان پیپلز پارٹی اقتدار میں آئی اور ان کے والد ایوان صدر پہنچے تو ’پولیو فری پاکستان‘ مہم کا آغاز ہوا۔ اقوام متحدہ کی جانب سے انسداد پولیو کیلئے انھیں اس مہم کا سفیر مقرر کیا گیا۔آج بھی وہ روٹری انٹرنیشنل کی سفیر ہیں اور صوبہ سندھ میں پولیو مہم کے انتظامات میں دلچسپی رکھتی ہیں۔آصفہ بھٹو اپنی پہچان عالمی شہری کے طور پر رکھتی ہیں۔ فلپائن کے جزائر میں طوفان سے متاثرہ خاندانوں کیلئے عطیات اکٹھا کرنے کی مہم کے دوران انھوں نے دسمبر 2013 میں 13 ہزار فٹ بلندی سے سکائی ڈائیو کی تھی، جس کو انھوں نے ’جمپ فار ہیومینیٹی‘ یعنی انسانیت کیلئے چھلانگ قرار دیا تھا۔ اس مہم کے ذریعے انھوں نے ڈھائی ہزار برطانوی پاؤنڈ چندہ جمع کیا تھا۔آصفہ بھٹو کو گلوبل سٹیزن فیسٹیول سے خطاب کرنے کا بھی اعزاز حاصل ہے۔ وہ واحد پاکستانی ہیں جنھوں نے اس غیر سرکاری عالمی فورم سے خطاب کیا۔ غربت کے خاتمے کیلئے ستمبر 2012 میں نیویارک میں پہلا گلوبل سٹیزن فیسٹیول منعقد کیا گیا تھا۔آصفہ بھٹو اپنی والدہ کی راہ پر چلتی ہوئی نظر آتی ہیں۔ انکے لباس اور بات کرنے کے انداز میں بھی والدہ کی جھلک نظر آتی ہے۔وہ ان کی پولیو مہم کے علاوہ دیگر شعبوں میں بھی انکی جانشین کے طور پر موجود ہیں۔ نومبر 2014 میں انھوں نے آکسفورڈ یونین سے خطاب کیا تھا اور اس طرح وہ اس یونین کو خطاب کرنے والی سب سے کم عمر مقرر اور پاکستان سے دوسری مقرر بنی تھیں۔ اس سے قبل یہ اعزاز ان کی والدہ بینظیر بھٹو کو حاصل رہا ہے۔انھیں بے سہارا اور خصوصی بچوں کے ساتھ وقت گزارنا بھی پسند ہے، عید کے دنوں میں وہ ان کیلئے تحائف لے کر جاتی ہیں۔پنی گلوبل ہیلتھ ماسٹر کے بارے میں آصفہ کہتی ہیں کہ وہ پاکستان میں صحت کے نظام میں بہتری لانے کی خواہشمند ہیں۔وہ سوشل میڈیا پر تو سرگرم ہیں لیکن روایتی میڈیا سے دور رہتی ہیں۔ گذشتہ سال آصف علی زرداری کی گرفتاری کے بعد انھوں نے میڈیا سے بات کرتے ہوئے اْنکی صحت پر تشویش کا اظہار کیا تھا۔گذشتہ سال بی بی سی کو دیے گئے انٹرویو میں انھوں نے سیاست کو ورثہ قرار دیا تھا اور کہا تھا کہ وہ اپنے بھائی کی ہم آواز بنیں گی۔

Comments are closed.