کچھ حقائق آپ کو حیران کر دیں گے

لاہور (ویب ڈیسک) نامور کالم نگار نسیم شاہد اپنے ایک کالم میں لکھتے ہیں ۔۔۔۔۔۔۔پچھلے کچھ عرصے سے مخدوم جاوید ہاشمی کچھ زیادہ ہی باغی بنے ہوئے تھے، میری ایک بار فون پر بات ہوئی تو مَیں نے ازراہِ تفنن کہا کہ لگتا ہے ”ہاں مَیں باغی ہوں“ کی دوسری قسط کا مواد اکٹھا کر رہے ہیں،

کہنے لگے میری زندگی جمہوریت اور جمہوری اقدار کے لئے لڑائیوں سے عبارت ہے، یہ کام تو مَیں کرتا رہوں گا۔مَیں نے کہا اس وقت تو آپ ون مین آرمی بنے ہوئے ہیں،سب خاموش ہیں اور آپ وہ کچھ بھی کہہ جاتے ہیں جو بغاوت کے زمرے میں شمار ہوتا ہے، کہنے لگے پرویز مشرف کو بھی یہی لگا تھا کہ مَیں باغی ہوں،حالانکہ مَیں جمہوریت اور آئین کی بات کرتا تھا،اُس نے مجھے قید میں ڈالا،یہ باتیں تو میرے لئے ایک معمول کی کارروائی ہیں۔ تاہم اب طاقتور ہاتھوں کی حکمت عملی بدلی ہوئی ہے،جاوید ہاشمی پکار پکار کر کہہ رہے ہیں آؤ مجھے گرفتار کرو، مگر اُنہیں گرفتار نہیں کیا جا رہا، شاید وہ گرفتاری کی خواہش اِس لئے بھی ظاہر کر رہے ہیں کہ قید میں بیٹھ کر ایک اور کتاب لکھ سکیں۔اب اُنہیں سبق سکھانے کے لئے روایتی ہتھکنڈوں کا سہارا لیا گیا ہے، وہ بھی ہوم ورک کئے بغیر۔ابھی کچھ دن پہلے مخدوم جاوید ہاشمی نے ایک بہت سخت بیان دیا تھا،چونکہ الیکٹرانک میڈیا پر اُن کی رونمائی بند ہے،اِس لئے سوشل میڈیا پر وہ بیان سامنے آیا اور ہزاروں لوگوں نے اسے سنا اور دیکھا۔مسلم لیگ (ن) کے ترجمان نے اس بیان سے لاتعلقی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ یہ جاوید ہاشمی کی ذاتی رائے ہے،مسلم لیگ(ن) کا موقف نہیں۔اُسی دن سابق گورنر سندھ اور مسلم لیگ (ن) کے ترجمان محمد زبیر کا بھی ایک ٹویٹ موضوع بحث بنا جس میں انہوں نے تسلیم کیا تھا کہ مسلم لیگ(ن)اور فوجی قیادت کے درمیان فاصلے کم ہوئے ہیں،

لیکن اب مریم نواز نے جاوید ہاشمی کی تعمیرات گرانے پر اُن کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کیا اور کہا ہے کہ حکومت گھٹیا حرکتوں پر اُتر آئی ہے،لیکن اُس وقت سے ڈرے جب یہ اختیار اور حکومت نہیں ہو گی اور بھاگنے کو جگہ بھی نہیں ملے گی۔پرویز مشرف کے دور میں جاوید ہاشمی کی قاسم روڈ کینٹ پر واقع رہائش گاہ (جسے اب وہ فروخت کر چکے ہیں) کے مین گیٹ کے ساتھ انتظار گاہ اور گارڈ روم کو کنٹونمنٹ بورڈ کی انتظامیہ نے مسمار کر دیا تھا۔ جاوید ہاشمی نے کئی برسوں تک وہاں سے ملبہ اٹھایا اور نہ دوبارہ تعمیر کرائی وہ کہتے تھے کہ یہ اس بات کی نشانی ہے کہ کسی آمر کو جب کوئی جمہوریت پسند للکارتا ہے تو وہ اس حد تک گر جاتا ہے۔اب آمریت تو نہیں، لیکن یقین ِ واثق ہے کہ موضع گھڑیالہ میں گرائی گئی عمارتوں کا ملبہ بھی جاوید ہاشمی نہیں اٹھوائیں گے،وہ اسے جمہوریت کے لئے اپنی جدوجہد کی نشانی کے طور پر پڑا رہنے دیں گے۔ جاوید ہاشمی کی صحت دیکھیں تو لگتا نہیں کہ یہ فالج کا شکار ستر سال کا بوڑھا اس قدر آہنی عزم کا مظاہرہ بھی کر سکتا ہے،لوگ اس حالت اور اس عمر میں ہمت چھوڑ جاتے ہیں،حالات سے سمجھوتہ کر لیتے ہیں، مگر جاوید ہاشمی ہتھیار ڈالنے کو تیار نہیں،اُس نے باز نہیں آنا۔اس کی حب الوطنی شک و شبہ سے بالاتر ہے، قومی اداروں کا احترام بھی اُس کی عادت رہی ہے،مگر وہ جمہوریت اور آئین کی پامالی پر کڑھتا ہے،اس کڑھن کا اظہار اُسے بعض لوگوں کی نظر میں باغی بنا دیتا ہے

Comments are closed.