کچھ حقائق جو آپ کو حیران پریشان کردیں گے

لاہور (ویب ڈیسک) نامور کالم نگار نجم ولی خان اپنے ایک کالم میں لکھتے ہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔شہباز شریف بتا رہے تھے کہ جب وہ سرطان کے علاج کے بعد لندن سے جدہ پہنچے تو انہوں نے شوکت خانم کو کچھ پیسے ڈونیٹ کئے تھے اور انہیں لینے کے لئے عمران خان خود سرور پیلس جدہ آئے تھے۔

سوال اس وائرل ویڈیو بارے تھا جس میں عمران خان ایک جگہ خطاب کرتے ہوئے اعتراف کر رہے ہیں کہ شریف فیملی نے انہیں شوکت خانم ہسپتال بنانے کے لئے پچاس کروڑ روپے کی خطیر رقم دی۔ یہ سوال ہمیشہ سے میرے ذہن میں موجود رہا کہ آج سے عشروں پہلے اتنی بڑی رقم کیسے عطیہ کی گئی جبکہ ان کے اسی دور میں خریدے، سب سے زیادہ متنازع بن جانے والے، لندن فلیٹس کی قیمت بھی پاکستانی روپوں میں ا س سے ایک چوتھائی بیان کی جاتی ہے۔ ہمارے ایک ساتھی نے پوچھا کہ وہ کتنی رقم تھی مگر نواز لیگ کے صدر نے وہ رقم بتانے سے گریز کیا۔ مجھے اس پوری بات میں جناب عمران خان کی کہی ہوئی بات کی تصدیق نہیں ملی، باقی اللہ بہتر جانتا ہے کہ عمران خان نے یہ بات کس پیرائے اور سیاق و سباق میں کہی تھی۔شہباز شریف نے ماڈل ٹاو¿ن میں بجلی کے بحران اور لوڈشیڈنگ کے اضافے پر ماڈ ل ٹاو¿ن میں دھواں دار پریس کانفرنس کی تو اس موقعے پر چھوٹی سی غیر رسمی گپ شپ کے لئے کچھ سینئر صحافیوں کو بھی مدعو کیا گیا تھا۔ میں سمجھتاہوں کہ بہت ساری باتیں تاریخ اور عوام کا قرض ہوتی ہیں اگر وہ کسی کے مفاد کو متاثر نہ کر رہی ہوں تو وہ قوم کے لئے امانت کا درجہ رکھتی ہیں۔ شہباز شریف ہمیشہ سے قومی سیاست میں اپنے بڑے بھائی نواز شریف سے ایک مختلف حکمت عملی کے حوالے سے ڈسکس ہوتے ہیں اور وہ اپنی ہی پارٹی کے سوشل میڈیا لڑاکوں کے ہاتھوں ،

شائد، پی ٹی آئی والوں سے بھی زیادہ چاند ماری کا شکار ہوتے ہیں۔ شہباز شریف کے گھٹنوں کو ہاتھ لگانے کا بیان بھی دلچسپ ہے اور اسے مزے دار پیرائے میں ہی بیان کیا جاتا ہے۔ یوں بھی ہوتا ہے کہ وہ کہتے کچھ ہیں اور اس کا مطلب کچھ اور نکال لیا جاتا ہے مگر یہ بات بہرحال واضح ہے کہ و ہ اپنے دھن کے پکے ایک بہترین ایڈمنسٹریٹر ہیں اور ملک کو اس وقت ایک ایڈمنسٹریٹر کی ہی ضرورت ہے۔ ہم جنوں کی طرح کام کرنے والے اس شخص کو ضائع کر رہے ہیں جس نے بجلی کا وہ کارخانہ پنجاب میں بائیس ماہ میں لگا کر چلا دیا جس کو خود چائنیز چھتیس ماہ میں لگانے کا وقت دیتے ہیں اور اپنے ہی ملک میں ایسا ہی کارخانہ کو ساحل سمندر پر لگاتو اس نے مزید آٹھ ماہ لے لئے، وہ بتا رہے تھے کہ بجلی کے تین بڑے منصوبے ا نہوں نے مکمل کئے اور چوتھے منصوبے کی بنیاد رکھی، اس کی کچھ مشینری تک آ چکی تھی جب ان کی حکومت ختم ہوئی اور اب تک اس منصوبے میں تاخیر کی وجہ سے پینتیس ارب روپوں کانقصان ہوچکا ہے۔ وہ یہ بھی بتا رہے تھے کہ ان کے لگائے ہوئے منصوبوں کی فی میگا واٹ کاسٹ نیپرا کی منظور کی ہوئی کاسٹ سے ایک منصوبے میں پچاس فیصد اور دوسرے میں پچاس فیصد سے بھی کم تھی۔یہ بات ریکارڈ کا حصہ ہے کہ بجلی کے ان کارخانوں سمیت دیگر حکومتی معاملات میں بدعنوانی کا کوئی ٹھوس کیس موجود نہیں، جو کچھ کاروباری معاملات پر ہے وہ

عدالتوں میں ثابت نہیں ہو رہا۔بات شہباز شریف کی حکمت عملی کی ہورہی ہے جس کے بارے سوال تھا کہ کیا انہیں کوئی ٹھنڈی ہوا مل رہی ہے اوراس کے لئے واقعاتی دلیل یہ بھی ہے کہ ان کی پارٹی کے تمام رہنما اس وقت نیب کے چنگل سے باہرنکل آ ئے ہیں تو اس کا ایک جواب یہ تھا کہ کیا پی ٹی آئی کا کوئی رہنما نیب کے شکنجے میں آیا ہے سوائے سبطین خان اور عبدالعلیم خان کے، ایک طرف سے آوازآئی کہ یہ دونوں وزارت اعلیٰ کے امیدوار بن رہے تھے۔ دوسرا جواب زیادہ تفصیلی اور منطقی تھا اور ایک سوال کے ساتھ ہے کہ انہیں اس حکمت عملی کا ذاتی طور پر کیا فائدہ ہوا۔ وہ خود اس دور میں دو مرتبہ قید ہو آئے، ان کے بیٹے کو طویل ترین قید برداشت کرنا پڑی اور اب بھی وہ نیب سے ایف آئی اے تک ہر ادارے کا سامنا کر رہے ہیں۔ میری ملاقات میاں نواز شریف کے بااعتماد دوست ، بزرگ صحافی سے ہوئی، انہوں نے کہا، شہباز شریف ایک بہترین ایڈمنسٹریٹر ہے مگر وہ ایڈمنسٹریٹر شپ بھی اپنے بھائی کی قیادت کے نیچے ہے۔شہباز شریف، سیاستدان نہیں ہے۔ انہوں نے دلیل دی کہ مریم نواز خیبرپختونخوا کے جلسے میں نہیں گئی تو وہاں میلہ مولانا فضل الرحمان نے لوٹ لیا۔ میں نے بصد احترام ان سے کہا کہ اگر شہباز شریف اتنا ہی فضول سیاستدان ہے تو آپ کے دوست نے اسے پارٹی صدر کیوں بنا رکھا ہے، آپ پالیسی سے کھلم کھلا اختلاف پر اسے پارٹی سے نکال باہر کیوں نہیں کرتے۔ وہ مسکرا کر بولے، یہ ممکن نہیں ہے۔ میں بھی جانتا ہوں کہ یہ ممکن نہیں ہے کیونکہ نواز لیگ کے پاس عوام کے سامنے سب سے بڑی دلیل ہی شہباز شریف کی محنت ہے۔ نواز لیگ یہ بھی جانتی ہے کہ وطن کی اس مٹی سے کل کلاں اس کے لئے کوئی چشمہ نکلے گا تو وہ شہبازشریف کے ایڑیاں رگڑنے سے ہی نکلے گا ،جیسے قید خانوں سے راستے نکلے اورجاتی امرا سے لندن تک چلے گئے۔ یہ بات پارٹی کا ہی ایک میڈیا سیل چاہے نہ سمجھے مگر اقتدار میں بیٹھے ہوئے عمران خان ضرور سمجھتے ہیں لہٰذا ان کا ٹارگٹ نواز اور مریم نہیں بلکہ شہباز شریف ہے جس کے بارے بلاخوف ارادے ظاہر کئے جا رہے ہیں کہ اسے کسی نہ کسی کیس میں سزا سنوا کے نااہل کروایا جائے، عندیہ بہت ساروں کے سامنے دیا جا چکا ہے مگر مدعی لاکھ برا چاہے تو کیا ہوتا ہے، وہی ہوتا ہے جو منظور خدا ہوتا ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *