کیا اقتدار عمران اینڈ کمپنی کے ہاتھوں سے نکل رہا ہے ۔۔۔۔؟؟

لاہور (ویب ڈیسک)نامور صحافی نسیم شاہد اپنے ایک کالم میں لکھتے ہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔شیخ رشید احمد کے سواباقی سب اس بے یقینی میں مبتلا ہو چکے ہیں کہ ملک میں سب اچھا نہیں،اور کسی وقت بھی کچھ ہو سکتا ہے۔یہ شیخ رشید احمد کی رجائیت ہے کہ اب بھی یہی کہے جا رہے ہیں کہ

عمران خان اپنے پانچ سال پورے کریں گے، حالانکہ اب مسئلہ یہ نہیں کہ پانچ سال پورے کرنے ہیں،مسئلہ یہ ہے کن حالات میں پورے کرنے ہیں اور پانچ سال بعد عوام کے پاس کیا منہ لے کر جانا ہے۔آج کل بعض چینلز کے وہ اینکرز بھی جو نواز شریف کی کرپشن پر لمبے لمبے پروگرام کرتے تھے، وزیراعظم عمران خان کو پیغام دے رہے ہیں کہ حکومت کی ناکامی دیکھ کر نواز شریف انہیں اچھے لگنے لگے ہیں،کچھ لوگوں کا خیال ہے ایسے اینکرز درحقیقت بعض اشاروں کے منظر ہوتے ہیں اور انہیں اشارے مل چکے ہیں کہ اب کشتی ڈوبنے والی ہے،چھلانگ لگانے کا وقت آ گیا ہے،حالات پر نظر ڈالیں تو بہت سی باتیں اس حقیقت کو آشکار کرتی ہیں کہ سطح زمین پر سب اچھا نہیں ہے۔ حکومت قانون سازی کے لئے ترلے منتیں کر رہی ہے،حتیٰ کہ اپنے اتحادیوں اور اپنے ارکانِ اسمبلی کو بھی قائل کرنے میں کامیاب نہیں ہو رہی۔ پارلیمینٹ کے مشترکہ اجلاس کا التواء بھی ایک بہت اہم اشارہ ہے۔اِس کا مطلب یہ ہے کہ حکومت اس مشترکہ اجلاس سے جو امیدیں لگائے بیٹھی تھی، وہ پوری نہیں ہو رہیں۔کہنے کو بعض وزرا یہ بھی کہتے ہیں اپوزیشن قانون سازی کے لئے حکومت سے تعاون نہیں کر رہی،حالانکہ مشترکہ اجلاس بلانے کا مقصد ہی یہ تھا اپوزیشن کی مخالفت کے باوجود قانون سازی کی جائے۔لنکا تو اپنوں نے ڈھائی ہے، جنہوں نے آنکھیں بند کر کے بلوں کی منظوری دینے سے انکار کر دیا ہے۔سیانے کہتے ہیں، جب اپنے بھی آنکھیں دکھانے لگیں تو سمجھو حکومت کی گرفت کمزور ہو گئی ہے۔معاملات کسی اور طرف جا رہے ہیں۔

ایک مقبول حکومت کے ساتھ کبھی ایسے معاملات نہیں ہوتے۔عوامی سطح پر جس حکومت کو مقبولیت حاصل ہو، اُسے کوئی آنکھیں نہیں دکھاتا، خود اسٹیبلشمنٹ بھی اُس کے بارے میں محتاط رویہ رکھتی ہے۔ارکان پارلیمینٹ کے اعزاز میں ظہرانے سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم عمران خان نے جو باتی کیں، وہ کتابی طور پر بڑی اہمیت کی حامل ہوں گی،مگر زمینی حالات سے لگا نہیں کھاتیں۔انہیں شاید علم نہیں کہ خود اُن کے ارکانِ اسمبلی اس وقت عوام کا سامنا کرنے کی پوزیشن میں نہیں ہیں،انہیں درحقیقت عوامی غیض و غضب کا سامنا ہے۔مہنگائی کے ہاتھوں زچ آئے ہوئے عوام کو لمبی لمبی تقریروں سے مطمئن نہیں کیا جا سکتا۔ جس حکومت کی حالت یہ ہو چکی ہو کہ ادارہ شماریات کو مہنگائی کے اعداد و شمار سے روک دے،تاکہ عوام کے سامنے یہ سچ بھی نہ آئے،اُس حکومت کے ارکانِ اسمبلی اور وزراء عوام کے سامنے کیسے جا سکتے ہیں۔ان حالات میں تو عوام کو جھوٹی تسلی بھی نہیں دی جا سکتی۔پاکستان میں حکومت کی سب سے بڑی ناکامی یہ ہوتی ہے کہ وہ عوام کو معاشی شعبے میں کوئی ریلیف نہ دے سکے۔یہ ناکامی موجودہ حکومت ایسی گلے پڑی ہے کہ اب طوق بن گئی ہے۔ تقریباً ساڑھے تین برسوں میں کوئی ایک فیصلہ بھی ایسا نہیں ہوا،جس سے عوام کوئی سُکھ کا سانس لے سکتے۔بس ایک ہی گردان جاری رہی ہمیں معیشت بہت تباہ حال ملی،کرپشن نے ملک تباہ کر دیا،خزانہ خالی تھا،ایسی باتیں ابتدائی چھ ماہ میں تو اچھی لگتی ہیں انہیں اگر سالہا سال چلایا جائے تو ایک مذاق بن جاتی ہیں۔

اگر معیشت خراب بھی ملی تھی تو اُسے سنوارنا تھا، یہاں تو بری طرح بگاڑا گیا ہے،اور اتنا بگاڑ دیا گیا ہے کہ اب آنے والی کوئی بھی حکومت یہ کہنے میں حق بجانب ہو گی عوام کو ریلیف کیسے دیں،مہنگائی تو آسمان سے بھی دو ہاتھ آگے نکل گئی ہے۔یہ آوازیں بھی اُٹھ رہی ہیں کہ ایک پیچ والا سلسلہ بھی موقوف ہو رہا ہے۔اس کے کئی اشارے مل چکے ہیں، معاملہ تو آئی ایس آئی کے چیف کی تقرری پر ہی بگڑ گیا تھا۔ایک خواہ مخواہ کی مشق ناروا کی گئی اور بالآخر ہوا وہی جو ہونا تھا۔اس سارے عمل نے ملک میں کئی ہفتے ہیجان برپا کئے رکھا،اور بے یقینی کو بڑھایا۔ایک پیچ پر ہونے کا مطلب تو یہی تھا کہ اس صورتِ حال کو پیدا ہی نہ ہونے دیا جاتا۔اب بعض حلقے اس تبدیلی کو بھی کسی بڑی تبدیلی کے ساتھ جوڑ رہے ہیں۔اس میں کتنی حقیقت ہے یہ تو وقت ہی بتائے گا تاہم اسلام آباد کے حالات میں ایک واضح ہلچل نظر آ رہی ہے۔ اپوزیشن کا اس طرح متحرک ہونا اور ایک دوسرے سے مل جانا بھی غیر معمولی بات ہے۔کل تک ایک دوسرے کی شکلیں نہیں دیکھنا چاہتے تھے،اب ساتھ بیٹھے ہیں۔ دوسری طرف وہ حکومت جس کے وزیراعظم کہتے ہیں وہ اپوزیشن سے ہاتھ تو ملانا نہیں چاہتے اب سپیکر اور وزراء کے ذریعے اُسی اپوزیشن سے تعاون کی بھیک مانگ رہی ہے،اور اُس کی طرف سے شرائط رکھی جا رہی ہیں،کہاں وہ ناز نخرہ اور کہاں یہ ملتجیانہ انداز،کچھ تو ہے جس نے یہ دن دکھائے ہیں،کوئی بعید نہیں ان حالات میں اپوزیشن یہ شرط بھی رکھ دے کہ وزیراعظم آ کر اُن سے مذاکرات کریں۔

تب وہ قانون سازی میں تعاون کریں گے،ایسا ہوا تو وزیراعظم کے لئے اپوزیشن سے ہاتھ ملانا مجبوری بن جائے گی،سیانے کہتے ہیں لچک کی ضررت ہوتی ہے۔مقبول سے مقبول لیڈر بھی بے تچک رویہ اختیارکرے تو تنہا رہ جاتا ہے۔عمران خان نے غیر سیاسی رویہ اختیار کیا تو آج اُس کا نتیجہ سامنے ہے۔خود اُن کے اتحادی انہیں آنکھیں دکھا رہے ہیں۔کل تک اُن کی بات پر بے چون و چرا عمل کرنے والے آج اُن سے وضاحتیں اور ضمانتیں مانگتے ہیں۔تحریک انصاف ملک کی تیسری بڑی جماعت ہے،مگر کیا اس میں ہچکولے برداشت کرنے کی سکت ہے؟ عمران خان نے جس طرح2018ء میں انتخابات جیتنے کے لئے اس الیکٹیبلز کے پیوند لگائے تھے، اُس کے نتائج وقت گذرنے کے ساتھ ساتھ سامنے آ رہے ہیں۔بالفرض آج اس جماعت پر کوئی مشکل آن پڑتی ہے یا حکومت ِ وقت سے پہلے ختم ہو جاتی ہے، تو کیا تحریک انصاف میں یہ سب لوگ رہیں گے۔کیا اس جماعت کا شیرازہ بکھرنے سے بچ جائے گا، مسلم لیگ(ن) اور پیپلزپارٹی نے ثابت کیا ہے، مشکل حالات میں بھی لوگ اُن کے ساتھ کھڑے رہتے ہیں۔ تحریک انصاف کے تو اپنے دور میں ارکانِ اسمبلی آنکھیں دکھاتے اور فارورڈ بلاک بنانے کی وارننگز دیتے رہے ہیں۔ اب تو حالات بھی ایسے ہیں کہ خود تحریک انصاف کے ارکانِ اسمبلی نجی دوستوں کی محفلوں میں کہتے ہیں عوام کا سامنا نہیں کر سکتے، جس دن پٹرول کی قیمت راتوں رات ساڑھے آٹھ روپے بڑھائی گئی، اُس دن میں نے ایک رکن اسمبلی کو ایک تقریب میں یہ کہتے سنا،مَیں اس تقریب میں زیادہ دیر نہیں ٹھہر سکتا مجھے عوام کی آنکھوں میں نفرت دکھائی دے رہی ہے۔کیا واقعی کھیل وزیراعظم عمران خان کے ہاتھوں سے نکل رہا ہے؟کیا وہ یہ میچ بچانے میں کامیاب ہوں گے،اور پانچ سال پورے کریں گے؟یہ سوال درو دیوار پر لکھا جا چکا ہے،اور اس کا جواب وقت کے پردے میں چھپا ہے، کسی وقت بھی مل سکتا ہے۔

Comments are closed.