کیا انڈیا جان بوجھ کر ہار رہا ہے ؟

لاہور (ویب ڈیسک) نامور تجزیہ کار سمیع ابراہیم اپنے ایک تبصرے میں لکھتے ہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔جس طرح کی کرکٹ انڈین ٹیم نے حالیہ دورہ انگلینڈ میں کھیلی، اس سے واضح تھا کہ گزشتہ برس آسٹریلیا میں جیت کوئی ’تُکا‘ نہیں تھا بلکہ یہ ٹیم واقعی ورلڈ کلاس بن چکی تھی۔ ایان چیپل تو یہاں تک کہنے پر مجبور ہو گئے

کہ یہ خاصی خوفزدہ کرنے والی بات ہے کہ ایسی ورلڈ کلاس ٹیم ہونے کے باوجود ابھی کوہلی کی ٹیم مزید بہتر ہو سکتی ہے۔لیکن انڈین کرکٹ بورڈ کی اولین ترجیح اپنی آئی پی ایل کا مستقبل محفوظ کرنا تھا نہ کہ ورلڈ ٹائٹل جیتنا۔ پلئیرز کو اور شائقین کو یہ نظر کا دھوکہ دیا گیا کہ آئی پی ایل کا باقی ماندہ حصہ انڈین ٹیم کے لیے ورلڈ کپ کی تیاری ثابت ہو گا۔ورلڈ کپ جیسے میگا ایونٹ میں تکنیکی تیاری سے زیادہ نفسیاتی تیاری اور ذہنی تازگی جیسے عوامل اہم ٹھہرتے ہیں۔ انڈین ٹیم کے سبھی کھلاڑی آئی پی ایل میں ملوث رہے ہیں، سو تکنیکی اعتبار سے غالباً وہ اس ٹورنامنٹ کی سب سے تیار ٹیم ہے۔لیکن جب بات نفسیاتی تیاری اور ذہنی تازگی کی آتی ہے تو یقیناً کوہلی کی الیون دیگر ٹیموں سے بہت پیچھے نظر آ رہی ہے۔یہ ٹیم پے در پے ٹاپ لیول کرکٹ کھیل کر تھک چکی ہے۔ اگرچہ روہت شرما، راہول، جدیجا وغیرہ بخوبی واقف ہیں کہ آج کل دبئی میں اوسط ’باؤنس‘ کیا چل رہا ہے اور ابوظہبی میں سپن کو کتنے فیصد ’ٹرن‘ مل رہا ہے مگر جب ذھن ہی تروتازہ نہ ہو تو ایسی ’علمیت‘ کون سا اچار ڈالنے کے کام آئے گی؟اش سوڈھی بلاشبہ ورلڈ کلاس سپنر ہیں مگر ایسے بھی خطرناک نہیں کہ انڈین بلے باز ان کو سمجھ ہی نہ پائیں۔ کیوی بولنگ بلاشبہ بہت نپی تلی اور ایک پلان کے مطابق تھی مگر ایسا بھی کیا قحط کہ اننگز کے بیچ کے نو اووز میں گیند باؤنڈری ہی کراس نہ کر پائے۔کوہلی کی ٹیم چونکہ اس ٹورنامنٹ کی میزبان بھی ہے اور شروع سے ہی فیورٹ بھی رہی ہے، اس لیے اگر یہ ٹیم ٹاپ فور تک نہیں پہنچ پاتی تو یہ نہ صرف آئی سی سی کے لیے مالی خسارے کا باعث ہو گا بلکہ ناک آؤٹ مرحلے کی کرکٹ کا جوش بھی کچھ ماند پڑ جائے گا۔لیکن اگر ایسا ہوا تو ذمہ دار ویراٹ کوہلی یا ان کی ٹیم نہیں بلکہ سارو گنگولی اور ان کا کرکٹ بورڈ ہو گا۔

Comments are closed.