کیا جہانگیر ترین واقعی یوسف رضا گیلانی کے مقابلے میں حفیظ شیخ کی کامیابی کے لیے مہم چلا رہے ہیں ؟

لاہور (ویب ڈیسک) نامور کالم نگار نسیم شاہد اپنے ایک کالم میں لکھتے ہیں ۔۔۔۔۔۔۔سیاسی حلقوں میں اب یہ بحث ہو رہی ہے کہ جہانگیر ترین سینٹ الیکشن میں سید یوسف رضا گیلانی کی حمایت کیوں نہیں کر رہے اور حفیظ شیخ کی الیکشن مہم کیوں چلا رہے ہیں؟ جہانگیر ترین اگر اب بھی تحریک انصاف کے

سرگرم رہنما ہوتے تو ان کے لئے یہی مناسب تھا کہ وہ حکومتی امیدوار کی مہم چلائیں، مگر اب تو ایک مدت سے جہانگیر ترین تحریک انصاف سے دور ہیں اور حکومت کا حصہ بھی نہیں، پھر انہوں نے اچانک یہ فیصلہ کیوں کیا؟ سید یوسف رضا گیلانی سے جہانگیر ترین کی رشتہ داری بھی ہے اور دونوں کا تعلق بھی ملتان سے ہے۔ پھر یہ بھی ہے کہ سید یوسف رضا گیلانی ایک سیاسی آدمی ہیں، جبکہ حفیظ شیخ ٹیکنو کریٹ ہیں۔ ایک سیاستدان کی حیثیت سے جہانگیر ترین کو کیا راستہ چننا چاہیے تھا، اس بارے میں بہرحال دو آراء موجود ہیں، مگر صاف نظر آ رہا ہے کہ اس بار بھی جہانگیر ترین نے وہی فیصلہ کیا ہے، جو وہ ہمیشہ کرتے آئے ہیں، یعنی نقصان کی بجائے فائدے کا فیصلہ۔ وہ شاید اس بار ایک تیر سے کئی شکار کرنا چاہتے ہوں۔وہ گزشتہ کئی ماہ سے خاموشی اختیار کئے ہوئے تھے۔شاید وہ سمجھتے تھے کہ ان کے لئے سازگار ماحول نہیں، عمران خان نے ان سے دوری اختیار کر رکھی ہے اور تحریک انصاف بھی اسی لئے ان کے واسطے شجر ممنوعہ بن گئی ہےّ اب یہ سوال بھی اہمیت رکھتا ہے کہ اگر اسلام آباد سے عبدالحفیظ شیخ سینیٹ کے امیدوار نہ ہوتے اور ان کے مقابل سید یوسف رضا گیلانی امیدوار نہ بنتے تو کیا پھر بھی جہانگیر ترین متحرک ہوتے یا چپ چاپ ایک طرف پڑے رہتے، اس سوال کا جواب دینا آسان نہیں، البتہ اتنا ضرور کہا جا سکتا ہے کہ سید یوسف رضا گیلانی کی

وجہ سے اسلام آباد کی سینیٹ نشست حکومت کے لئے ایک بہت بڑا چیلنج بن گئی ہے، خاص طور پر عمران خان کے لئے اس نشست کو جیتنا ازحد ضروری ہے، وگرنہ ان پر مستعفی ہونے کے لئے دباؤ بڑھ جائے گا۔شاید یہی وہ صورتِ حال ہے جس میں جہانگیر ترین اپنے دیرینہ دوست عمران خان کی مدد کو ازخود آگئے ہیں، تاہم اس امکان کو بھی رد نہیں کیا جا سکتا کہ کپتان نے اپنے اس کھلاڑی سے خود مدد مانگی ہو۔ ناممکن کو ممکن بنانے کی جو خوبی جہانگیر ترین رکھتے ہیں وہ کسی اور کے پاس نہیں۔ تحریک انصاف میں ایسا اور کوئی نہیں جس کی بات بھی سنی جائے اور یقین بھی کیا جائے۔ جہانگیر ترین کے بارے میں یہ کہا جاتا ہے کہ وہ جو بھی دعوے کرتے، عمران خان انہیں تسلیم کر لیتے تھے۔ یہ صلاحیت شاہ محمود قریشی کے پاس نہیں، حالانکہ اس وقت وہ تحریک انصاف میں دوسرے نمبر پر ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ جوڑ توڑ کے معاملے میں شاہ محمود کی حیثیت کبھی کلیدی اہمیت کی حامل نہیں رہی، بلکہ ماضی میں یہ دیکھا گیا کہ جہانگیر ترین جن آزاد ارکان کو تحریک انصاف میں لائے شاہ محمود قریشی نے ان کا پارٹی میں رہنا دشوار کر دیا۔ اس کی اہم ترین مثال ملتان سے شاہ محمود قریشی کو شکست دینے والا نوجوان سلمان نعیم ہے، جو معطل ہے اور سپریم کورٹ میں اس کا فیصلہ ایک سال سے محفوظ پڑا ہے۔ سو ایسی صورتِ حال میں جہانگیر ترین کی حفیظ شیخ کی

انتخابی مہم میں فعال شرکت خود کپتان کے لئے بھی یگ گونہ اطمینان کا باعث ہوگی۔ تاہم تصویر کا دوسرا رخ بھی ہے جو خود کپتان کے نظریئے اور فلسفے کو غلط ثابت کر رہا ہے۔یہ بات کسی سے ڈھکی چھپی نہیں، جہانگیر ترین چینی سکینڈل میں ایک بڑے کردار کے طور پر شامل ہیں۔ ان کے خلاف ایف آئی اے نے منی لانڈرنگ اور شوگر سکینڈل کے حوالے سے باقاعدہ مقدمہ درج کرکے تحقیقات شروع کر رکھی ہیں۔ گویا وہ اس وقت ایک ملزم ہیں۔ فرق صرف یہ ہے کہ شہبازشریف کے خلاف بھی یہ ایف آئی آر ہے، وہ قید میں ہیں اور جہانگیر ترین باہر ہیں، کچھ لوگ حفیظ شیخ کی حمایت میں اس مہم کو اخلاقیات کی نفی قرار دے رہے ہیں۔ جہانگیر ترین جب جہاز لے کر نکلتے ہیں تو کئی کہانیاں ان کے ساتھ چلتی ہیں، ان حالات میں کہ جب ہر طرف سینیٹ انتخابات پر انگلیاں اٹھ رہی ہیں، نوٹوں سے بھرے بیگ و بریف کیس زبان زد عام ہیں، حتیٰ کہ اٹارنی جنرل سپریم کورٹ میں ان کا حوالہ دے چکے ہیں۔ جہانگیر ترین کی یہ مہم کیا تاثر چھوڑے گی، اس پر کچھ کہنا ضروری نہیں، مگر سوال یہ ہے کہ وزیراعظم عمران خان جو جہانگیر ترین سے اس لئے قطع تعلق کئے ہوئے تھے کہ ان کا نام چینی سکینڈل اور منی لانڈرنگ میں آ گیا ہے۔ اب یہ کیسے گوارا کریں گے کہ وہی جہانگیر ترین ان کے سب سے اہم امیدوار اور سب سے اہم نشست کے لئے رابطہ مہم چلائیں۔ اس طرح تو

خود وزیراعظم سینیٹ انتخابات پر سوالیہ نشان کھڑا کردیں گے۔اب اس سے جڑا ایک دوسرا پہلو ہے۔ ملک کا وزیر خزانہ بڑی اہم پوسٹ کا مالک ہوتا ہے۔ تمام ادارے اس کے دست نگر ہوتے ہیں۔ کسی کے خلاف ثبوت دینے ہوں یا مٹانے ہوں، وزارتِ خزانہ سے بڑھ کر کوئی کردار ادا نہیں کر سکتا۔جہانگیر ترین جو چینی سکینڈل اور منی لانڈرنگ کے باقاعدہ ملزم ہیں، اگر حفیظ شیخ کی انتخابی مہم چلا رہے ہیں تو منتخب ہونے کے بعد کیا حفیظ شیخ ان کے اس احسان کا بدلہ نہیں اتاریں گے۔ پھر جہانگیر ترین ایک بہت بڑے صنعتکار ہیں، ان کے مالی مفادات وزارت خزانہ اور ان کے ذیلی اداروں سے جڑے ہیں، کیا انہیں آگے چل کر حفیظ شیخ کو کامیاب کرانے میں کلیدی کردار ادا کرنے کا فائدہ نہیں پہنچے گا۔ جہانگیر ترین سیاست کے لئے تاحیات نااہل نہ ہوتے، انہیں فوجداری مقدمات کا سامنا نہ ہوتا اور تحریک انصاف میں ان کا عہدہ اور فعال کردار ہوتا تو یہ ایک معمول کی بات سمجھی جاتی، مگر اس وقت جہانگیر ترین کی اچانک حفیظ شیخ کے حق میں فعالیت کئی سوالوں کو جنم دے رہی ہے۔ کیا اس کا مطلب واقعی یہ ہے کہ تحریک انصاف کے اندر حفیظ شیخ کے معاملے پر مزاحمت موجود ہے؟ اور کئی ارکان انہیں ووٹ نہیں دینا چاہتے، جنہیں رام کرنے کا ٹاسک جہانگیر ترین کو سونپا گیا ہے۔ اگر ایسا ہے تو پھر بریف کیس کی کہانی تو یہاں بھی رنگ جمائے گی، رنگ دکھائے گی کہ خزانے والے کی جیت کا معاملہ ہے۔

Sharing is caring!

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *