کیا دلچسپ واقعہ پیش آیا ؟

لاہور (ویب ڈیسک) نامور کالم نگار توفیق بٹ اپنے ایک کالم میں لکھتے ہیں ۔۔۔۔ایک بار مرحوم دلدار پرویز بھٹی نے اپنے مشہور ٹی وی پروگرام ”ٹاکرا“ میں اس وقت کے بادشاہی مسجد کے خطیب کو مدعو کیا جنہوں نے ”دین اسلام کی روشنی میں“ آبادی کے بڑھتے ہوئے موضوع پر بات کرنی تھی۔

پروگرام کی ریکارڈنگ سے پہلے پروگرام پروڈیوسر کے کمرے میں میری موجودگی میں انہوں نے ضد کی کہ پروگرام کے معاوضے کا چیک انہیں پروگرام کی ریکارڈنگ سے پہلے دیا جائے۔ یہ شاید ممکن نہیں تھا مگر ان کے اصرار پر چیک بنا کر ان کی خدمت میں پیش کر دیا گیا۔ چیک کو آگے پیچھے سے ٹٹولنے کے بعد بڑی مسرت بھری نظروں سے انہوں نے دلدار بھٹی کی طرف دیکھا اور ان سے پوچھا ”ارے بھٹی صاحب آپ نے یہ تو بتایا ہی نہیں میں نے پروگرام میں آبادی بڑھنے کے خلاف بولنا ہے یا اس کے حق میں بولنا ہے ؟“…. دلدار بھٹی بولا ”حضور اگر اسلام کی روشنی میں کچھ بولنا مشکل ہو پھر آپ کچھ بھی بول دیجئے گا“…. سو ممکن ہے رویت ہلال کمیٹی بھی اب پوچھ لیتی ہو کہ انہیں آج چاند نظر آنا ہے یا کل نظر آنا ہے؟…. ”نوکری کیہ تے نخرہ کیہ“…. چاند نظر آنے کے حوالے سے وفاقی وزیر اطلاعات فواد چوہدری کی ٹویٹ کو بڑی پذیرائی ملی۔ انہوں نے ایک بار پھر ثابت کر دیا وفاقی وزیر ہونے کے باوجود وہ سچ نہیں چھپا سکتے۔ یا یوں کہہ لیں سچ چھپانے میں انہیں مشکل پیش آتی ہے۔ انہوں نے صاف صاف کہہ دیا ”جس کی مرضی ہے کل روزہ رکھ لے ، جس کی مرضی ہے عید منائے“…. اگر لوگوں نے عید ہی منائی۔ ظاہر ہے ریاست کا فیصلہ اہمیت کا حامل ہوتا ہے۔ البتہ بے شمار لوگوں نے عید سے اگلے روز روزہ بھی رکھا…. رویت ہلال کمیٹی کے نئے چیئرمین کے انتخاب کے بعد یہ پہلی عید تھی۔ یہ عید کم از کم ایک پیغام ضرور دے گئی ” حکمرانوں کو کسی بھی ادارے کی سربراہی کے لئے موزوں اور اہل شخصیات نہیں ملتیں“….سو ممکن ہے رویت ہلال کمیٹی کے اگلے چیئرمین اپنے علامہ ناصر مدنی ہوں۔ ”ایک دن جیو کے ساتھ“ گزارنے کے بعد ان کی مقبولیت اتنی تو بڑھ ہی گئی ہے انہیں اس عہدے کے اہل سمجھا جائے…. چاند کے نکلنے کا ارادہ نہیں بھی ہوا کرے گا وہ مکھن ملائی کی طرح اسے نکال ہی لیا کریں گے!!

Comments are closed.