کیا موجودہ حالات میں الیکٹرونک ووٹنگ سسٹم کی واقعی کوئی ضرورت ہے ؟

لاہور (ویب ڈیسک) نامور کالم نگار مجیب الرحمان شامی اپنے ایک کالم میں لکھتے ہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔حکومت نے پارلیمانی معرکہ تو سر کر لیا،لیکن اُس سے بڑا مرحلہ درپیش ہو گا،جب انہیں عدالت میں چیلنج کیا جائے گا،اور سڑکوں پر اودھم مچایا جائے گا۔ان قوانین میں سب سے اہم تو الیکشن ایکٹ2017ء میں دو ترامیم تھیں،

جن کو انقلابی اور بنیادی کہا جا رہا ہے۔ایک ترمیم کے تحت الیکشن کمیشن کو الیکٹرانک ووٹنگ مشین کے استعمال کا پابند بنایا گیا ہے،دوسری ترمیم کے مطابق سمندر پار پاکستانیوں کو انٹرنیٹ کے ذریعے ووٹ کے استعمال کا حق دے دیا گیا ہے۔اب وہ بیرون ملک بیٹھ کر پولنگ میں حصہ لیں گے،انتخابی عمل کو براہِ راست متاثر کر سکیں گے۔سمندر پار پاکستانیوں کو دستورِ پاکستان کے تحت ووٹ کا حق حاصل ہے،دوہری شہریت کے حاملین البتہ امیدوار نہیں بن سکتے۔انہیں کاغذات نامزدگی داخل کرنے سے پہلے اپنی دوسری شہریت سے دستبردار ہونا پڑتا تھا،لیکن اب وہ(کامیابی کی صورت میں) حلف اٹھانے سے پہلے دستبرداری کا اعلان کر سکتے ہیں۔ گویا ناکامی کی صورت میں اُن کی غیر ملکی شہریت محفوظ رہ جائے گی۔ رائج قانون کے تحت سمندر پار پاکستانیوں کو ووٹ کا حق استعمال کرنے کے لیے الیکشن ڈے پر ملک آنا،اور جس حلقے میں ان کا ووٹ درج ہو، وہاں جا کر اپنا حق ر ائے دہی استعمال کرنا پڑتا تھا۔اب جو قانون سازی کی گئی ہے، اس کے تحت وہ انٹرنیٹ کے ذریعے ووٹ ڈال سکیں گے۔یوں پاکستان دنیا کا پہلا ملک بن جائے گا،جس کے بیرون ملک رہنے والے شہریوں کو اس طرح کا حق حاصل ہو گا۔ کسی بھی ملک نے اپنے بیرون ملک مقیم شہریوں کو یہ ”سہولت“ فراہم نہیں کی۔اپوزیشن جماعتیں یہ چاہتی ہیں کہ سمندر پار پاکستانیوں کے لیے نشستیں مخصوص کر دی جائیں،وہ اپنے نمائندے چن کر ایوان میں پہنچا دیں،یا ایوان اُسی طرح ان کا انتخاب کرلے،جس طرح عورتوں اور اقلیتوں کے لیے مختص نشستوں کا کیا جاتا ہے۔

یہ دونوں ترامیم کتابِ قانون کا حصہ تو بن گئی ہیں لیکن ان پر عمل کب اور کیسے ہو گا،اس پر کئی سوالات پیدا ہو چکے ہیں۔دستور کے مطابق انتخابات کا انعقاد الیکشن کمیشن کی ذمہ داری ہے۔اس میں کوئی دوسرا ادارہ مداخلت کا مجاز نہیں ہے۔الیکشن کمیشن کو ابھی تک اطمینان نہیں ہے کہ برقی مشینوں کے ذریعے آئندہ انتخابات کا انعقاد ممکن ہے۔دنیا میں بہت کم ممالک میں یہ نظام رائج ہے، بھارت میں اس کا تجربہ1982ء سے شروع کر دیا گیا تھا،برسوں کی آزمائش اور کوشش کے بعد انتخابی عمل کو مشینی بنایا جا سکا ہے،پاکستان میں یہ سب دو سال کے اندر کیسے ہو گا۔وسائل کے ساتھ ساتھ عملے اور رائے دہندگان کی تربیت اور آگاہی کا مسئلہ بھی درپیش ہو گا۔پاکستان میں الیکشن کمیشن کو انتخابی عملہ مختلف سرکاری محکموں سے لینا پڑتا ہے،اس کی تربیت ایک بڑی مشق کی متقاضی ہو گی، مشین کی کارکردگی کے حوالے سے بھی کئی سنگین سوالات پیدا ہو چکے ہیں۔مزید یہ کہ بیرون ملک مقیم پاکستانی انٹرنیٹ کے ذریعے جب اپنا حق رائے دہی استعمال کریں گے، تو اس کو خفیہ اور محفوظ رکھنے کا آئینی تقاضہ کیونکر پورا ہو گا؟بل تو منظور کرا لئے گئے ہیں،لیکن اس کے لیے اپوزیشن اور الیکشن کمیشن سے بامقصد اور بامعنی مشاورت کا کوئی اہتمام نہیں ہو سکا۔حکومت بار بار یہ کہہ رہی ہے کہ وہ الیکشن کو شفاف بنانے کے لیے یہ سب پاپڑ بیل رہی ہے،جبکہ حقیقت یہ ہے کہ پاکستانی انتخابات میں ووٹوں کی گنتی پرکوئی بڑا تنازعہ کبھی کھڑا نہیں ہوا۔

گنتی سے پہلے جو کچھ ہوتا ہے،اور بعد میں جو کچھ کیا جاتا ہے، مسائل اس سے پیدا ہوئے ہیں۔ ڈسکہ کے ضمنی انتخاب کے بارے میں تو الیکشن کمیشن کی رپورٹ بھی منظر عام پر آچکی ہے،اس کے مطابق انتظامیہ نے جو حرکتیں کیں،ان کا سد ِباب مشینی ووٹنگ کے ذریعے کیسے ممکن ہو گا،اس کا جواب بہرحال اربابِ اقتدار کے ذمے ہے۔انتخابی عمل کو شفاف بنانے کا اولین تقاضہ یہ ہے کہ جو بھی اقدام کیا جائے،اس کے پیچھے اتفاقِ رائے کی طاقت ہو۔الیکشن ایکٹ2017ء کے نفاذ سے پہلے پارلیمینٹ کی کل جماعتی کمیٹی نے ایک سو سے زائد اجلاس منعقد کئے تھے،اور تین سال کا عرصہ لگا تھا۔اس ایکٹ پر سب جماعتیں متفق ہوئیں تبھی اس کا نفاذ عمل میں آیا۔اب203 ووٹوں کے مقابلے میں 221 ووٹ حاصل کر کے بغلیں بجائی جا رہی ہیں،حالانکہ203 ووٹوں کے پیچھے بھی کم و بیش نصف آبادی کھڑی ہے۔جلد بازی کے اس مظاہرے کا کوئی جواز کسی ذی ہوش کی سمجھ میں نہیں آ رہا۔اس پنجابی محاورے سے جناب وزیراعظم تو اچھی طرح واقف ہوں گے کہ ”کاہلی اگے ٹوئے“یعنی جلد بازی کے سامنے گڑھے۔ گڑھے کھودنے والوں کو معلوم ہونا چاہیے کہ ان میں کوئی بھی گر سکتا ہے۔