کیا میک اپ پر وضو ہوجاتا ہے اسلام میں کیا حکم ہے؟

اعضائے وضو پر اگر کسی چیز کی تہہ جمی ہو اور پانی جِلد تک نہ پہنچ پائے تو وضو نہیں ہوگا۔ قرآنِ مجید میں اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:نماز کیلئے کھڑے (ہونے کا ارادہ) ہو تو (وضو کے لئے) اپنے چہروں کو اور اپنے ہاتھوں کو کہنیوں سمیت دھو لو اور اپنے سروں

کا مسح کرو اور اپنے پاؤں (بھی) ٹخنوں سمیت (دھو لو)، اور اگر تم حالتِ جنابت میں ہو تو (نہا کر) خوب پاک ہو جاؤ۔اور اگر تم بیمار ہو یا سفر میں ہو یا تم سے کوئی رفعِ حاجت سے (فارغ ہو کر) آیا ہو یا تم نے عورتوں سے قربت (مجامعت) کی ہو پھر تم پانی نہ پاؤ تو (اندریں صورت) پاک مٹی سے تیمم کر لیا کرو۔پس (تیمم یہ ہے کہ) اس (پاک مٹی) سے اپنے چہروں اور اپنے (پورے) ہاتھوں کا مسح کر لو۔ اﷲ نہیں چاہتا کہ وہ تمہارے اوپر کسی قسم کی سختی کرے لیکن وہ (یہ) چاہتا ہے کہ تمہیں پاک کردے اور تم پر اپنی نعمت پوری کر دے تاکہ تم شکر گزار بن جاؤ۔اگر میک اپ میں صرف رنگ ہوں اور وہ اعضائے وضو تک پانی کے پہنچنے میں رکاوٹ نہ ہوں تو میک اپ پر وضو ہو جائے گا۔ لیکن اگر میک اپ کی تہہ جمی ہو جو پانی کو اعضائے وضو کی جلد تک نہ پہنچنے دے تو میک اپ پر وضو نہیں ہوگا۔ایک روایت کے مطابق جب بندہ نماز کے لئے کھڑا ہوتا ہے تو اللہ تعالیٰ فرشتوں سے فرماتا ہے کہ اس کے جتنے گناہ ہیں سب بدن سے اتار کر ایک ڈھیر میں ڈال دو تاکہ جب تک یہ میرے حضور کھڑا رہے پاک اور ستھرا ہوکر کھڑا رہے۔ بندہ نماز پڑھتا رہتا ہے اور گناہ ایک سمت ڈھیر میں جمع کردیئے جاتے ہیں۔ پھر جب وہ بندہ نماز پڑھ کر واپس جانے لگتا ہے تو فرشتے وہ

گناہ پکڑ کر عرض کرتے ہیں، مالک یہ گناہ دوبارہ اس کے ساتھ ہی لگادیں؟ تو رب تعالیٰ عزوجل فرماتا ہے: اب اترےتو اترے ہی رہنے دو، میرا بندہ ستھرا ہو کر اپنے گھر کی طرف چلا گیا۔اس روایت سے یہ بات ثابت ہوتی ہے کہ وہ شخص واقعی کتنا بدنصیب ہے جس کو اپنے رب عزوجل کے حضور ایک سجدہ بھی نصیب نہ ہو۔آج اگر ہر مسلمان اپنی ذات کا موازنہ خود کرے تو ہم میں زیادہ تر افراد کا معمول یہ ہوتا ہے: ٭ فجر کا وقت سوتے ہوئے گزار دیتے ہیں٭ ظہر اپنے کام کاج کی جگہ پر گزار دیتے ہیں٭ عصر سستی میں گزار دیتے ہیں٭ مغرب ہلے گلے میں اور٭ عشاء تھکن کی وجہ سے گزار دیتے ہیںیہاں ایک بات اور قابل ذکر ہے کہ بعض لوگ نماز نہ پڑھنے کے باوجود بھی ندامت کا اظہار نہیں کرتے اور اپنے ذہن میں یہ خیال رکھتے ہیںکہ ہم نماز نہیں پڑھتے، لیکن اگر وہ حقیقت سے آشنا ہو تو انہیں پتا چلے گا کہ وہ کیا نماز نہیں پڑھتے بلکہ رب انہیں سجدے کی توفیق ہی عطا نہیں کرتا۔قیامت کے دن سب سے پہلا سوال بھی نماز کا ہی ہوگا۔ اس لئے اگر آپ بھی اپنے پچھلے تمام گناہوں کیبہتر تو یہ ہے کہ انسان دوسروں کی ذات میں ہنر اور خوبیاں تلاش کرے اور عیب اپنی ذات میں دیکھے۔ یاد رکھو کہ دنیا میں اچھائیاں بھی ہیں اور برائیاں بھی۔ جس طرح گلزار میں پھول بھی ہوتے ہیں اور خار بھی۔ جس کا دل میلا ہو اسے ہر چیز میلی نظر آتی ہے۔ جس کا دل روشن ہو اسے ہر چیز روشن نظر آتی ہے۔شیخ سعدیؒ اس حکایت میں بیان کرتے ہیں کہ بے عیب ذات صرف اللہ عزوجل ہی کی ہے۔پس دوسروں کی ذات میں عیب تلاش کرنے سے بہتر ہے کہ اپنی ذات میں موجود عیبوں پر نگاہ دوڑائی جائے اور ان کو دور کرنے کی کوشش کی جائے

Comments are closed.