کیا پاکستان کے پاس انکا توڑ موجود ہے ؟

لاہور (ویب ڈیسک) نامور مضمون نگار لیفٹیننٹ کرنل (ر) غلام جیلانی خان اپنے ایک کالم میں لکھتے ہیں ۔۔۔۔۔۔ایس۔400 فضائی دفاعی نظام کی تکنیکی موشگافیوں کا علم تو مجھے نہیں اور اگر ہو بھی جائے تو میں اسے اپنے قارئین تک پہنچانے کی پروفیشنل اہلیت نہیں رکھ سکتا۔ اس کے حصوں پرزوں کے نام اور ان کا کنٹرول

اور اس کے ساتھ جڑے ریڈاری نظام کا فنکشن بجائے خود اردو زبان میں منتقل کرنا اور اسے قارئین تک رسائی دینا از بس دشوار کام ہے۔ لیکن پنجابی روزمرہ کے بموجب ”موٹی موٹی“ باتوں کا ذکر کرتے ہیں۔فضائی دفاع کا یہ نظام، روس کے لئے نیا نہیں۔ پہلے سسٹم کا نام S-100 رکھا گیا ہوگا، بعدازاں اس میں ترقی و ترمیم ہوتی گئی اور یہ S-200،S-300 اور S-400 تک جا پہنچا (اب اس کا اگلا ورشن S-500 بھی دستیاب ہے)…… دنیا کو جب اس کا تعارف کروایا گیا تو یہ 2007ء کا سال تھا۔ اسے روس میں ٹیسٹ کیا گیا۔ لیکن اس ٹیسٹنگ میں غیر ملکی مغربی نمائندوں کو بھی مدعو کیا گیا۔ ان کی رو سے یہ سسٹم اب تک دنیا میں جدید ترین اور کامیاب ترین فضائی دفاعی سسٹم ہے۔ چین اس کا پہلا خریدار تھا۔بعد میں سعودی عرب، ترکی، انڈیا، بیلاروس اور سربیا نے بھی اپنے اپنے آرڈرز بک کروائے۔ لیکن فی الحال چین کے بعد اسے ترکی اور انڈیا ہی کو سپلائی کیا گیا ہے۔ جہاں تک میں دیکھتا ہوں، سعودی عرب، بیلاروس اور سربیا کے پاس اس مہنگے سسٹم کی خرید کے لئے جیب تو ہو گی لیکن شائد دماغ نہیں ہوگا۔ ایک یونٹ کی قیمت 30 کروڑ ڈالر ہے لیکن اس میں انصرامی اور دوسری کئی طرح کی لاگت شامل نہیں۔ یہ لاگت شامل کی جائے تو ایک یونٹ کی قیمت ایک ارب ڈالر سے زیادہ جا پہنچتی ہے۔ انڈیا نے 5 ایس۔400 کا معاہدہ اکتوبر 2018ء میں کیا تھا جس کی کل لاگت 5.5 ارب ڈالر تھی۔ یہ ساری یونٹیں، انڈیا کو 2021ء کے اواخر تک مل جائیں گی۔

یہ سسٹم بظاہر انڈیا کو لداخ اور اروناچل پردیش کی سرحدوں پر چینی S-400 کے مقابلے کے لئے دیا گیا ہے۔ لیکن اس کا پہلا یونٹ پنجاب میں صف بند کیا جا رہا ہے۔ ساتھ ہی روسی عملہ بھی ہندوستانی عملے کی مدد کر رہا ہے۔ خبروں میں بتایا جا رہا ہے کہ اس سسٹم کے بعض اجزاء بذریعہ طیارہ اور بعض بذریعہ سمندر، انڈیا لائے جا رہے ہیں۔دنیا بھر میں اب تک کوئی ایسا ہتھیار نہیں بنایا گیا جس کا توڑ موجود نہ ہو۔ ماہرین کے نزدیک جب بھی کسی نئے ویپن سسٹم کو لانچ کیا جاتا ہے تو لانچ کرنے والے ملک کے پاس اس کا توڑ بھی موجود ہوتا ہے۔ جب یہ نیا سسٹم استعمال ہوتا ہے تو لانچ کرنے والا ملک، یہ دیکھتا ہے کہ باقی ملکوں نے اس کا کیا توڑ دریافت کیا ہے اور جب اسے معلوم ہوتا ہے کہ اس کا اپنا توڑ بہتر ہے تو وہ اس کی رونمائی اس وقت تک نہیں کرتا جب تک اس کی ضرورت نہ ہو۔ جوہری وارہیڈ کا توڑ جوہری وارہیڈ ہے لیکن اس کا استعمال اس لئے ممکن نہیں کہ یہ باہمی موت کا معاملہ ہے۔لیکن کیا ہتھیاروں سے لیس ڈرون، ایس۔400 سسٹم کے اٹیکس کو روک سکتے ہیں؟ ابھی اس کا جواب اس لئے نہیں دیا جا سکتا کہ اس کا تجربہ کسی اور ملک میں نہیں کیا گیا۔ اگر صومالیہ میں یہ تجربہ کر لیا جاتا تو شاید اس کے کچھ نتائج سامنے آتے۔ روس کے اس سسٹم کی کامیابی کا توڑ کرنے کے لئے مغربی بلاک (امریکہ، برطانیہ، جرمنی، فرانس)

دنیا کے کسی بھی دوسرے ملک میں صومالیہ جیسی صورتِ حال پیدا کرکے اس کا توڑ دریافت کرنے کی کوشش ضرور کرے گا!لیکن اس کا دوسرا موثر توڑ یہ ہے کہ کروز کی کھیپ پر تجربے کئے جائیں۔ بابر کروز مزایل کا ہمارا حالیہ تجربہ اسی سلسلے کی ایک کڑی تصور کیا جا سکتا ہے۔چونکہ انڈیا اور پاکستان کی سرحدیں (پنجاب میں) ایک دوسرے سے منسلک ہیں اس لئے انڈیا اگر چاہے بھی تو اس رشین سسٹم کا کوئی زیادہ موثر استعمال اس لئے نہیں کر سکتا کہ کروز مزایل ،سطح زمین سے اوپر کم سے کم بلندی پر تیرتا ہوا ہدف کی طرف بڑھتا ہے۔ پاکستان نے اس کروز مزایل کا تجربہ تو پہلے بھی کیا ہوا تھا لیکن اب اس کی رینج بڑھا دی گئی ہے۔ 21دسمبر کو جو تجربہ کیا گیا ہے وہ ایس۔400کے آئندہ استعمال کے پیش نظر کیا گیا ہے…… اس رشین سسٹم کا کوئی بھی مزایل ، پاکستان کے کروز مزایل کا توڑ نہیں کر سکتا…… میری نظر میں وجہ یہ ہے کہ رشین سسٹم سے چلائے جانے والے مزایل سطحِ زمین پر کم بلندی پر اڑنے والے کروزمزایل کو ریڈاری آنکھ سے کور (Cover) نہیں کر سکتے……دیکھنا یہ ہے کہ پاکستان آئندہ جن مزایلوں کا تجربہ کرے گا وہ کروز مزایل ہوں گے یا وہ روائتیمزایل جن کو رشین۔400 سسٹم نشانہ بنا سکتا ہے۔ پاکستان کے خلاف S-400کی انڈین پنجاب سیکٹر میں یہ ڈیپلانٹ بلاشبہ پاک بھارت کشیدگی میں اضافے کا باعث بنے گی۔ علاوہ ازیں اس صورتِ حال میں چین، پاکستان کی کیا مدد کرتا ہے اس کو دیکھنا بھی ابھی باقی ہے۔

Comments are closed.