کیا پیپلز پارٹی والوں نے واقعی مراد سعید سے بلاول بھٹو پر ہتھ ہولا رکھنے کی درخواست کی ؟

لاہور (ویب ڈیسک) ایمان داری کی بات ہے کہ مراد سعید صاحب کے اس دعویٰ نے مجھے حیران کردیا کہ پیپلز پارٹی کی جانب سے ان کے ساتھ بلاول بھٹو زرداری پر ’’ہتھ ہولا‘‘ رکھنے کے لئے رابطے کئے جاتے ہیں۔ 1985سے قومی اسمبلی کی کارروائی کا روزانہ کی بنیاد پر مشاہدہ کررہا ہوں۔اپنے تجربے کی بنیاد پر

اصرار کرنے کو مجبورہوں کہ میں نے محترمہ بے نظیر بھٹو صاحبہ سے زیادہ ’’جی دار‘‘ رکن قومی اسمبلی آج تک دیکھا ہی نہیں۔نامور کالم نگار نصرت جاوید اپنے ایک کالم میں لکھتے ہیں ۔۔۔۔۔۔وہ بطور وزیر اعظم یا قائد حزب اختلاف تقریر کرنے کو کھڑی ہوتیں تو ان کے مخالفین کی جانب سے راولپنڈی کی لال حویلی سے اُٹھے بقراطِ عصر جیسے چند حضرات رکیک جملے کسنا شروع ہوجاتے۔ایسے فقرے بھی اکثراداہوئے جو گلی کے اوباش اور تلنگے نوجوان خواتین کو دیکھ کر بولیں تو محلوں کے بزرگوں سے اکثر ’’کُٹ‘‘ کھاتے ہیں۔محترمہ بے نظیر بھٹو ایک لمحہ کو بھی کبھی قومی اسمبلی کے اجلاس میں شرکت سے گھبرائی نہیں۔اپنی ثابت قدمی سے آوازے کسنے والوں کو بلکہ بالآخر تھکا دیتیں۔ آکسفورڈ کے تقاریری مقابلوں میں حصہ لینے کی وجہ سے انہیں انگریزی زبان کا کاٹ دار استعمال خوب آتا تھا۔ وہ اس زبان کے Nuancesکو کمال مہارت سے بروئے کار لاتے ہوئے شورمچانے والوں کا مکوٹھپ دیتیں۔ اپنی تقریر کے بعد ایوان سے رخصت ہوتیں تو ان کی چال ’’کڑی کمان کا تیر‘‘نظر آتیں۔ یوں محسوس ہوتا کہ کوئی سپہ سالار کسی ’’مقبوضہ رقبے‘‘ کے دورے کے بعد اپنے دفتر واپس لوٹ رہا ہے۔محترمہ بینظیر بھٹو کے بیٹے اور سیاسی وارث ہوتے ہوئے بلاول بھٹو زرداری کو اپنے مخالفین کو ’’ہتھ ہولا‘‘ رکھنے کے لئے ’’پیغام‘‘ بھیجنے کی ضرورت محسوس نہیں ہونی چاہیے۔ اگر انہوں نے واقعتا ایسا کیا ہے تو اپنی بہادر ماں کی روح کو یقینا تکلیف پہنچائی ہے۔محترمہ بے نظیر بھٹو کے بدترین مخالف بھی دل سے یہ بات تسلیم کرنے کو مجبور ہیں کہ ان سے ’’نجات‘‘ پانے کے لئے بالآخر انہیں راولپنڈی میں دن دیہاڑے مار ڈالنا پڑا تھا۔ انہیں جھکانے کے تمام دیگر طریقے ناکام ہوگئے تھے۔عمران خان صاحب بھی اپوزیشن میں بہت ہی توانا اور جی دار نظر آتے رہے ہیں۔قومی اسمبلی کے اجلاس میں لیکن وزیر اعظم کا منصب سنبھالنے کے بعد شرکت سے گریز کرتے ہیں کیونکہ ان کی دانست میں وہاں ’’بدتمیزی‘‘ ہوتی ہے۔ بلاو ل بھٹو زرداری کو ا گر واقعتا اپنی والدہ کا حقیقی وارث ثابت کرنا ہے تو مسلسل قومی اسمبلی میں موجود رہیں۔اپنے مخالفین کو ’’ہتھ ہولا‘‘ رکھنے کے پیغام نہ بھجوائیں۔ قومی اسمبلی میں شاعری کے بیان کردہ میخانے کی طرح ’’پکڑی اچھلا‘‘ ہی کرتی ہے۔یہاں کے ماحول کا مقابلہ کریں ۔ ویسے بھی سیاست کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ “It is all about Heat and Dust”۔طیش اور گرد اس کھیل کا لازمی حصہ ہیں۔اس کا مقابلہ کریں۔

Sharing is caring!

Comments are closed.