کیا کچھ عرصہ بعد پاکستانیوں کو اسحاق ڈار کا منت ترلا کرنا پڑے گا؟

لاہور (ویب ڈیسک) نامور کالم نگار نعیم مسعود اپنے ایک کالم میں لکھتے ہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ آہ! 22سال ہم کیا کرتے رہے جو کشتی بھنور ہی میں ہے؟ وہ جو معاشی ٹیم تیار کی تھی اس میں آئیوڈین کی کمی رہ گئی یا پولیو کے ٹیکے نہ لگوا سکے؟ اجی ڈر لگنے لگا ہے کہ

تبدیلی والوں نے جو بیک گیئر لگا رکھا ہے، آخر تان اس پر نہ ٹوٹ جائے ’’جاؤ نی اونہوں موڑ لیاؤ میرے نال گیا جے لڑ کے‘‘ اور اسحاق ڈار کا ترلہ منت کرنا پڑجائے۔بات وہی ہے تحقیق سماجیات پر ہی ہوجاتی تو جمہوریت اور معیشت بیساکھیوں کے سہارے پر نہ ہوتی۔ اب تو بجلی کو آگ لگی دیکھ کر دل سے آواز آتی ہے ’’شکر ہے راجہ رینٹل تھا مینٹل تو نہ تھا!‘‘ جدید دور میں جس طرح جنیٹیکس اور مالیکیولر بائیالوجی کو الگ، ایسے ہی سوشیالوجی سے کریمنالوجی کو الگ نکال کر جانچا جانے لگا ہے حالیہ چیلنجز پکار رہے ہیں کہ شخصی بدعنوانی کی الگ اور سیاسی بدعنوانی کی الگ ریسرچ مقصود ہے علاوہ ازیں ان دونوں کو مالی بدعنوانی کی کسوٹی پر الگ الگ پرکھنا ہوگا، اگر، جمہوریت کی ہموار شاہراہ مطلوب ہے۔ اب دو تین دن پہلے عجب نہیں ہوا کیا، کہ وزیراعظم نے بطور ’’وزیر خزانہ‘‘ منظوری دی کہ کپاس اور چینی بھارت سے درآمد کرلیں مگر اگلے ہی دن کیبنٹ میٹنگ میں مزاری صاحبہ و قریشی صاحب اور شیخ صاحب و اسد صاحب نے اس کی مخالفت کردی اور اگست 2019 میں بھارتی آئین کی دفعہ 370 کو سبوتاژ کرکے کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کرنا یاد آگیا پس عوام کو یہ نہ لگے کہ ہم فیصلوں میں کمزور ہیں،کشمیر کارڈ زندہ باد۔ لیکن سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا وزیراعظم سے اختلاف کی بنیاد پر درآمد کا فیصلہ بدلا گیا یا اچانک شعور نے انگڑائی لی؟ واضح رہے کہ ‏وزیراعظم نے یکم ستمبر 2018میں 18رکنی اقتصادی مشاورتی کونسل بنائی جس میں نیشنل اور انٹرنیشنل ماہرین تھے تاہم وزیر اعظم کے فیصلوں میں اس کونسل کی مشاورت کہیں نظر نہ آئی،اب وزیراعظم ایک اور اقتصادی مشاورتی کونسل بنا رہے ہیں، کیا 5 سال یہی چلے گا؟ رہی یہ بات کہ، گیلانی ناگزیر نہ نوازشریف، مطلب یہ کہ جمہوریت مقدم رہنی چاہئے اور استقامت بھی، پیپلزپارٹی کو’’باپ ‘‘ کا محتاج نہیں ہونا چاہیے تھا۔ گیلانی صاحب کیلئے سینیٹ کی اپوزیشن لیڈرشپ کچھ بھی نہیں تھی۔ میاں نواز شریف جمہوریت نازل ہوئے ابھی جمعہ جمعہ آٹھ دن ہوئے ہیں مگر اعتدال ضروری ہے۔ بہرحال چاہتے نہ چاہتے ہمیں بلاول بھٹو اور مریم نواز ناگزیر لگنے لگے ہیں، بات پھر وہی، کہ بلاول بھٹو اور مریم نواز پر غور کیا جائے، کہ انہوں نے اپنے والدین سے کیا سکھا یا اُنہوں نے اِنہیں کیا سکھایا؟ ،تبدیلی کے بعد تکیہ کریں بھی تو کس پر؟ احساس ہونے لگا ہے کہ جمہوریت اور نئی نسل کا فہم ناگزیر ہے بشرطیکہ بناؤ کے دریچے کھلیں۔

Sharing is caring!

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *