کیا یہی ہے تبدیلی :

لاہور(ویب ڈیسک)وزیرا عظم عمران خان جب حکومت میں آئے تھے تو ان کا قوم سے ایک ہی وعدہ یا نعرہ تھا کہ وہ بلا تفریق احتساب کریں گے چاہے کچھ بھی ہوجائے۔جب اپوزیشن کے خلاف بدعنوانی کے کیسز کھلے اور وہ ایک کے بعد ایک کر کے قید میں جاتے گئے تو عوام کو لگا کہ

ان کا لوٹا ہوا پیسا واپس آئے گااور عمران خان واقعی اپنا وعدہ پورا کر دکھائے گا۔مگر آہستہ آہستہ انکشاف ہوا کہ بدعنوانی کے کیسز کی چھان بین اور احتساب کا شکنجہ تو صرف اپوزیشن اور ناپسند افراد کے خلاف ہے جو وزیراعظم کے آس پاس بیٹھے ہیں یا حکومت کا حصہ ہیں ان کے نیب یا ایف آئی اے میں کیسز ہونے کے باوجود بھی کارروائی عمل میں نہیں لا ئی جا رہی۔ ادویات کی قیمتیں بڑھنے سے آٹا مہنگا کرنے والوں تک،چینی چوری اسکینڈل سے لے کر بیوروکریسی کے معاملات تک کچھ بھی بہتر نہیں ہوا سوائے بیوروکریسی کو دبانے اور افسران کے تبادلے کرنے کے۔حال ہی میں شوگر انکوائری کیس بڑا اچھلتا رہا اسی کیس کی پاداش میں سجاد باجوہ نامی ایک ایف آئی اے کے افسر کو محکمانہ کارروائی کے نتیجے میں فارغ کر دیا گیا جبکہ اس افسر نے نجی ٹی وی چینل کے ایک پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ مجھے فارغ کرنا سوائے انتقام کے اور کچھ نہیں تھا۔نہ تو میں نے کسی قسم کے شوگر انکوائری رپورٹ کے راز افشاں کیے ہیں اور نہ ہی کچھ اور کیا ہے۔چینی کیسے باہر گئی کس نے پروپوزل دیااور کس نے اجازت دی ان لوگوں کے نام اگر سامنے آ جائیں تو دودھ کا دودھ اور پانی کا پانی ہو جائے گا۔جبکہ میرے اوپر ملبہ ڈالنے کی کوشش کی جا رہی ہے جنہوں نے شوگر کیس میں پیسے کمائے ان کا ابھی تک کچھ نہیں کیا گیا۔اینکر کے سوال کے جواب میں سابق ایف آئی اے آفیسر سجاد باجوہ کا کہنا تھا کہ میں جب گھوٹکی کی ایلائنس شوگر مل کا احتساب کر رہا تھا تب مجھے فارغ کر دیا گیا۔کیونکہ وہ مل خسروبختیار اور پرویز الٰہی کے بیٹے مونس الٰہی کی ہے اس لیے اس کے خلاف انکوائری کرنے کی پاداش میں مجھے نوکری سے فارغ کر دیا گیا۔

Sharing is caring!

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *