کیس میں نیا موڑ ، معاملہ مزید الجھ گیا

ملتان (ویب ڈیسک) نامور صحافی شاہد اسلم بی بی سی کے لیے اپنی ایک رپورٹ میں لکھتے ہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔22 جنوری بروز جمعہ صبح 11 بجے کے قریب گھر کا دروازہ کھلتا ہے اور ایک شخص کرنسی کے نئے نوٹ دے کر چلا جاتا ہے جو اوپر والی منزل پر رہنے والے مکین کے حوالے کر دیے جاتے ہیں۔

یہ نئے نوٹ کروڑ پتی باپ نے اپنی اکلوتی بیٹی کے لیے منگوائے ہیں کیونکہ وہ اگلے روز کراچی ایک امتحان کے لیے جا رہی ہے اور باپ کو خدشہ ہے کہ کہیں بیٹی دوسرے شہر میں استعمال شدہ نوٹوں سے کورونا وبا میں مبتلا نہ ہو جائے۔تقریباً 40 منٹ بعد اوپر والی منزل پر اسی کمرے میں جہاں اپنی بیٹی کو بے پناہ پیار کرنے والا باپ روزانہ پڑھاتا ہے، وہیں انکی بیٹی جو تین بچوں کی ماں ہے، زخمی حال میں بیڈ پر گر جاتی ہے جسے فوراً ہسپتال لے جایا جاتا ہے لیکن وہ راستے میں ہی دم توڑ جاتی ہے کچھ دیر بعد جب باپ کا کمرہ دیکھا جاتا ہے تو وہ اندر سے بند ملتا ہے اور مسلسل دستک کے بعد بھی نہیں کھلتا۔ اسی دوران پریشانی کے عالم میں پولیس کو بلا لیا جاتا ہے جو دروازہ توڑ کر اندر داخل ہوتی ہے اور باپ بھی جان بحق حالت میں ملتا ہے پولیس کے مطابق ملتان کے مشہور ماہر نفسیات ڈاکٹر اظہر حسین نے بظاہر اپنی لاڈلی بیٹی ڈاکٹر علیزہ جسے وہ پیار سے پنکی کہتے تھے، کو مبینہ طور پر دانستہ یا غیر دانستہ زندگی سے محروم کرکے خود بھی موت کو سینے سے لگا لیا ہے ۔ ڈاکٹر اظہر حسین نشتر ہسپتال ملتان کے شعبہ نفسیات سے ریٹائر ہو کر گذشتہ کئی برسوں سے اپنا کلینک چلا رہے تھے اور روزانہ درجنوں مریضوں کا چیک اپ کرتے تھے۔ابھی اس لاڈ، پیار سے پالی اس سلجھی اور سمجھدار بیٹی کی مبینہ طور پر باپ کے ہاتھوں زندگی سے محروم کیے جانے

اور اس کے نتیجے میں ڈاکٹر اظہر حسین کی بظاہر موت کو سینے سے لگانے کی خبر کو محض ایک ہفتہ ہی گزرا تھا کہ 29 جنوری کو ڈاکٹر اظہر حسین کے ایک چھوٹے بھائی ڈاکٹر محب سلیم کی بھی سخی سلطان کالونی میں واقع ان کے گھر میں پراسرار حالات میں جان بحق ملے ۔ اوپر تلے ایک ہی خاندان کے ان تین ڈاکٹروں کی اس طرح اچانک اموات نے نہ صرف ملتان میں غم کی لہر دوڑا دی بلکہ آس پاس کے علاقوں میں بھی ایسی ہی کیفیت رہی کیونکہ ڈاکٹر اظہرحسین نہ صرف ملتان بلکہ پورے جنوبی پنجاب میں ایک نامور ماہر نفسیات تھے۔ لوگ سمجھنے سے قاصر ہیں کہ ایک باپ جو اپنی اکلوتی بیٹی سے اس قدر پیار کرتا ہو، اسے کیسے زندگی سے محروم کر سکتا ہے۔ پنکی کے خاوند اور ڈاکٹر اظہر حسین کے داماد ڈاکٹر عدنان اعجاز، ڈاکٹر اظہر حسین کی بیوہ بشریٰ بیگم، ڈاکٹر اظہر حسین کے بھائیوں علی حسن اور اشرف ضیا اور پنکی کے نشتر میڈیکل کالج میں استاد اور شعبہ نفسیات کے سربراہ ڈاکٹرنعیم ﷲ لغاری سب اس بات پر متفق ہیں کہ باپ، بیٹی کا رشتہ انتہائی شاندار تھا۔ڈاکٹر اظہر حسین نے اپنی اکلوتی بیٹی کو بڑے لاڈ اور پیار سے پالا تھا اور والدین کی جان ان میں اٹکی ہوئی تھی۔ ابھی کچھ ماہ قبل ہی بیٹی کو اپنے گھر کے بالکل سامنے کروڑوں روپے مالیت کا کا گھر بنا کر دیا تاکہ وہ ہر وقت آنکھوں کے سامنے رہے۔ڈاکٹر اظہر حسین کی بیوہ بشریٰ بیگم نے بی بی سی کو بتایا کہ حادثے والے دن صبح دس بجے کے

آس پاس انھیں ہر روز کی طرح پنکی کا فون آیا کہ انھیں سسرال سے پک کر لیں۔’ہم بیٹی کو پیار سے پنکی کہتے تھے اور ان کے والد نے جب یہ پیدا ہوئی تب سے یہ نام رکھا ہوا تھا کیونکہ وہ کہا کرتے تھے کہ جس طرح بے نظیر، ذوالفقار علی بھٹو کی پنکی ہے اسی طرح علیزہ میری پنکی ہے۔‘بشریٰ بیگم کے مطابق ان کے خاوند کو کورونا فوبیا تھا اور انھوں نے کورونا کے دنوں میں گھر سے باہر نکلنا مکمل طور پر چھوڑ دیا تھا۔بشریٰ بیگم نے مزید بتایا کورونا کی وجہ سے ان کے شوہر بہت پریشان تھے اور گذشتہ کچھ ماہ سے خود کو بالکل الگ تھلگ کر لیا تھا۔’وہ کسی سے بھی ملتے جلتے نہیں تھے، نہ ہی رشتہ داروں سے اور نہ ہی مریضوں سے۔ مریضوں کو سٹاف چیک کر کے انھیں انٹر کام پر اطلاع دیتا اور وہ دوائی لکھوا دیتے۔ گھر میں بیٹی کے لیے سینیٹائزر کی بوتلیں اور N-95 ماسک کے کئی کاٹن لا کر رکھے ہوئے تھے۔‘ایس ایچ او تھانہ چہلیک انسپکٹر بشیر ہراج نے بی بی سی کو بتایا کہ تحقیقات سے یہ بات ثابت ہوتی ہے کہ ڈاکٹر اظہرحسین نے 2016 میں کنیز فاطمہ نامی ایک لڑکی سے دوسری شادی کر رکھی تھی جو بطور سٹاف ان کے کلینک پر کام کرتی تھی۔بشیر ہراج کے مطابق ان کی کنیز فاطمہ سے بات ہوئی ہے جس نے بتایا کہ ان کی شادی نومبر 2018 تک چلی کیونکہ ان کی پہلی بیوی بشریٰ بیگم کو جب اس بارے میں پتا چلا تو انھوں نے کنیز فاطمہ کو بہت تنگ کرنا شروع کر دیا، جس کے بعد دونوں نے باہمی رضا مندی سے علحیدگی اختیار کر لی اور طلاق ہو گئی۔ایس ایچ او بشیر ہراج کے مطابق کنیز فاطمہ اب اسلام آباد میں رہتی ہیں اور بطور ماہر نفسیات کسی کلینک پر کام کر رہی ہے۔دوسری طرف علی حسن بھی اس بات سے اتفاق کرتے ہیں کہ کنیز فاطمہ نام کی ایک ماہر نفسیات ڈاکٹر اظہر حسین کے کلینک پر بطور سٹاف کئی سال کام کرتی رہی ہے۔ انھوں نے کہا کہ وہ نہیں کہہ سکتے کہ کنیز فاطمہ اور ان کے بھائی کا کوئی افیئر تھا یا شادی کیونکہ ان کے بھائی کبھی کچھ بتاتے نہیں تھے۔

Sharing is caring!

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *