کیمیکل کاسٹریشن دراصل ہے کیا اور اس کا پاکستانی معاشرے کو کوئی فائدہ کیوں نہیں ہو گا ؟

لاہور (شیر سلطان ملک ) موٹروے پر ہونیوالے سانحہ نے پاکستانی قوم کو دہلا کر رکھ دیا ہے ، ایسے میں عوام کی جانب سے مجرموں کو سرعام سزا کا مطالبہ جب کہ حکومت کیمیکل کاسٹریشن سمیت مختلف تجاویز پر غور کر رہی ہے ۔ یہ کیمیکل کاسٹریشن آخر کیا ہے ، بی بی سی کی ایک ویڈیو رپورٹ میں

اس حوالے سے حیران کن انکشافات سامنے آئے ہیں ۔کیمیکل کاسٹریشن دراصل ایک ایسا طریقہ کار ہے جس میں مردوں یا مجرموں کو انکی خواہش پر ایسی دوائیاں دی جاتی ہیں جو انکی خواہشات کو کم یا ختم کرنے میں مدد گار ثابت ہوتا ہے ۔کیمیکل کاسٹریشن کا قانون جن ممالک میں رائج ہے وہاں ایسے جرائم میں ملوث ایسے مردوں کو انکی خواہش اور رضا پر ایسی دوائیاں دی جاتی ہیں جو یہ سمجھتے ہیں کہ اس سے انکو بے قابو خواہشات پر قابو پانے میں مدد ملے گی ۔ جان لیجیے کہ اس میں کسی قسم کی عبرت یا سر عام نظارہ جو آج کل پاکستانی سمجھ رہے ہیں شامل نہیں ہے ۔یہ صرف ایک بے ضرر سا طبی طریقہ کار ہے کہ ایک دوائی کھائی اور خواہشات کے نہ جاگنے یا کم ہونے کا انتظار ۔۔۔۔ کیمیکل کاسٹریشن کا مطلب ہرگز یہ نہیں کہ بیچ چوراہے کسی مجرم کو اسکے مخصوص اعضاء سے تلوار کے ذریعے محروم کردیا جائے گا ۔ اور لوگوں کے دلوں پر اسکی ایسی دھاک بیٹھے گی کہ آئندہ کوئی شخص اس فعل کا سوچے گا بھی نہیں ۔۔۔ نہیں جناب ایسا ہرگز نہیں ہے۔ اور بالفرض کسی کو کیمیکل کاسٹریشن کے ذریعے زبردستی ناکارہ کر بھی دیا گیا تو اس سےاس کی سوچ نہیں بدلے گی بلکہ وہ اپنے ارادوں پر عمل کا کوئی اور طریقہ ڈھونڈ نکالے گا ، ایسے مجرم کو مار ڈالنا آسان ترین جب کہ اس سوچ اور اس معاشرے کو بدلنا ایک طویل اور مشکل ترین عمل ہے۔بہتر یہی ہے کہ نہ صرف سڑکوں اور عوامی مقامات بلکہ گھروں اور چاردیواریوں کے اندر بھی اس جرم اور اس رجحان کو ختم کرنے کی سوچ کے ساتھ اقدامات اور فیصلے کیے جائیں کیونکہ یہ خاص جرم ہر جگہ اور ہر وقت ہو رہا ہے ۔ (ش س م)

Sharing is caring!

Comments are closed.