کی دم دا بھروسہ یار دم آوے نہ آوے۔۔۔۔۔۔

لاہور (ویب ڈیسک) سلطان راہی نے کبھی فلم کے ٹائٹل پر لڑائی نہیں کی۔ وہ صرف فلم میں اپنا کام سنتے تھے۔ یہ کبھی نہیں کیا کہ میرا ٹائٹل کیوں نہیں ہے۔ کام کا ان کو جنون تھا وہ چاہتے تھے کہ انڈسٹری چلتی رہے۔ مسعود بٹ نے کہا کہ فلموں میں زیادہ تر ہم

ان کو بدمعاش ہی بناتے تھے۔ مجھے کہتے تھے کہ ’’جب میں مر گیا تو کس کو بدمعاش بنائو گے۔کوئی بدمعاش نہیں بنے گا۔ تم بڑا مس کرو گے مجھے… ‘‘ایسی ایسی باتیں کرتے تھے۔ مسعود بٹ نے فلم ’’سخی بادشاہ‘‘ کا ایک واقعہ سنایا کہ فلم شروع ہو گئی۔ فلم کا گانا بڑا اچھا بن گیا۔ ’’کی دم دا بھروسا یار دم آوے نہ آوے‘‘ جب میں نے راہی صاحب کو یہ گانا سنایا تو انہوں نے مجھے کیسٹ دی۔ اس وقت کیسٹ کا زمانہ تھا۔ مجھے کہنے لگے کہ اس کیسٹ کے دونوں طرف یہ گانا بھروا دو۔ میں نے کہا آپ نے کیا کرنا ہے اور گانے بھی ہیں۔ کہنے لگے کہ نہیں تم بھروا دو… وہ اپنی گاڑی میں یہ گانا ہر وقت سنتے رہتے تھے۔ جب یہ گانا پنڈ آرائیں اور شباب اسٹوڈیو میں شوٹ کیا تو راہی صاحب نے گھوڑے پر بیٹھنا تھا، گھوڑا ان کو بہت تنگ کر رہا تھا۔ وہ اپنے سر کو اوپر نیچے مارتا تھا۔ مجھے راہی صاحب نے کہا کہ ’’یار اے گھوڑا مینوں بہت تنگ کر ریا اے، ایہہ مینوں مارے گا، میں گھوڑے دی واگ پھڑ کے آناں واں، میں ایہدے اُتے نہیں بینا‘‘ میں نے کہا نہیں آپ نے گھوڑے پر بیٹھنا ہے۔ سین کی ڈیمانڈ ہے۔ کہنے لگے ’’یار گھوڑا مینوں تنگ کر ریا اے‘‘ میں نے کہا کہ بیٹھیں، وہ بیٹھ گئے، وہ معصوم انسان تھے حالانکہ وہ اسٹار تھے، کہتے میں نے نہیں بیٹھنا تو میں کیا کرسکتا تھا۔ میں نے گھوڑے پر بیٹھنے کی ضد کی۔ میں نے ٹرالی لگوائی، میں ٹرالی کو دیکھ رہا ہوں۔ صائمہ ان کے پاس کھڑی تھی، وہ گھوڑے پر بیٹھے تھے۔

میں نے دیکھا گھوڑے نے سر نیچے سے اوپر کیا تو راہی صاحب کو اس کا سر لگا۔ ان کا ہونٹ پھٹ گیا، خون نکل آیا، میں نے دیکھا تو منہ دوسری طرف کر لیا۔ جیسے میں نے دیکھا ہی نہیں۔ صائمہ میرے پاس چل کر آئی، کہنے لگی بٹ صاحب، راہی صاحب کو گھوڑے نے مارا ہے۔ میں نے کہا میں نے دیکھ لیا ہے تم بھی اِدھر ہی کھڑی ہو جائو۔ اتنے میں راہی صاحب گھوڑے پر بیٹھے بیٹھے میرے پاس آئے۔ کبھی انہوں نے مجھے بٹ صاحب نہیں کہا ’’سوداں‘‘ کہتے تھے۔ پہلی بار انہوں نے کہا ’’بٹ صاحب‘‘ میں نے کہا جی آغا جان۔ کہتے ہیں ’’ایہہ مینوں گھوڑے نے ماریا اے میں تانوں منع کیتا سی‘‘ ان کے ہونٹ سے خون نکل رہا تھا۔ میں نے کہا کہ یہ کیا ہوا، جیسے مجھے پتہ نہیں۔ گم منگوائی، بریک آئل منگوایا ان کا خون روکا۔ کہتے ہیں اب کیا کرنا ہے، میں نے کہا گھوڑے پر ہی بیٹھنا ہے۔ کہتے ہیں ٹھیک ہے۔ انہوں نے گانا شوٹ کروایا اور خود ہی گھوڑا دوڑایا، کوئی ڈپلیکیٹ نہیں لیا۔ جب گانا ان ڈور کر رہے تھے ان کو گانا بہت پسند تھا۔ گانے سے پہلے سین کیا توگانے سے پہلے سین تھا کہ صائمہ ہندوستان سے بھاگ کر پاکستان آ جاتی ہے۔ وہ سین بڑا زبردست تھا۔ وہ سین کرتے کرتے رات کے اڑھائی بج گئے۔ راہی صاحب نے کہا کہ یار اس کے بعد گانا ہے ناں اس موڈ میں کرتے ہیں۔ گانے کو بھی ختم کرتے ہیں۔ میں نے کہا صائمہ سین کرے گی، وہ تین بجے چلی جائے گی۔ کہنے لگے اس کو میں کہتا ہوں۔ وہ کرے گی۔ میں نے کہا کہ وہ کرتی ہیں تو میں کرتا ہوں مجھے کیا ہے۔ راہی صاحب نے صائمہ کو کہا، صائمہ نے کہا کہ ابھی تین بج گئے ہیں۔ یہ کب تک گانا ختم ہو گا، کہنے لگی یہ پانچ ، نہیں صبح کے سات آٹھ بجیں گے، آپ کو اس کے کام کا پتہ نہیں۔ راہی صاحب نے کہا کہ میں ’سوداں‘ کو کہتا ہوں، راہی صاحب کو صائمہ نے انکار نہیں کیا۔ گانا شروع کر دیا، صبح پونے آٹھ بجے گانا ختم ہوا۔ صائمہ نے کہا کہ میں نے کہا تھا ناں، یہ آٹھ بجے ختم ہو گا۔ راہی صاحب گانے میں پوری طرح انوالو ہوگئے تھے، جیسے ان کو خبر ہو گئی تھی کہ یہ ان کی زندگی کا آخری گانا ہو رہا ہے۔ اس گانے میں اپنے ہر سین کے بارے میں پوچھتے تھے اور سین کو ڈسکس کرتے تھے۔ فلم بن گئی۔

Sharing is caring!

Comments are closed.