کے پی کی میں حکومتی اور انتظامی سطح پر اب کیا دنگل شروع ہونیوالا ہے ؟

لاہور (ویب ڈیسک) نامور کالم نگار سہیل دانش اپنے ایک کالم میں لکھتے ہیں ۔۔۔۔۔۔۔عمران خان کے لئے یہ کوئی اچھی خبر نہیں کہ انہیں اپنے ہی گھر پشاور میں پسپا ہونا پڑا ہے اور 69سالہ وزیر اعظم جو ہار ماننے کے لئے کبھی آمادہ نہیں ہوتے۔اب اس بات کا اعتراف کرنے پر مجبور ہیں کہ یہ ان غلط فیصلوں کا نتیجہ ہے۔

جس کا خمیازہ انہیںبھگتناپڑا ہے۔ بلدیاتی انتخابات کے اس اکھاڑے میں ایسا دکھائی دے رہا ہے کہ تحریک انصاف اس وقت سکتے کی کیفیت میں ہے۔اس میں کوئی شک نہیں کہ تحریک انصاف کا پاور بیس خیبر پختونخواہ ہی ہے اور اس صوبے میں وہ سب سے زیادہ متحرک رہی ہے لیکن نتائج بتا رہے ہیں کہ مہنگائی اور بے روزگاری کا وار بہت کاری لگا ہے اور بہت بڑی تعداد میں لوگوں نے اپنی مایوسی کا اظہار کیا ہے۔سب سے پہلے جناب وزیر اعظم سے میری گزارش یہ ہے کہ اگر تاریخ میں حکمرانوں کی انفرادی ایمانداری اور شخصی شرافت کی کوئی اہمیت ہوتی تو اس ملک کا بچہ بچہ جانتا ہے کہ اس ملک کا ایک وزیر اعظم تھا جس کی شیروانی کے نیچے کرتا نہیں ہوتا تھا۔ اسی ملک میں ایک وزیر اعظم ایسا بھی گزرا ہے اپنے کچن میں برتن مانجھتے مانجھتے جس کی اہلیہ کے ہاتھ پھٹ گئے تھے۔ وہ شخص بھی اس ملک کا وزیر اعظم تھاجس کا پوری دنیا میں مکان نہیں تھا۔وہ بھی اس ملک کا صدر تھا۔جس کی آخری زندگی لندن میں کرائے کے فلیٹ میں گزری اور اس کی بیوی کو ایک پی آر او کی تنخواہ میں گزارا کرنا پڑا۔وہ بھی اسی ملک کا لیڈر تھا جو کوچ کے حادثے میں چل بسا تو جیب سے برآمد ہونے والی رقم سے اس کی تدفین تک ممکن نہیں تھی اور اس ملک میں ایک ایسا مطلق العنان حکمران بھی گزرا ہے جو امریکہ کے دورے پی آئی اے کی عام فلائٹ پر تمام مسافروں کے ساتھ گیا۔

لیکن اب کوئی ان میں سے کسی کا ذکر نہیں کرتا۔کیونکہ ان کے کھاتے میں ذاتی ایمانداری کے سوا کوئی کارنامہ نہیں۔انہوں نے کوئی قوم تعمیر نہیں کی۔انہوں نے کوئی نیا نظام نہیں دیا۔ انہوں نے کسی سسٹم کی اصلاح نہیں کی نہ انصاف دلایا نہ تعلیم‘نہ صحت‘ نہ عزت‘ نہ طبقاتی تفریق ختم کی اور نہ ہی معاشی عدل قائم کیا لہٰذا تاریخ نے انہیں بھلا دیا اور انسانی حافظے نے انہیں فراموش کر دیا۔ جب آپ لوگوں سے وعدہ کر رہے تھے کہ اگر آپ برسر اقتدار آئیں گے تو نہ جانے کیا کچھ کر گزریں گے۔آپ کو یہ بھی معلوم تھا کہ لوگوں نے آپ سے کیا امیدیں وابستہ کر رکھی ہیں۔ قوم کی تو خواہش تھی آپ کی تصویر کو سلیوٹ کرتی۔شاعر آپ پر نغمے لکھتے ،گلوکار اِسے گانے میں فخر محسوس کرتے۔ پاکستان کے عوام گو سمجھتے تھے کہ 74سال سے مایوس اور بکھرے ہوئے ہجوم کو آپ نے ایک قوم بنا دیالیکن اس طرح ناکام ہو رہے ہیں جیسے ایک اتفاق آپ کو ایوان اقتدار تک لے آیا اور دوسرا اتفاق بہا لے گیا۔قدرت نے لوگوں کا مقدر بدلنے کا موقع دیا تھا لیکن پی ٹی آئی کی حکومت اس کا فائدہ نہیں اٹھا پائی۔ آپ کا کہنا تھا کہ جس معاشرے میں انصاف نہیں ہوتاوہاں کوئی قانون نہیں ہوتا اور جہاں قانون نہیں ہوتا وہاں انسان نہیں بستے۔ یہ بھی کہا گیا کہ قانون پانی طرح ہوتا ہے اگر وہ ہی گندا اور جان لیوا ہو تو فصلیں کس طرح صحت مند ہو سکتی ہیں۔پھلوں میں توانائی کیسے آ سکتی ہے۔

آپ نے ہی کہا تھا کہ تاریخ میں وہی حکمران زندہ رہتے ہیں جو قانون بناتے ہیں۔ جو مظلوموں کے آنسو پونچھتے ہیں، جو ظالم کا راستہ روکتے ہیں۔ آپ نے ہی کہا تھا کہ ملک کا سیاستدان بددیانت ہو۔حکمران لالچی ہو‘مولوی منافق ہو، دانشور چور ہو اور جج بدعنوان ہواس ملک کے قائم رہنے کا کوئی جواز نہیں ہوتا اور آپ کا کہنا تھا کہ قدرت ہمیں اصلاح کا ایک موقع ضرور دے گی اور آپ نے آسمان کی طرف دیکھ کہا تھا کہ آپ اس وطن کو ریاست مدینہ کے طرز پر چلائیں گے۔آپ نے ہی بڑی حسرت سے کہا تھا کہ اگر کبھی مجھے اختیار مل گیا تو میں عدالتی نظام درست کر دوں گا۔ہمارے عمل اور کردار میں کوئی جھول نہیں ہو گا ۔لیکن افسوس صد افسوس ‘یہی المیہ ہے ہمارے ملک کا کہ جب تک وزیر اعظم نہیں بن جاتے اس وقت تک پاکستانی رہتے ہیں جب تک پارلیمنٹ ہائوس کے ٹھنڈے گرم ہالوں میں گھومنے والی گداز کرسیوں پر نہیں بیٹھتے۔ آج اس بات کا جائزہ لیا جا رہا ہے کہ تحریک انصاف اس بری طرح کیوں ہاری ،اس کے بعض رہنما یہ مطالبہ بھی کر رہے ہیں کہ ان انتخابات میں ناکامی کی وجوہات تلاش کرنے کے لئے باقاعدہ انکوائری ہونی چاہیے۔عمران خان نے تو صاف کہہ دیا کہ ان انتخابات میں امیدواروں کا غلط چنائو ناکامی کی وجہ بنا۔ پہلے مرحلے میں 17اضلاع میں ہونے والے انتخابات میں تحریک انصاف بہت بری طرح پٹی ہے۔عمران خان مان رہے ہیں کہ ہم نے غلطیاں کیں جس کی قیمت ادا کی۔درحقیقت یہ ہوش کرو کال تھی اور یہ بہت تگڑی ہے اب خیبر پختونخوا میں دمادم مست قلندر ہو گا وہ کیسے ہو گا؟۔پی ٹی آئی تو برسر اقتدار ہے لیکن نیچے کی سیٹوں پر مولانا فضل الرحمن آ کر بیٹھ گئے ہیں۔ جہاں مولانا نہیں ہیں وہاں اے این پی ہے اور یہ سارے مل کر صوبائی حکومت کا ناک میں دم کر سکتے ہیں یہ فنڈز مانگیں گے مانگنے بھی چاہئیں۔صوبائی حکومت کوفنڈز دینے بھی ہوں گے اور دینے بھی چاہئیں۔اگر بلدیاتی حکومتیں کام نہیں کریں گے تو ان کا استدلال ہو گا کہ صوبائی حکومت روڑے اٹکا رہی ہے اور اگر کام ہوں گے تو یہ کہیں گے کہ یہ تو ہمارے آنے سے تبدیلی آئی ہے۔اس طرح فضا میں عجیب بیانات کی گھن گرج سنائی دے گی۔

Comments are closed.