کے پی کے سے تعلق رکھنے والے مشہور صحافی کے انکشافات

لاہور (ویب ڈیسک) وفاق میں قریباً 4سال اور پختونخوامیں گزشتہ 8سال سے برسراقتدار پی ٹی آئی کی حکومت کوصوبے کے بلدیاتی انتخابات میں شکست سے تبدیلی کے وہ آثار ہویداہوئے ہیں، جس تبدیلی کیلئے اپوزیشن کمربستہ ہے،یہ منظرنامہ اس باعث ہوش رباکیف لیےہوئے ہے کہ پی ٹی آئی شاید وہ تبدیلی نہ لاسکی

جو اسکا سلوگن اور بالخصوص اس سلوگن پر مستانہ واررقص کناں نوجوانوں کا خواب تھا۔نامور کالم نگار اجمل کثر خٹک اپنے ایک کالم میں لکھتے ہیں ۔۔۔۔۔۔۔وفاقی وزیر شبلی فراز صاحب کا یہ کہنا کہ پی ٹی آئی کو پی ٹی آئی نے شکست دی دراصل یہ باورکراناہےکہ گویااپوزیشن اس قابل نہ تھی کہ وہ پی ٹی آئی کویوں رسواسربازارکرتی۔ جہاں یہ تجاہل عارفانہ ہے وہاں اس سے تو یہ بات پھر آشکار ہوتی ہےکہ پی ٹی آئی عہدوں اورمنصب کی خاطر ایک دوسرے کو قبول کرنےکیلئے تیارنہیں! تو وزیر موصوف کی اس دلیل سےکیایہ حقیقت سامنے نہیں آتی کہ پی ٹی آئی نظریات سے عاری نعرہ زن ہجوم پر مشتمل ہے۔ بہرصورت جہاںجے یوآئی نے پی ٹی آئی کی ایستادہ عمارت کو ہلا کر رکھ دیا وہاں اے این پی نے بھی گرتی ہوئی دیواروں کو ایک دھکا اور دینے میں کسی تساہل کا مظاہرہ نہیں کیا۔ پاکستانی سیاست اگرچہ بازیچہ اطفال ہے، اس لیے یہاں کا ’لے پالک ‘سیاسی نظام اس قدر ناپائیدار ہےکہ کل کا کچھ پتہ نہیں کہ کیا سےکیا ہوجائے چہ جائیکہ مستقبل کے بارے میں کوئی پیش گوئی کی جاسکی۔پھر ہمارے ہاں ’ہوا‘کارخ بھی رخ ِ زیباکے نقش ونگارطے کرنے کے حوالے سے معروف ہے، بالخصوص پختونخواکے ’’متلون مزاج‘‘عوام تو اس میں اپنا ثانی نہیں رکھتے۔ان تمام باتوں کے باوجود چونکہ عام انتخابات سے قبل بلدیاتی یا ضمنی انتخابات کے متعلق کہاجاتاہے کہ اس سے آئندہ کے معرکے کا ٹرینڈسیٹ ہوتاہے،اس بات کے تناظرمیں جے یوآئی اور اے این پی میں عام انتخابات میں ٹاکرے کےامکانات ہیں

۔جے یوآئی کی شاندار کامیابی میں ایک سے زائد عوامل کارفرماہیں، ہم اس سلسلے میں اس منطق سےاتفاق نہیں کرتے کہ افغانستان حکومت کے پشتی بان پاکستان میں بھی اُن کے فطری حلیفوں کیلئے نرم گوشہ رکھنے لگے ہیں۔ یہ البتہ ضرور ہےکہ سابق صدر اشرف غنی، حامدکرزئی اور عبداللہ عبداللہ جیسے امریکی تنخواہ داروں کی جانب سے عین امریکی ایجنڈے کے تحت کسی مزاحمت کے بغیر کابل کو تالبان کے حوالے کرنے سے پاکستان میں جے یوآئی کو زبردست تقویت ملی ہے،پی ڈی ایم کی سربراہی بھی رنگ لائی۔ پی ڈی ایم کی جدوجہد تو لاحاصل رہی لیکن جےیو آئی نے اس سے فائدہ سمیٹا۔جے یوآئی جہاں مذہبی کارڈ کواستعمال کرنےکا ہنرجانتی ہے وہاں ان انتخابات میں وہ الیکٹ ایبلزکو بھی میدان میں اُتارلائی،ضلع کرک کی تین تحصیلوں میں جے یوآئی کے اُمیدواروں میں ایک بھی مولوی صاحب نہیں،اسی طرح پشاورکے میئر زبیر علی ایک صنعتکارگھرانےکے چشم وچراغ ہیں،اس نشست پر 50ہزارسےزائدووٹ لینے والے پی ٹی آئی کے رضوان بنگش کاروباری شخصیت، پی پی کے اُمیدوار ارباب عالمگیرخان کے فرزندتھے،دلچسپ امر یہ ہے کہ49ہزارووٹ لینے والےاے این پی کے اُمیدوار شیررحمان اس حلقے میں واحد اُمیدوار تھے جو متوسط طبقےسے تعلق رکھتے ہیں۔یہ انتخابات اس حوالے سے اے این پی کیلئے حوصلہ افزارہے کہ بدامنی کی وجہ سےاس جماعت کے ہزاروں کارکن ورہنما زندگیوں سے محروم ہوئے تھے،بدامنی اس جماعت پر ایسی مسلط تھی کہ 2018کے انتخابات میں یہ انتخابی مہم تک نہ چلاسکی یہی وجہ ہے کہ 2015کے بلدیاتی اور2018کے عام انتخابات میں اسے شدید دھچکا لگا،حالیہ انتخابات سے جہاں اس جماعت

کی بحالی کا عمل شروع ہوا، وہاں علالت کے سبب عملی سیاست سے دور اسفند یارولی خان کے صاحبزادے ایمل ولی خان نے بہترحکمت عملی کی وجہ سے خودکو منوایا۔ پورے صوبے میں جہاں اس جماعت کے ووٹوں میں زبردست اضافہ ہواوہاں پہلی مرتبہ اس جماعت کاکردار جنوبی اضلاع تک پھیل گیا، نورنگ، ٹانک،ٹل، کرک میںاچھی کارکردگی کا مظاہرہ کیا۔ جنوبی اضلاع نیپ کے گڑھ تھے لیکن بعدازاں مطلوبہ توجہ نہیں دی جا سکی۔ اکثرمقامات پر پارٹی کےدیرینہ کارکن کامیابی کے امکانات نہ ہونے کے باوجود اپنی جماعت کو فعال کرنےکیلئے میدان میں اُترے، تحصیل لاچی باچاخان کا مسکن تھا وہ یہاں میرولی بابا اور شاہ ولی باباکے ہاں آتے اور یہاں سے جنوبی اضلاع کے پروگرام مرتب ہوتے، فی زمانہ یہاں پارٹی فعال نہیں تھی، تحصیل میئرکے اُمیدوار میاں شفیع الزمان کاکاخیل حالیہ انتخابی مہم کے دوران گھرگھر پہنچے اور پارٹی پیغام پہنچایا۔اے این پی نے ٹکٹوں میں بعض جگہ میرٹ کا خیال نہیں رکھا،جہاں رکھاگیاتو اُس کا نتیجہ سامنے آیا جس کی ایک مثال مردان کے سٹی ناظم حمایت اللہ کی ہے،انہوں نےعوامی اسلوب و ہر دلعزیزی کے سبب تمام جماعتوں کوشکست دی۔یہاں کہنایہ ہے کہ اپنی خامیوں پر قابو پاتےہوئے اگراے این پی کا جذبہ مزید توانا ہوتا ہے توعام انتخابات میں سجنے والا میدان بالخصوص جے یوآئی اوراے این پی کے مابین سیاسی دنگل کا مظہر ہوگا۔

Comments are closed.