کے پی کے میں تو صفایا ہو گیا مگر سندھ کے بلدیاتی انتخابات میں تحریک انصاف کے ساتھ کیا ہاتھ ہونیوالا ہے ؟

لاہور (ویب ڈیسک) 2018 میں جہاں پی ٹی آئی نے حیران کن نتائج دیئے وہاں ایک لہر تحریک لبیک پاکستان کی بھی محسوس کی گئی۔ سب سے چونکادینے والا نتیجہ لیاری کا تھا جہاں ٹی ایل پی کے امیدوار نے بلاول بھٹو سے زیادہ ووٹ لیے۔ گو کہ وہ صوبائی اسمبلیوں کی دو نشستیں جیت پائے

مگر بلدیاتی انتخابات میں وہ کئی جماعتوں کیلئے پریشانی کا باعث بن سکتے ہیں۔نامور صحافی مظہر عباس اپنے ایک کالم میں لکھتے ہیں ۔۔۔۔۔۔مسلم لیگ (ن) کا یہاں ووٹ تو ضرور موجود ہے مگر قیادت صرف مہینوں میں یا برسوں میں آئے گی تو سیاست کیا کریں گے؟ اس وقت اتنا ہی کہنا کافی ہے کہ گنجائش ہے مگر کراچی کو اپنا حلقہ تو سمجھیں۔پی ایس پی اور مصطفیٰ کمال کے لیے یہ شاید آخری موقع ہے۔ بلدیاتی الیکشن میں بہتر نتائج نہ دے سکے تو ’برانڈ‘ بدلنا پڑے گا۔ کوشش بہرحال وہ کر رہے ہیں۔ ایک بڑا ’گرینڈ کراچی‘ منصوبہ سابق گورنر ڈاکٹر عشرت العباد بھی بنا رہے ہیں اور وہ ایم کیو ایم، پی پی پی اور جماعت اسلامی سے بھی رابطہ میں ہیں مگر ملک سے باہر رہ کر سیاست کسی حد تک تو کی جا سکتی ہے واپس آکر عملی اقدامات کریں تو کوئی راستہ نکل سکتا ہے۔

Comments are closed.