گجرات کے چوہدریوں کی (ق) لیگ کی وہ خاص بات جو کسی اور سیاسی جماعت میں نہیں ۔۔۔۔۔

لاہور (ویب ڈیسک) جنوبی پنجاب والے بھی کمال کرتے ہیں وہ اپنا مقابلہ گجرات کے چودھری برادران کے ساتھ کرتے ہیں جو اقلیت میں ہونے کے باوجود چوکے چھکے لگاتے رہتے ہیں جب سے بلدیاتی نظام کا نیا آرڈیننس آیا ہے اور پنجاب میں گوجرانوالہ ڈویژن کو تین میٹرو پولٹین کارپوریشنیں دینے کی منظوری دی گئی ہے،

نامور کالم نگار نسیم شاہد اپنے ایک کالم میں لکھتے ہیں ۔۔۔۔۔جنوبی پنجاب والے ایک بار پھر اپنے احساسِ محرومی کا رونا لے کر بیٹھ گئے ہیں۔ پورے پنجاب میں ڈویژنل صدر مقام کو میٹرو پولٹین کارپوریشن کا درجہ دیا گیا ہے لیکن گوجرانوالہ میں گوجرانوالہ، سیالکوٹ اور گجرات میٹرو پولٹین شہر بنا دیئے گئے ہیں یہ امتیازی سلوک کس وجہ سے ہوا ہے اور سیالکوٹ و گجرات جو کہ اضلاع ہیں وہ کیسے میٹروپولٹین شہر بن گئے ہیں، اس پر سوالات اٹھ رہے ہیں، حالانکہ سب کو پتہ ہے مسلم لیگ (ق) کی اس سیٹ اپ میں کیا اہمیت ہے چھ نشستوں کے باوجود وہ اس پورے نظام کو وفاق اور صوبے میں سنبھالے ہوئے ہے، وگرنہ دھڑام سے نیچے آ گرے۔ پنجاب میں نیا بلدیاتی نظام اس وقت تک منظور نہیں ہوا، جب تک مسلم لیگ (ق) کی شرائط مان نہیں لی گئیں۔ اب اگر جنوبی پنجاب والے کہتے ہیں وزیر اعلیٰ عثمان بزدار اپنی تحصیل تونسہ کو تو ضلع نہیں بنا سکے گجرات کو میٹرو پولٹین شہر بنانے پر راضی ہو گئے حالانکہ وہ آبادی کے لحاظ سے جنوبی پنجاب کے کسی بھی ضلع کے مقابلے میں بہت چھوٹا ہے۔ کہتے ہیں سیاست کے سینے میں دل نہیں ہوتا اور یہ بھی کہتے ہیں سیاست انہونی باتوں کا نام ہے خاص طور پر جب آپ کی مخلوط حکومت ہو اور اس کے اقتدار کا انحصار بھی دوسروں کی بیساکھیاں ہوں۔بلاول بھٹو زرداری جبھی تو کہتے ہیں پنجاب میں جو بلدیاتی نظام لایا گیا ہے اس پر کوئی بات نہیں کرتا،

سندھ میں ہم نے جو اچھا نظام دیا ہے اسے سب برا ثابت کرنے پر تلے ہوئے ہیں۔ اس کی وجہ یہ ہے پنجاب میں سب کو ساتھ لے کر نظام بنا ہے سب کی تجاویز مان کر اسے حتمی شکل دی گئی ہے۔ حتیٰ کہ مسلم لیگ (ن) بھی پنجاب کے بلدیاتی آرڈیننس کے بارے میں کچھ زیادہ متفکر نہیں ہاں اسے اعتراض صرف اس پر ہے کہ انتخابات ای وی ایم پر نہ کرائے جائیں بلکہ ووٹنگ کا طریقہ پرچی والا ہی رکھا جائے۔ سندھ میں چونکہ پیپلزپارٹی نے کسی کی نہیں سنی، اس لئے اس پر شدید اعتراضات کئے جا رہے ہیں اور عملاً وہاں جنگ و جدل کا سماں پیدا ہو گیا ہے۔ ایسی ایسی باتیں کی جا رہی ہیں جو غیر پارلیمانی زبان کے زمرے میں آتی ہیں۔ بلاول بھٹو زرداری کے صبر کا پیمانہ تو گویا بالکل ہی لبریز ہو گیا ہے۔ انہوں نے مخالفین کی لعنت ملامت بھی کی ہے، وہ اس بات پر قائم ہیں سندھ کا بلدیاتی نظام چاروں صوبوں میں سب سے بہتر ہوگا۔ حالانکہ یہ وہ نظام ہے جس کی سندھ میں موجود تمام سیاسی قوتیں مخالفت کر رہی ہیں۔ پیپلزپارٹی نے اس بلدیاتی نظام پر مسلم لیگ (ن) کو قائل کرنے کے لئے رابطے کئے ہیں مگر یہ ممکن نہیں مسلم لیگ (ن) اکیلی اس کی حمایت میں نکل کھڑی ہو۔ ویسے بھی سندھ میں معاملہ کچھ اور ہے۔ وہاں ایک طرف کراچی ہے تو دوسری طرف پورا سندھ ہے۔ اس بلدیاتی نظام سے کراچی کو پیپلزپارٹی اپنی گرفت میں لانا چاہتی ہے جیسا کہ بلاول بھٹو زرداری نے کہا

بھی ہے کہ کراچی کو ماضی میں بری طرح لوٹا گیا ہے۔ اب پیپلزپارٹی اسے ایک اچھا بلدیاتی نظام دے گی اور کراچی کے عوام ہمارا ساتھ دیں گے۔ دیکھتے ہیں ان کے یہ خواب منڈھے چڑھتے ہیں یا نہیں کیونکہ مزاحمت بہت زیادہ ہے۔اس میں کوئی شک نہیں وفاقی حکومت کراچی میں اپنا اثر و رسوخ چاہتی ہے تحریک انصاف کو عام انتخابات میں کراچی سے تقریباً واضح اکثریت ملی تھی، اس لئے اس کا دعویٰ ہے کراچی اس کا ہے۔ ادھر متحدہ والے بھی کراچی کے سوا کہیں اور سیاست نہیں کرتے۔ وہ بھی یہ چاہتے ہیں آئندہ بلدیاتی انتخابات میں انہیں وہی اکثریت ملے جو ماضی میں ملتی رہی ہے اور وہ کراچی کی میئر شپ چاہتے ہیں، اسد عمر نے مستقلاً کراچی میں ڈیرے ڈال رکھے ہیں، حال ہی میں گرین لائن منصوبے کے حوالے سے جو گرد اُڑی ہے، وہ بھی سب کے سامنے ہے اس میں مسلم لیگ (ن) بھی ایک بڑے فریق کے طور پر پہنچ گئی تھی اور علامتی افتتاح کے ذریعے خاصی کشیدہ فضا پیدا کر دی تھی۔ اب دیکھا جائے تو سارا مسئلہ کراچی پر غلبے کا ہے، خود وزیر اعظم عمران خان بھی کراچی میں خطاب کرتے ہوئے کہہ چکے ہیں، یہ شہر ملک کی معاشی ترقی کا حب ہے، یہ خوشحال ہے تو پاکستان خوشحال ہے، انہوں نے یہ پیشکش بھی کی تھی کہ سندھ حکومت اس معاملے میں وفاقی حکومت سے مل کر چلے تاکہ کراچی کے مسائل کو حل کیا جا سکے۔ لیکن ان کی یہ پیشکش پیپلزپارٹی کیسے قبول کر سکتی ہے۔

وہ تو پہلے ہی یہ چاہتی ہے کراچی میں جو کچھ بھی ہو، سندھ حکومت کے توسط سے ہو جبکہ وفاقی حکومت وہاں گورنر سندھ کے ذریعے فنڈز تقسیم کرنا چاہتی ہے۔ ان بڑوں کی لڑائی میں کراچی کے عوام پستے ہیں یا ان کے حصے میں کچھ آتا ہے، یہ تو وقت آنے پر ہی پتہ چلے گا تاہم اس وقت جو گیم ہو رہی ہے، وہ عوام کے لئے نہیں بلکہ ان وسائل کے لئے ہے جو کراچی سے جنم لیتے ہیں اور ان کا حجم اربوں تک پہنچ جاتا ہے۔خیر بات شروع ہوئی تو پنجاب کے بلدیاتی نظام سے اور کراچی تک پہنچ گئی۔ جنوبی پنجاب کے حصے میں صرف تین میٹروپولٹین کارپوریشنیں آئی ہیں۔ ملتان، بہاولپور اور ڈی جی خان جبکہ اس کی آبادی چھ کروڑ سے زائد ہے دوسری طرف گوجرانوالہ ڈویژن ہے جس کی آبادی ایک کروڑ بھی نہیں ہو گی، اسے تین میٹروپولٹین کارپوریشنیں دیدی گئی ہیں۔ عام آدمی کے سمجھانے کو یہ کہا جا سکتا ہے کہ میٹروپولٹین کارپوریشن ایک بڑے بلدیاتی نظام کی نمائندہ ہوتی ہے۔ اس کے پاس اختیارات بھی زیادہ ہوتے ہیں اور وسائل بھی، ایک زمانے میں صرف لاہور میں میٹروپولٹین کارپوریشن ہوتی تھی، اس کے بعد راولپنڈی، فیصل آباد، ملتان کو میٹروپولٹین سٹی قرار دیا گیا۔ سیاسی دباؤ یا بندر بانٹ کے ذریعے جب آپ ایسے فیصلے کریں گے جو نا انصافی کے زمرے میں آتے ہیں تو اس سے احساس محرومی بڑھے گا۔ کیا یہ ممکن نہیں تھا کہ بہاولپور، ڈیرہ غازیخان اور ملتان ڈویژن میں بھی تین تین بڑے شہروں کو میٹروپولٹین سٹی قرار دے دیا جاتا۔ اس سے جہاں احساس محرومی میں کمی آتی وہاں اس پسماندہ علاقے میں ترقی کے ثمرات بھی زیادہ تیزی سے پہنچتے۔ مگر ایسا اس صورت میں ہو سکتا تھا کہ یہاں بھی چودھری برادران کی طرح کا کوئی مضبوط سیاسی دھڑا موجود ہوتا۔ جنوبی پنجاب کے نمائندے کو گونگے بہرے ہیں انہیں صرف اپنے ذاتی مفاد سے آگے دیکھنے کی عادت ہی نہیں۔