گزشتہ روز نامور وکیل رہنما علی احمد کرد نے لاہور میں یہ بات کیوں کی اور اس کا انہیں کیا جواب ملا ؟

لاہور (ویب ڈیسک) نامور صحافی عباد الحق بی بی سی کے لیے اپنے ایک آرٹیکل میں لکھتے ہیں ۔۔۔۔۔۔’انتشار مت پھیلائیں، کسی کی جرات نہیں عدلیہ پر دباؤ ڈالے، کسی سے کبھی ڈکٹیشن نہیں لی۔‘ یہ الفاظ تھے چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس گلزار احمد کے وکلا رہنما علی احمد کرد کی عدلیہ پر تنقید کے جواب میں۔

لاہور میں انسانی حقوق کے موضوع پر دو روزہ عاصمہ جہانگیر کانفرنس کے پہلے روز چیف جسٹس کے علاوہ بعض سینیئر وکلا، ججز، صحافی اور سیاسی رہنما سمیت کئی اہم شخصیات موجود تھیں۔اس کانفرنس میں عدلیہ کی کارگردگی پر سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کے سابق صدر علی احمد کرد نے اپنے مخصوص انداز میں دھواں دار خطاب میں عدلیہ کی خوب خبر لی۔ علی کرد نے جب اپنی تقریر میں ’ایک جرنیل، ایک جرنیل، ایک جرنیل‘ کہا تو ان کے ساتھ کانفرنس میں دیگر وکلا نے نعرے بازی شروع کر دی۔پھر سینیٹر اعظم نذیر تارڑ نے مداخلت کی اور شرکا سے کہا کہ وہ کانفرنس کے اختتام پر مخصوص سیاسی سیشن میں نعرے بازی کرسکتے ہیں، ابھی نہیں۔علی کرد نے بات کا تسلسل جاری رکھتے ہوئے کہا کہ ’ایک جرنیل 22 کروڑ عوام پر حاوی ہے۔ یا تو اس جرنیل کو نیچے آنا پڑے گا یا لوگوں کو اوپر جانا پڑے گا۔ دو ہی صورتیں ہیں۔۔۔ تب برابری ہو گی۔‘وکلا رہنما کرد کے مطابق پاکستان کی عدلیہ کو ’رول آف لا انڈیکس‘ میں 126ویں نمبر پر ’جرنیلوں نے پہنچایا ہے۔ اس سے آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر بات کی ضرورت ہے جو ستر سال سے آنکھیں دکھا رہا ہے۔‘بلوچستان سے تعلق رکھنے والے علی احمد کرد نے کہا کہ ’ملک کے ساتھ مذاق ہو رہا ہے، بلوچستان میں لوگوں کو ایجنسیاں اٹھا کر لے جاتی ہیں۔‘مگر پھر چیف جسٹس پاکستان جسٹس گلزار احمد نے خطاب کے دوران کہا کہ وہ علی احمد کرد کے موقف سے متفق نہیں ہیں۔انھوں نے کہا کہ ‘کبھی کسی ادارے کی بات سنی اور نہ کبھی ادارے کا دباؤ لیا،

مجھے کسی نے نہیں بتایا کہ فیصلہ کیسے لکھوں، کسی کو مجھ سے ایسے بات کرنے کی کوئی جرات نہیں ہوئی۔’کسی نے میرے کام میں مداخلت نہیں کی، اپنے فیصلے اپنی سمجھ اور آئین و قانون کی سمجھ کے مطابق کیے۔‘چیف جسٹس نے کہا کہ ‘لوگوں کو غلط باتیں نہ بتائیں، انتشار نہ پھیلائیں، اداروں کے اوپر سے لوگوں کا بھروسہ نہ اٹھوائیں۔ پاکستان میں (کسی) انسان کی نہیں قانون کی حکمرانی ہے۔‘’ہم جس طرح سے کام کر رہے ہیں کرتے رہیں گے، ملک میں آئین و قانون اور جمہوریت کی حمایت کریں گے اور اسی کا پرچار کریں گے، کسی غیر جمہوری سیٹ اپ کو قبول نہیں کریں گے، ہم چھوڑ دیں گے اور ہم نے پہلے بھی چھوڑا۔ آج کے لیے اتنی بات کافی ہے۔‘جب چیف جسٹس خطاب کرنے آئے تو پنڈال میں موجود چند نوجوانوں نے ملک کے قبائلی علاقے سے رکن قومی اسمبلی علی وزیر کی رہائی کے لیے نعرے لگائے تو سینیٹر اعظم نذیر تارڑ نے انھیں ایسا کرنے سے روک دیا۔اس سے پہلے جب سپریم کورٹ کے جسٹس قاضی فائز عیسیٰ اس کانفرنس سے خطاب کے لیے آئے تو حاضرین نے تالیاں بجا کر ان کا بھرپور استقبال کیا۔ جسٹس قاضی فائز عیسٰی نے اپنے خطاب میں کہا کہ بانی پاکستان ’قائد اعظم نے کہا تھا کہ جمہوریت مانگنے سے نہیں ملتی، یہ عوام کا حق ہوتا ہے۔‘واضح رہے کہ اس سے قبل اپنے خطاب میں علی احمد کرد نے سوال اٹھایا کہ ’ملک میں کون سی عدلیہ موجود ہے؟‘’کیا اُس عدلیہ کی بات ہو رہی ہے جہاں لوگ صبح آٹھ بجے سے ڈھائی بجے تک انصاف کے لیے جاتے ہیں اور ڈھائی بجے لوگ زخم لے کر گھر کی راہ لیتے ہیں۔‘ سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کے سابق صدر نے سوال اٹھایا کہ ’کیا یہ عدلیہ انسانی حقوق کی حفاظت اور جمہوری اداروں کی حفاظت کرے گی؟‘