گیلپ کی سروے رپورٹ آپ کو حیران کر دے گی

کراچی (ویب ڈیسک) پاکستان میں کاروبار کی موجودہ صورتحال پر مطمئن تاجروں کی شرح میں اضافہ ہوا ہے لیکن کاروبارکے مستقبل اورملکی سمت پر تاجر برادری شدید پریشانی کا اظہار کررہی ہے ۔ گیلپ پاکستان کی جولائی میں جاری کردہ دوسری سہہ ماہی کی رپورٹ میں 49 فیصد تاجرکاروباری صورتحال سے خوش تھے

لیکن اب 54 فیصد کاروباری صورتحال پر اطمینان کا اظہار کررہے ہیں ۔اسی طرح کاروباری صورتحال کو برا کہنے والوں کی شرح بھی 52 فیصد سے کم ہو کر 46 فیصد پر آگئی ہے۔ لیکن مستقبل میں کاروباری صورتحال میں بہتری کی امید کرنے والوں کی شرح 70 فیصد سے کم ہوکر 61 فیصد ہوگئی ہے۔ جبکہ صورتحال کو برا کہنے والوں کی شرح بھی 29 فیصد سے بڑھ کر 39 فیصد پر پہنچ گئی ہے ۔ ملکی سمت کو درست نہ سمجھنے والے کاروباری طبقے کے افراد کی شرح بھی 37فیصد سے اب 59 فیصد پرآگئی ہے ۔ اس بات کا انکشاف گیلپ پاکستان کے بزنس کانفیڈنس انڈیکس کی چوتھی سہ ماہی کی رپورٹ میں ہوا جس میں580سے زائد کاروباری شعبوں کی آراء کو شامل کیا گیا ۔یہ سروے 13اکتوبر سے 28اکتوبر 2021کے درمیان کیا گیا۔سروے میں کاروباری صورتحال سے مطمئن تاجروں کی شرح گزشتہ سہہ ماہی کے مقابلے میں 5 فیصد اضافے کے بعد 54فیصد ہوگئی ہے۔ جبکہ کاروبار ی صورتحال پر عدم اطمینان کا اظہار کرنے والوں کی شرح 52 فیصد سے کم ہوکر 46 فیصد پر نظر آئی ۔ صوبوں کی بنیاد پر دیکھا جائے تو کاروبار کی موجودہ صورتحال پر مطمئن تاجروں کی شرح پنجاب اور سندھ میں 55فیصد جبکہ کےپی ، بلوچستان، گلگت بلتستان ، آزاد جموں کشمیر اور اسلام آباد میں یہ شرح 49 فیصد رہی۔ جن شعبوں نے کاروبار کی موجودہ صورتحال پر سب سے زیادہ اطمینا ن کا اظہار کیا اس میں طبی سامان کی خرید و فروخت کرنے والوں کی شرح 68 فیصد جبکہ خدمات فراہم کرنے والے شعبے کی شرح 64 فیصد دکھائی دی ۔

جبکہ سب سےزیادہ مایوسی کا اظہار تجارت سے منسلک 81 فیصد افراد نے کیا۔ مستبقل میں کاروباری صورتحال میں بہتری پر تاجر برادری کی توقعات پہلے سے کم نظر آئیں ۔ گزشتہ سہہ ماہی میں 70فیصد تاجربہتر کاروباری مستقبل کےلیے پُرامید تھے لیکن اب 61فیصد بہتری کی امید کررہے ہیں۔ اسی طرح مستقبل سے مایوس تاجروں کی شرح 29فیصد سے بڑھ کر 39فیصدہوگئی ہے۔ مصنوعات کی تیاری سے منسلک 64فیصد تاجر کاروباری مستقبل سے پُرامید تھے جبکہ خدمات کے شعبے میں یہ شرح 61فیصد رہی ۔ شعبوں کو تفصیل سے دیکھاجائے تو برقی اشیاءاور پرزہ جات بنانے والے 91 فیصد تاجر مستقبل کے حوالے سے پُرامید نظر آئے جس کےبعد طبی آلات بنانے والے 73 فیصد، اور مینوفیکچرنگ کے شعبے سے تعلق رکھنےوالے 72فیصد تاجروں نے مستقبل میں بہتری کی امید کا اظہار کیا۔فرٹیلائزر اور کیڑے مار ادویات کا شعبہ مستقبل کے حوالے سے مایوسی کی زَد میں نظر آیا۔ گیلپ پاکستان کے سروے میں ملکی سمت درست نہ سمجھنے والے تاجروں کی شرح میں بھی بڑی تبدیلی نظر آئی ۔ گزشتہ سہہ ماہی میں 63 فیصد ملکی سمت کو درست سمجھتے تھے لیکن اب 41 فیصد ملکی سمت کو درست قرار دیتے ہیں ۔ جبکہ ملکی سمت کو غلط سمجھنے والوں کی شرح 37 فیصد تھی جو اب بڑھ کر 59 فیصد ہوگئی ہے ۔ ملکی سمت کو غلط قرار دینے والوں کی شرح صوبائی بنیادوں پر دیکھی جائے تو سندھ ، خیبرپختونخوا، گلگت بلتستان ، آزادجموں کشمیر ، بلوچستان اور اسلام آباد میں 59 فیصدجبکہ پنجاب میں 58فیصد تاجروں نے ملکی سمت کوغلط کہا ۔

Comments are closed.