ہارون الرشید نے اپنے پرانے دوست اور کپتان کا اصل چہرہ بے نقاب کردیا

لاہور (ویب ڈیسک) نامور کالم نگار ہارون الرشید اپنے ایک کالم میں لکھتے ہیں ۔۔۔۔۔۔۔مارشل لا کے گیارہ برس اور بے نظیر کے دو سالہ اقتدار کے بعد فوج ، خفیہ ایجنسیوں اور فعال طبقات کی مدد سے نواز شریف سریر آرائے سلطنت ہوئے۔ بہت امیدیں ان سے وابستہ کی گئیں ، جیسی کہ بعد ازاں عمران خاں سے

۔ یا للعجب اقتدار میں آنے کے چند ماہ بعد ہی نواز شریف نے ایک آئینی ترمیم قومی اسمبلی کے لیے مرتب کی۔ تجویز اس میں یہ تھی کہ وزیرِ اعظم جب چاہیں ، آئین کے جس حصے کو چاہیں معطل کر دیں۔ خورشید محمود قصوری سمیت کچھ لوگ اٹھ کھڑے ہوئے اور یہ ترمیم ایوان میں پیش نہ ہو سکی۔ سیاسی حرکیات کے شناور چوہدری نثار علی خاں نواز شریف کے اور بہت سے کارناموں کا ذکر کرتے ہیں مگر اس کا کبھی نہیں۔ معلوم نہیں کیوں۔ من مانی کی وہی خواہش جو بادشاہوں اور فوجی آمروں میں ہوتی ہے۔ ایک نسل کو بھٹو نے دھوکا دیا، دوسری کو نواز شریف اور تیسری کو عمران خاں نے۔ خلقِ خدا کے زخموں کی پرواہ انہیں تھی اور نہ ایں جناب کو۔ کوس لمن الملک بجانے کی آرزو۔ لوگوں کے دکھ اور ہیں۔ مہنگائی اور بے روزگاری سے وہ بلک رہے ہیں۔ خاک آلود بستیوں میں بسنے والوں کی اکثریت۔ لگ بھگ بارہ برس پہلے ایک بارصحرائِ تھر میں جانے کا اتفاق ہوا۔ دوسری بار جانے کی ہمت نہ ہوسکی۔ پیہم بھوک سے اندر دھنسی ہوئی آنکھیں ،ستے ہوئے چہرے۔ لاچار لوگ ، جن کی بے بسی دائمی ہو گئی ہے ، چند ہفتے قبل شائع ہونے والی ایک بین الاقوامی ادارے کی رپورٹ کے مطابق پاکستانی بجٹ کا بڑا حصہ اشرافیہ لوٹ لے جاتا ہے۔ دنیا کا یہ عجیب ملک ہے۔ مال دار لوگ جہاں صرف بیس فیصد ٹیکس دیتے اور اسّی فیصد غریبوں کے لہو سے نچوڑا جاتاہے۔ آمدن نہیں ِ، خریداری پہ ٹیکس ہے۔

صابن کی ہر ٹکیہ ، ماچس کی ہر ڈبیہ اور سکول کی یونیفارم خریدنے والے ہربچے پر۔ سرکار کے صنعتی اور کاروباری اداروں پر ہر سال پانچ چھ سو ارب روپے لٹا دیے جاتے ہیں۔ فریاد کرنے والے تیس چالیس برس سے چیخ رہے ہیں ، سنتا کوئی نہیں۔ صرف پی آئی اے کے چند ہزار ملازم پالنے پر چالیس ارب روپے سالانہ اٹھتے ہیں۔ بھائی ایک ہی بار انہیں دے چکو اور جہاز کسی اور کے حوالے کرو۔ یہی سٹیل مل ہے ، یہی ریلوے۔ ایک کے بعد دوسرا ناکردہ کار وزیر۔ کسی کا دل نہیں دکھتا، کوئی آنکھ نم نہیں ہوتی۔ کبھی کسی کو خیال نہیں آتا کہ ایک دن اسے خدا کے حضور پیش ہونا ۔نمک کی کان میں سب نمک ہو گئے بلکہ اس سے بھی کمتر۔ قرآنِ کریم کہتاہے: دل پتھر ہو جاتے ہیں بلکہ پتھروں سے بھی سخت۔ پتھروں میں تو ایسے ہیں ، جن سے چشمے پھوٹ بہتے ہیں۔ اس دردمند شاعر احسان دانش نے کہا تھا احساس مر نہ جائے تو انسان کے لیے کافی ہے ایک راہ کی ٹھوکر لگی ہوئی یہاں روز ٹھوکریں لگتی ہیں۔ آئے دن قوم رسوا ہوتی ہے لیکن کسی دل میں احساس جاگتا ہے نہ توبہ کی توفیق کسی کو عطا ہوتی ہے۔کس طرح کے لوگ ہیں ، یہ کس طرح کے لوگ۔ پیچھے پلٹ کر دیکھو تاریخِ انسانی کی گواہی کیا ہے۔ لیڈر وہ شخص نہیں ہوتا ہمہ وقت جو جو اپنا سکہ جمانے، اپنا نقش بٹھانے اور اپنا قد بالا کرنے کے خبط میں مبتلا رہے بلکہ وہ جسے درد کی دولت عطا ہو۔ ان لوگوں کو پکارنے سے مگر کیا حاصل ، جنہیں اپنے انجا م کا اندازہ بھی نہیں۔ قرآن کریم کہتاہے: آنکھیں اندھی نہیں ہوتیں بلکہ دل اندھے ہو جاتے ہیں۔

Comments are closed.