ہارون الرشید نے دل کی بھڑاس نکال ڈالی

لاہور (ویب ڈیسک) نامور کالم نگار ہارون الرشید اپنے ایک کالم میں لکھتے ہیں ۔۔۔۔۔۔قائدِ اعظم نے کہا تھا: بات کرنے سے پہلے سو بار میں سوچتا ہوں لیکن فیصلہ کر چکوں تو بدلتا کبھی نہیں۔ تحریکِ انصاف شور مچانے والوں کا ایک ہجوم ہے۔ اب کوئی امید ان سے وابستہ نہیں کہ معیشت کو

فی الواقعی بحال کر سکیں، جو ملک کا سب سے بڑا مسئلہ ہے اور عام آدمی کا بھی۔ظہیر کاشمیری کا شعر ہے امید کا آنگن فرسودہ، وعدوں کی چھتیں کمزور بہت اور اس پہ ہجر کے موسم میں برسی ہے گھٹا گھنگھور بہت یہ شوکت عزیز کا عہد تھا۔پاکستانی اینکر جیسمین منظور نے مہاتیر محمد سے ان کی خیرہ کن کامیابیوں کا راز پوچھا تو کہا: حکمران کو سیاسی حرکیات کا شعور ہونا چاہئیے اور معیشت کے اتار چڑھاؤ کا بھی۔خاں صاحب ان دونوں سے نابلد ہیں۔ اس پر ان کے لائق مشیر۔ خان صاحب کے اقتدار کی کلید دو شاہی خاندانوں کی بے قاعدگیوں اور بدعنوانیوں میں ہے۔ زرداری اور شریف خاندان سے لوگ مایوس ہوئے تو ان پہ اعتبار کیا۔ پارٹی ڈھنگ سے منظم کی ہوتی اور ذمہ داری لائق لوگوں کو سونپی ہوتی تو اسٹیبلشمنٹ کی تائید درکار نہ ہوتی۔ وہ مقبول تھے، عالمی کپ کے فاتح، شوکت خانم اور نمل کالج کے معمار۔ 2005ء کے زلزلے میں مرکزی حکومت کے سوا سب سے بڑا کارنامہ انہی نے انجام دیا۔ عمران خان فاؤنڈیشن کے تحت دس ہزار عارضی گھر تعمیر کیے۔ یہ باوسائل پنجاب حکومت کے مساوی تھے۔ اقتدار کی بے تابی میں سوچے سمجھے بغیر وعدوں پہ وعدے وہ کرتے رہے، دعووں پہ دعوے اور سمجھوتے پہ سمجھوتے۔ نتیجہ اس کے سوا کیا ہوتا کہ بے دلی کی تصویر ہو گئے۔ حسرتیں دل کی مجسم نہیں ہونے پاتیں خواب بننے نہیں پاتا کہ بکھر جاتاہے عجیب و غریب فلسفہ پیش کیا کہ لیڈر ایماندار ہو تو معاشرہ سنورنے لگتاہے اور سنورتا چلا جاتاہے۔

یہ تاریخی اور سیاسی شعور سے بے بہرہ ہونے کی بات تھی۔ تاریخ کے کامیاب مدبرین پہ نگاہ ڈالی جائے تو کھلتا یہ ہے کہ اپنے ساتھیوں کی انہوں نے تربیت کی اور کرتے رہے۔ آنکہ ایک صالح اور قابلِ اعتبار گروپ وجود میں آگیا، ہمیشہ ہر طرح کی ذمہ داریاں جسے سونپی جا سکتیں۔خود خان صاحب کے صدر دفتر میں فیڈل کاسترو کا قول کبھی آویزاں تھا’’آٹھ آدمیوں سے میں نے آغاز کیا تھا۔پھر سے موقع ملے تو چار سے کروں‘‘۔ پی ڈی ایم میں پھوٹ اب نمایاں ہے کہ زرداری صاحب نواز شریف پہ گرجے برسے۔ کہا کہ لوٹ کر آئیں ورنہ استعفوں کا سوال ہی نہیں۔ اپوزیشن میں حقیقی اتحاد کبھی نہ تھا۔ اپنے طور پر اسٹیبلشمنٹ سے سبھی رابطے میں۔ ساجھے کی ہنڈیا اب تو بیچ چوراہے میں پھوٹی ہے۔ ہم نفس وہ کبھی تھے ہی نہیں۔ مولانا فضل الرحمٰن کی تحریک ہی میں یہ واضح تھا۔ پرہیبت ہجوم مگر نو ن لیگ نے ساتھ دیا اور نہ پیپلز پارٹی نے۔ نپولین کا وہی مشہور جملہ: سیاست میں حلیف ہوتے ہیں یا حریف، دوست کوئی نہیں۔ حلیفوں کی مجبوری سے فائدہ اٹھا کر زرداری پی ڈی ایم کو اپنے پسندیدہ راستے پر گھسیٹ لے گئے۔ سندھ کی بادشاہت عزیز ہے۔ اربوں کے وسائل پہ تصرف وہ ترک کیسے کریں۔ یہ بھی آشکار ہے کہ میاں محمد نواز شریف اور زرداری کے دل ایک دوسرے کے باب میں کبھی صاف نہیں رہے۔ اسٹیبلشمنٹ سے رسم و راہ میں زرداری صاحب کی غایت یہ ہے کہ مقدمات سے جان چھڑا سکیں اور ان کی اولاد کے لیے سیاست کی راہ کشادہ رہے۔ استعفے وہ کیوں دیں؟خوش دلی سے لانگ مارچ کا ساتھ کیوں دیں؟ اپنے مسائل انہیں حل کرنا ہیں، نون لیگ اور مولانا فضل الرحمٰن کے نہیں۔اب مولانا دل گرفتہ ہیں۔ منگل کو پی ڈی ایم کے لیڈروں نے کہا کہ استعفوں کے باب میں پیپلزپارٹی نے مہلت مانگی ہے۔ مہلت نہیں، اس نے انکار کیا ہے اور اس پر وہ قائم رہے گی۔ لانگ مارچ بھی اب محلّ ِ نظر ہے۔شاید ملتوی ہو جائے۔ عجیب منظر ہے، ہمہ وقت دونوں فریق ایک دوسرے کی کمزوریاں اچھالنے میں لگے رہتے ہیں۔ سامنے کی اس سچائی سے بے خبر کہ زندگی اپنے محاسن پہ بسر کی جاتی ہے، دوسروں کی خامیوں پر نہیں۔ سچائی کی سیدھی، صاف اور اجلی شاہراہ کے سوا سب ہنر وہ آزماتے ہیں، عجیب لوگ!

Sharing is caring!

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *