ہارون الرشید نے شریف خاندان کا حیران کن واقعہ بیان کر دیا

لاہور (ویب ڈیسک) نامور کالم نگار ہارون الرشید اپنے ایک کالم میں لکھتے ہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔زندگی آدمی سے سمجھوتہ نہیں کرتی، آدمی کو زندگی سے سمجھوتہ کرنا ہوتاہے۔ صنوبر باغ میں آزاد بھی ہے‘ پابہ گِل بھی ہے اور نج ٹرین ایک نئی دلدل ہے۔ چند ہفتوں میں 35کروڑ کی بجلی برتی گئی۔

آمدن صرف 24 لاکھ روپے۔لاہور میں میٹرو بس پہ کام کا آغاز ہوا تو شریف برادران کے ایک دیرینہ رفیق سے پوچھا: ان کا مسئلہ کیا ہے؟ پرویز الٰہی دور میں بننے والا زیرِ زمین ریلوے کا منصوبہ ترک نہ کیا جاتا تو خزانہ برباد نہ ہوتا۔ بی اوٹی، (بناؤ‘ چلاؤ اور حکومت کے حوالے کرو) کی بنیاد پر تھا۔ٹرین اپنی بجلی خود پیدا کرتی۔ ٹریفک پولیس کو بہتر بنا کر بھی ہڑبونگ ختم ہو جاتی۔ ریلوے لائن شہر کے وسط سے گزرتی ہے۔ لوکل ٹرین چلا کر بہت سا بوجھ اس پر منتقل کیاجا سکتا۔ ربع صدی شاہی خاندان کے ساتھ بِتانے والے طباع آدمی نے کہا:ان لوگوں کو آپ جانتے نہیں۔ پھر ایک خیالی منظر انہوں نے تراشا: ایک نوکدار ہتھوڑی ہاتھ میں لیے، بڑے میاں صاحب نے برادرِ خورد کو طلب کیا اور کہا: شہباز! اب تک تم نے کیا کیا؟ الیکشن سر پہ آن پہنچے۔ ووٹروں کو لْبھانے کے لیے ہمارے پاس کچھ بھی نہیں۔ عمران خان جیسا ایک جلسہ بھی ہم نہ کر سکے۔اب کیا ہوگا؟ خواجہ صاحب کا خیال تھا کہ میٹرو بس کا منصوبہ ایسے ہی کسی منظر میں پھوٹا۔ لاہور کے ایک دانش ور سے پوچھا۔ ان لوگوں کو ہوا کیا ہے؟ اس کا جواب یہ تھا: شریف خاندان کی صلاحیت تب بروئے کار آتی ہے، جب سیمنٹ اور سریے کے ڈھیر سامنے پڑے ہوں۔ اس پر اسلام آباد کے دو آرٹسٹ یاد آئے۔ ایک اشتہاری کمپنی میں ڈیزائن تخلیق کرنے والے حسن کار۔ شبیر اور اقبال۔ جہاں کہیں براجمان ہو ں، ماحول کو معطر کیے رکھتے۔ شبیر پہلے ہی سے کمپنی سے وابستہ تھے۔ خوش گلو اقبال کو اس نے لکھا: یہاں چلے آؤ، اس نیم پہاڑی شہرمیں۔ ہوا خوشگوار ہے، تنخواہ معقول، ماحول مددگار، دفترائیر کنڈیشنڈ۔ وہ آن پہنچا۔

اوّل دن کے اختتام پر شبیر نے اقبال سے پوچھا: کہو، کیسا رہا؟ بولا: باقی سب تو بجا مگر دن بھر کی کمائی ایک دراز میں سما گئی۔ گجرات میں ہم سینما کے بورڈ بنایا کرتے تو شہر کا شہر دیکھتا اور خود ہمارا جی فرطِ مسرّت سے لبریز سا ہو جاتا۔ شبیر نے کہا: اشتہار اخبار میں چھپے گا۔ ٹی وی پر دکھایا جائے گا۔ اقبال کی تشفی نہ ہو سکی۔ شبیر نے اس پرجھلّا کر کہا: اگر کوئی بڑا، بہت نمایاں اور سب کو دکھائی دینے والا کام کیے بغیر تمہاری تسلّی ہو نہیں سکتی تو ایسا کرو کہ راولپنڈی کے متروک ہوائی اڈے پر دھان کے گٹھے سوکھنے کے لیے ڈالاکرو اور گیت گایا کرو۔ شریف برادران کا مسئلہ بھی یہی تھا۔ معمول کا، ڈھنگ کا، سلیقے کا روایتی سا کام وہ نہیں کر سکتے۔ تماشا چاہیے۔ صبح سے شام اور شام سے سویر تک انہیں داد چاہئیے۔ میاں محمد نواز شریف کو کرکٹر بننا تھا، نہ بن سکے، اداکار بننا تھا مگر اجازت نہ ملی۔ قسمت انہیں سیاست میں لے آئی۔ مزید خوش قسمتی یہ کہ جنرل غلام جیلانی اور جنرل محمد ضیاء الحق ایسے مربّی ملے۔ خوش بختی کی انتہا یہ ہے کہ مقابلہ پیپلز پارٹی سے تھا، خلق جس سے نالاں تھی۔ محترمہ بے نظیر بھٹو سیاست کا فہم رکھتی تھیں اور محاذ آرائی کی تاب بھی مگر اردو بول سکتی تھیں اور نہ سندھی۔ دروغ بر گردنِ حسین حقانی، انہوں نے یہ کہا تھا ”اذان بج رہا ہے‘‘۔ اس پر حقانی سمیت دائیں بازو کے پروپیگنڈہ کرنے اور نفرت بیچنے والے۔ ایجنسیوں کی پشت پناہی بھی۔ جنرل غلام جیلانی مرحوم غیر معمولی ادراک کے آدمی تھے مگر ان کے انتخاب پہ حیرت ہے۔ جعلی قیادت ایسی ہی ہوتی ہے۔ بھٹو فیلڈ مارشل کے دربار سے ابھرے اور ان سے کہیں زیادہ سفّاک۔ ذہین بے حد مگر ان کی ذہانت کس کام آئی۔ کیسی عجیب قوم ہے، جو جانتی نہیں کہ افرا د کی نہیں، اداروں کی عمل داری چاہیے۔

Comments are closed.