ہارون الرشید نے قائداعظم محمد علی جناح اور گجرات کی ایک مشہور کاروباری شخصیت کا زبردست واقعہ بیان کر کے بات سمجھا دی

لاہور (ویب ڈیسک) تاریخ کا سبق یہ ہے کہ کسی بھی شخص، قوم اور قبیلے کی کامیابی اس کی اپنی دانش اور کدوکاوش کا نتیجہ ہوتی ہے۔نامرادی اور ناکامی اس کی اپنی حماقتوں کا ثمر۔ رواں مالی سال کے لیے بنگلہ دیش کے سالانہ بجٹ کا حجم پاکستان سے تیس فیصد زیادہ ہے۔ آبادی پاکستان سے تقریباً پندرہ بیس فیصد کم۔

نامور کالم نگار ہارون الرشید اپنے ایک کالم میں لکھتے ہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔گویا ہمارے مقابلے میں ان کی معیشت کم از کم پچاس فیصد زیادہ ہے۔کس طرح یہ واقعہ رونما ہوا۔ اس سے پہلے مگر ایک چھوٹی سی کہانی۔ یہ 1946ء کے الیکشن سے چند ماہ پہلے کی بات ہے، جب قائدِ اعظم نے گجرات کے ایک چھوٹے سے قصبے بانٹوا کا قصد کیا۔ہندوستان میں بانٹوا کی اس سے زیادہ اہمیت تھی، جتنی پاکستان میں چنیوٹ کی۔ ایک آدھ نہیں، چنیوٹ سے سینکڑوں کاروباری خاندان اٹھے۔ اتنے کامران لوگ شاید ہی پاکستان کے کسی دوسرے شہر میں پیدا ہوئے ہوں۔ کم از کم تیس خاندان ایسے ہیں، جن میں سے کئی کھرب پتی اور باقی ارب پتی ہیں۔ تفصیل ڈاکٹر امجد ثاقب کی کتاب ’’کامیاب لوگ’’ میں۔ ایک ایک لمحہ گن کر صرف کرتے۔ بانٹوا کا ارادہ کیوں باندھا۔ انتخابی مہم کے لیے روپیہ درکار تھا۔معرکہ برپا ہونے والا تھا، مسلم برصغیر جس میں ناکامی کا متحمل نہ تھا۔ یہ مہم ناکام رہتی تو پاکستان وجود نہ پا سکتا۔ آج ہماری حالت اہلِ کشمیر اور بھارتی مسلمانوں کی سی ہوتی۔ ظاہرہے کہ اس اہم اجلاس کے لیے، جہاں انہیں کاروباری شخصیات کے ساتھ چند گھنٹے گزارنا تھے، پہلے سے اہتمام ہو چکا ہوگا۔ اس لیے کہ محمد علی جناح مرتب آدمی تھے۔ ایک لمحہ بھی رائیگاں کرنا پسند نہ کرتے۔ دور اندیش، منصوبہ ساز اور آنے والے کل کے لیے ہمیشہ فکرمند۔ہمہ وقت غور و فکر میں مصروف۔ انہی دنوں ایک اشتہار ان کی طرف سے اخبارات میں چھپا۔ کم و بیش‘ الفاظ اس کے یہ تھے

’’مجھے چاندی کے سکے دو، میں آپ کو پاکستان دوں گا‘‘ بانٹوا میں قائدِ اعظم کا خیر مقدم غیر معمولی تھا۔ کون ایسا شہر اور قصبہ تھا، جہاں وہ تشریف لے جاتے اور ان کے راستے میں آنکھیں نہ بچھائی جاتیں: دیدہ ء سعدی و دل ہمراہِ تست تانہ پنداری کہ تنہا می روی شیخ سعدی کی شناخت ان کی حکایات ہیں۔شاعر بھی بہت بڑے تھے۔مفہوم یہ ہے: سفر کے ہنگام میری آنکھیں اور میرا دل تمہارے ساتھ رہے گا۔کبھی یہ گمان نہ کرنا کہ تم تنہا ہو۔اور میرصاحب نے یہ کہا تھا : دور بیٹھا غبارِ میر اس سے عشق بن یہ ادب نہیں آتا مسلم برصغیر اس پاکباز رہنما پہ عاشق تھا۔ راوی کا بیان ہے کہ روایتی لباس میں ملبوس گجرات کی نامور کاروباری شخصیات اپنے لیڈر کے حضور مودب تھیں، جیسے بچے اپنے شفیق اور مہربان باپ کی خدمت میں۔ آپ نے ان سے یہ کہا: مسلمان یکسو ہو چکے مگرانتخابی مہم کے لیے روپیہ درکار ہے۔ جوق در جوق مسلم نوجوان کالجوں اور یونیورسٹیوں سے نکل آئے ہیں۔ مسئلہ اگر ہے تو سرمائے کا۔ جیسے ہی آپ کی گفتگو ختم ہوئی، عطیات کا اعلان ہونے لگا۔ دس ہزار، بیس ہزار، پچاس ہزار، ستر ہزار روپے۔ سونے کی قیمت پینتیس روپے فی تولہ تھی۔ دس ہزار روپے کا مطلب تھا،تین کروڑ۔ ایک ہی نشست میں گویا اربوں روپے جمع ہو گئے۔تقریب تمام ہونے والی تھی کہ ہمہ وقت چوکس آدمی نے اچانک سوال کیا: کیا بانٹوا کی سب اہم کاروباری شخصیات یہاں موجود ہیں۔ بتایا گیا کہ بالا گام خاندان کے سربراہ حاجی محمد غنی تشریف نہیں لائے۔ بینائی ان کی بجھ چکی۔

فیصلے خود صادر کرتے ہیں، کاروبار اب ان کے فرزند سنبھالتے ہیں۔ ’’مجھے ان کے پاس لے چلو‘‘اس لہجے میں کہا، اپنے فرزندوں سے جیسے کسی مہربان پدر کی فرمائش۔ اطاعت کا جس میں یقین ہو۔ حیرت زدہ لیکن خوش باش ہجوم حاجی محمد غنی کے شاندار مکان کو روانہ ہوا۔ کچھ نوجوان بھاگتے ہوئے گئے کہ حاجی صاحب کو اطلاع دے سکیں۔ گھر کے دروازے پر اس آدمی نے معزز رہنما کا استقبال کیا، جس کی تعلیم محدود تھی اور استعداد لامحدود۔ کھانے کے تیل، غلے اور چینی کے وسیع کاروبار کے لیے، جس کے کارندے ملک بھر میں پھیلے تھے۔ مختصر ترین الفاظ میں قائدِ اعظم نے مدعا بیان کیا۔چاندنی ایسے اجلے لباس میں ملبوس وہ میزبان کے ساتھ والی کرسی پہ تشریف فرما تھے۔وہ کہہ چکے تو عبد الغنی نے پوچھا: فلاں سیٹھ نے کتنے روپے عطیہ کیے؟’’پچاس ہزار روپے‘‘ انہیں بتایا گیا۔ ’’تو حساب آسان ہے‘‘بوڑھے آدمی نے کہا: ان صاحب کا کاروبار مجھ سے دو گنا ہے۔ میں پچیس ہزار روپے نذر کرتا ہوں۔ سونے کی قیمت کوملحوظ رکھا جائے تو دسمبر 2021ء کے حساب سے تقریباً سوا چھ کروڑ روپے۔ قائدِ اعظم نے اپنا ہاتھ بڑے میاں کے ہاتھ پہ رکھا اور کہا ’’کچھ او ر‘‘۔ ’’تیس ہزار روپے‘‘ قائدِ اعظم کا ہاتھ اب بھی وہیں تھا۔ ایک بار پھر اپنے الفاظ آپ نے دہرائے’’کچھ اور‘‘۔ ’’پینتیس ہزار روپے۔‘‘ اس طرح درخواست کرنے والے وہ کبھی نہ تھے۔ ہمیشہ اپنا وقار ملحوظ رکھتے۔ پرتگالی کہاوت دہرایا کرتے’’دولت کھو گئی تو کچھ بھی نہ کھویا، وقت رائیگاں ہوا تو بہت کچھ ضائع ہو گیا، عزتِ نفس چلی گئی تو سب کچھ رائیگاں۔‘‘ اب مگر مسلمانوں کے مستقبل کا سوال تھا،

ہر چیز سے زیادہ جو انہیں عزیز تھا۔ کچھ عرصہ قبل علی گڑھ یونیورسٹی کے طلبہ سے انہوں نے کہا تھا: دنیا کی سب نعمتیں میں دیکھ چکا۔ اس کے سوا کوئی آرزو اب باقی نہیں کہ جب اللہ کے حضور پیش کیا جاؤں تو وہ کہے کہ جناح مسلمانوں کی خدمت کا حق تم نے ادا کر دیا۔ باقی تاریخ ہے۔ 1971ء کا بنگلہ دیش لٹا پٹا سا تھا۔ کوئی بڑی صنعت نہ زراعت۔ جنگلوں، دریاؤں اور ندی نالوں کی سر زمین، جہاں نہ ڈھنگ کا کوئی بڑا ڈیم بن سکتاہے، نہ کاشت کے لیے کافی اراضی دستیاب۔ ایک عام بنگالی کا لباس تہبند اور بنیان پہ مشتمل ہوتا۔ ایسے خاندان بھی تھے، جو سستے، ابلے ہوئے چاول پہ اکتفا کرتے۔ بچوں کو لبھانے کے لیے ماہی فروش کے ہاں سے وہ پانی لے آتے، جس میں مچھلی کی باس ہوتی۔ سالِ رواں کے لیے بنگلہ دیش کا بجٹ 5,230ارب ٹکے پر مشتمل ہے۔ ایک ڈالر 85بنگلہ دیشی ٹکے کے برابر،پاکستانی روپے سے دوگنا۔ امسال ہمارا بجٹ مقابلتاً تیس فیصد کم تھا۔ قرض کے چارہزار ارب روپے اس میں شامل ہیں۔ کوئی غیر ملکی قرضہ بنگلہ دیش کے بجٹ کا حصہ نہیں۔ زرمبادلہ کے پاکستانی ذخائر13ارب ڈالر اور بنگلہ دیش کے 43ارب ڈالر۔مسلم بنگال نے خوشحالی اور فروغ کی منزلیں کس طرح طے کیں۔ ہم کیوں پسماندہ رہ گئے۔ اس سوال کا جواب یہ ہے کہ سرمایہ کا ری کے لیے موزوں ماحول بنگلہ دیش میں مہیا ہوا۔ بالکل برعکس پاکستان میں سرمائے کا فرار اور کاروبار کی بے دریغ، بے رحمانہ حوصلہ شکنی۔ کل انشاء اللہ اس پہ بات ہوگی۔تاریخ کا سبق بہرحال یہ ہے کہ کسی بھی شخص، قوم اور قبیلے کی کامیابی اس کی اپنی دانش اور کدوکاوش کا نتیجہ ہوتی ہے۔نامرادی اور ناکامی اس کی اپنی حماقتوں کا ثمر۔

Comments are closed.